Category: منتخب غزلیں
-

بنائیں گے نئی دنیا ہم اپنی تری دنیا میں اب رہنا نہ…
بنائیں گے نئی دنیا ہم اپنی تری دنیا میں اب رہنا نہیں ہے ڈاکٹرشمس الرحمن فاروقی کا یومِ پیدائش January 15, 1936 ۔ ۱۵؍جنوری۱۹۳۶ء کو پرتاب گڑھ یوپی (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ الہ آباد یونیورسٹی سے ۱۹۵۳ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔علم وفضل کی قدیم روایت باپ اور ماں دونوں سے ورثے میں ملی۔…
-

-

نوشاد مونس اعظمی خالق حقیقی سے جا ملے- January 12,…
نوشاد مونس اعظمی خالق حقیقی سے جا ملے- January 12, 2019 ایک شفیق مدرس، معروف شاعر، مصنف و نقاد مونس نوشاد اعظمی …. کس چہرے کو اپنا سمجھوں ہر چہرہ انجانا چہرہ ہر چہرے پر دھول غموں کی لگتا ہے ویرانہ چہرہ الفت کا آئینہ لیکر بستی بستی گھومے جب تب ہم نے انساں کو…
-
خرد کی بات سچی ہی سہی، مانی نہ جائے گی یہ تیری یاد…
خرد کی بات سچی ہی سہی، مانی نہ جائے گی یہ تیری یاد ہے، دل سے بہ آسانی نہ جائے گی یہ ممکن ہے کبھی دل کی پریشانی نہ ظاہر ہو قیامت تک مگر دل کی پریشانی نہ جائے گی ہزاروں بار دنیا مسکراتی آئے گی ، لیکن تمہارے بعد میرے دل کی ویرانی نہ…
-

میر تقی میر فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہ…
میر تقی میر فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو اب وفا کر چلے شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی کہ مقدور تک تو دوا کر چلے پڑے ایسے اسباب پایان کار کہ ناچار یوں…
-

شفیق خلشؔ دِیدہ دلیری سب سے، کہ اُس کو بُھلادِیا …
شفیق خلشؔ دِیدہ دلیری سب سے، کہ اُس کو بُھلادِیا اَوروں نے جب کہا کبھی، مجھ کو رُلا دِیا کُچھ روز بڑھ رہا تھا مُقابل جو لانے کو! جذبہ وہ دِل کا مَیں نے تَھپک کر سُلادِیا تصدیقِ بدگمانی کو باقی رہا نہ کُچھ ہر بات کا جواب جب اُس نے تُلا دِیا تشہیر میں…
-

بت خانہ توڑ ڈالئے مسجد کو ڈھائیے دل کو نہ توڑیئے …
بت خانہ توڑ ڈالئے مسجد کو ڈھائیے دل کو نہ توڑیئے یہ خدا کا مقام ہے …. بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا …. خواجہ حیدر علی آتش کی وفات January 14, 1846 آج اردو کلاسکی شاعری کے نامور استاد شاعر خواجہ حیدر علی آتش…
-

پیش تو ہو گا عدالت میں مقدمہ بیشک جرم قاتل ہی کے…
پیش تو ہو گا عدالت میں مقدمہ بیشک جرم قاتل ہی کے سر ہو یہ ضروری تو نہیں ۔۔ غافل نگاہ ہوش سے رنگ چمن کو دیکھ پروردۂ خزاں ہے زمانہ بہار کا ۔۔ وہ بادہ نوش حقیقت ہے اس جہاں میں رواں کہ جھوم جائے فلک گر اسے خمار آئے … جگت موہن لال…
-

واصف علی واصف کا یومِ پیدائش (15 جنوری 1929ء تا 1…
واصف علی واصف کا یومِ پیدائش (15 جنوری 1929ء تا 18 جنوری 1993ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، کالم نگاراورمسلم صوفی تھے۔ حضرت واصف علی واصفؒ 15 جنوری 1929ءکو خوشاب میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد ماجد ملک محمد عارف صاحبؒ کا تعلق وہاں کے قدیم اور معزز اعوان قبیلے کی ایک ممتاز…
-

طائرِ لاہوتی از واصف علی واصف عابدہ پروین کی آواز …
طائرِ لاہوتی از واصف علی واصف عابدہ پروین کی آواز میں میں نعرۂ مستانہ، میں شوخیِ رندانہ میں تشنہ کہاں جاؤں، پی کر بھی کہاں جانا میں طائرِ لاہوتی، میں جوہرِ ملکوتی ناسوتی نے کب مجھ کو، اس حال میں پہچانا میں سوز محبّت ہوں، میں ایک قیامت ہوں میں اشکِ ندامت ہوں، میں گوہرِ…