Category: منتخب غزلیں
-
"”بارش کے رُوپ”” ہیں ایک بارش کے رُوپ کِتنے! وہی…
????????””بارش کے رُوپ””???????? ہیں ایک بارش کے رُوپ کِتنے! وہی ہے بادل ، وہی گھٹا ہے پر راز کیا ہے! تمام قطرے زمیں پہ اِک ساتھ آ کے گِرتے ہیں پھر بھی سب ایک سے نہیں لیں کہ جیسے نغمہ، بہت سے سازوں سے مِل کے بنتا ہے اور پھر بھی تمام سازوں کا اپنا…
-
بارش ہوئی تو پُھولوں کے تَن چاک ہو گئے موسم کے …
بارش ہوئی تو پُھولوں کے تَن چاک ہو گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے بادلوں کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں بچّے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے لہرا رہی ہے برف…
-
"”ساون کی سہانی رات بھی ہے”” ساون کی سہانی رات بھ…
????????””ساون کی سہانی رات بھی ہے””???????? ساون کی سہانی رات بھی ہے برسات بھی ہے ہاتھوں میں تمہارا ہاتھ بھی ہے برسات بھی ہے کل پھر حالات کی دھوپ میں جلنا ہے مجھ کو گو آج تمہارا ساتھ بھی ہے برسات بھی ہے آنکھوں میں سلگتے ہجر کی رُت لہراتی ہوئی ہونٹوں پر وصل کی…
-

صابر ظفر (ناصر کاظمی کی مشہور غزل ”نئے کپڑے بدل ک…
صابر ظفر (ناصر کاظمی کی مشہور غزل ”نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لئے” کے جواب میں کہی گئی غزل) نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں کوئی چھوڑ گیا یہ شہر تو کیا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں کئی پلکیں ہیں اور پیڑ…
-

ﺁﺝ ﺍِﺗﻨﺎ ﺟﻼﺅ ﮐﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﻣِﺮﺍ ﺟﺴﻢ ﺷ…
ﺁﺝ ﺍِﺗﻨﺎ ﺟﻼﺅ ﮐﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﻣِﺮﺍ ﺟﺴﻢ ﺷﺎﯾﺪ ﺍِﺳﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﯽ ﺳﮑﻮﮞ ﭘﺎﺋﮯ ﻣِﺮﺍ ﺟﺴﻢ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍِﺱ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﻨﭽﻮ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼَﮭﻦ ﺳﮯ ﭼﭩﺦ ﺟﺎﺋﮯ ﻣِﺮﺍ ﺟﺴﻢ ﯾﺎ ﺩﻋﻮﺍﺋﮯ ﻣﮩﺘﺎﺏِ ﺗﺠﻠّﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﻭﮦ ﯾﺎ ﻧُﻮﺭ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﮩﻼﺋﮯ ﻣِﺮﺍ ﺟﺴﻢ ﮐﺴﯽ ﺷﮩﺮِ ﻃﻠﺴﻤﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ…
-

ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح اٹھتی ہے ہر نگا…
ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح اس کوئے تشنگی میں بہت ہے کہ ایک جام ہاتھ آ گیا ہے دولتِ بیدار کی طرح وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس پھرتی ہے کوئی شے نگہِ یار کی طرح سیدھی ہے راہِ شوق پہ…
-
صبر و سکوں کہاں ہے ترے انتظار میں دل اختیار میں…
صبر و سکوں کہاں ہے ترے انتظار میں دل اختیار میں، نہ نظر اختیار میں فرقت کی بات تک بھی گوارا نہ تھی جسے تارے وہ گن رہا ہے شبِ انتظار میں اللہ رے یہ بادۂ رنگیں کی شوخیاں زاہد کو پینی پڑ گئی اب کی بہار میں یادِ جمالِ دوست کے قربان جائیے تسکین…
-

ﻧﺎﻟﮧ ﺣﺪﻭﺩِ ﮐﻮﺋﮯ ﺭَﺳﺎ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ …
ﻧﺎﻟﮧ ﺣﺪﻭﺩِ ﮐﻮﺋﮯ ﺭَﺳﺎ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﺏ ﺩَﺭﺩِ ﺩﻝ ﻋﻼﺝ ﻭ ﺩﻭﺍ ﺳﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺑﻦ ﮔﺌﯿﮟ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻨﯿﮟ ﻧﻐﻤﮧ ﻣﻘﺎﻡِ ﺻﻮﺕ ﻭ ﺻﺪﺍ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻋﺠﺎﺯِ ﺑﮯ ﺧﻮﺩﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣُﺴﻦِ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﺍِﮎ ﺑُﺖ ﮐﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺳﯿﻢ ﻭ ﺯﺭ ﮐﯽ ﺗﺠﻠّﯽ…
-
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جا نکلے یہ ہم سفر مرے کتن…
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جا نکلے یہ ہم سفر مرے کتنے گریز پا نکلے چلے تھے اور کسی راستے کی دھن میں مگر ہم اتفاق سے تیری گلی میں آ نکلے غمِ فراق میں کچھ دیر رو ہی لینے دو بخار کچھ تو دلِ بے قرار کا نکلے نصحیتیں ہمیں کرتے ہیں ترکِ الفت…
-
جو خیال آیا تمہاری یاد میں ڈھلتا رہا دل چراغِ شام …
جو خیال آیا تمہاری یاد میں ڈھلتا رہا دل چراغِ شام بن کر صبح تک جلتا رہا ہم کہاں رکتے کہ صدیوں کا سفر درپیش تھا گھنٹیاں بجتی رہیں اور کارواں چلتا رہا کتنے لمحوں کے پتنگے آئے، آ کر جل بجھے میں چراغِ زندگی تھا، تا ابد جلتا رہا حسن کی تابانیاں میرا مقدر…