Category: منتخب غزلیں
-

یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہوگا نئی رُ…
یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہوگا نئی رُتوں میں درختوں کا بار کم ہوگا تعلقات میں آئی ہے بس یہ تبدیلی ملیں گے اب بھی مگر انتظار کم ہوگا میں سوچتا رہا کل رات بیٹھ کر تنہا کہ اِس ہجوم میں میرا شمار کم ہوگا پلٹ تو آئے گا شاید کبھی یہی موسم…
-
جب چمن میں اُس کے آنے کی خبر اُڑ جائے گی گُل کی …
جب چمن میں اُس کے آنے کی خبر اُڑ جائے گی گُل کی رونق دم میں اے بادِ سحر اُڑ جائے گی آپ کا کیا جائے گا گر خواب میں آؤ گے تُم نیند آنکھوں سے ہماری رات بھر اُڑ جائے گی کھول دے صیاد تو کھڑکی قفس کی شوق سے بلبل بے بال و…
-

-

محمد خالد اخترکی پیدائش Jan 23, 1920 اردو کے نامو…
محمد خالد اخترکی پیدائش Jan 23, 1920 اردو کے نامور ادیب محمد خالد اختر 23 جنوری 1920ء کو الہ آباد تحصیل لیاقت پور ضلع بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ ان کی تصانیف میں ان کا ناول چاکیواڑہ میں وصال سرفہرست ہے جسے اس کے اسلوب کے باعث فیض احمد فیض نے اردو کا اہم ترین ناول…
-

روش صدیقی کی وفات Jan 23, 1971 روش صدیقی نام شاہد…
روش صدیقی کی وفات Jan 23, 1971 روش صدیقی نام شاہد عزیز صدیقی، تخلص روش۔ ۱۰؍جولائی ۱۹۱۱ء کو جوالا پور، ضلع سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ ہردوار کی درس گاہ گروکل کانگڑی بھی یہیں ہے جہاں روش نے سنسکرت کی تعلیم حاصل کی۔اردو ،فارسی، عربی کی تعلیم روش نے اپنے والد طفیل احمد شاہد سے…
-

او شاہ پری خیا لاں دی اوہ جٹی ہیر سیالاں دی اوہنوں…
او شاہ پری خیا لاں دی اوہ جٹی ہیر سیالاں دی اوہنوں ویکھ کے موسم گلاب دیوے اوہنوں ویکھ کے نشہ شراب دیوے جے اوہدے نال وصال ہووے گل اے بڑی کمال ہووے طارق عزیز
-

ناصرؔ کاظمی تِرے مِلنے کو بَیکل ہوگئے ہیں مگر، ی…
ناصرؔ کاظمی تِرے مِلنے کو بَیکل ہوگئے ہیں مگر، یہ لوگ پاگل ہوگئے ہیں بَہاریں لے کے آئے تھے جہاں تُم وہ گھر سُنسان جنگل ہوگئے ہیں یہاں تک بڑھ گئے آلامِ ہستی کہ دِل کے حوصلے، شل ہوگئے ہیں کہاں تک تاب لائے ناتَواں دِل کہ صدمے اب مُسَلسَل ہوگئے ہیں نِگاہِ یاس کو…
-

تم بادشاہ ِ وقت تھے،کٹوا دیے تھے ہاتھ اب قصر گر رہ…
تم بادشاہ ِ وقت تھے،کٹوا دیے تھے ہاتھ اب قصر گر رہا ہے تو معمار کیا کرے اقبال پیرزادہ ،ڈاکٹر ……….. جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے بازار ہی نہ ہو تو خریدار کیا کرے سایہ تو مانگتے ہیں مگر سوچتے نہیں سورج ہو عین سر پہ تو دیوار کیا کرے تم…
-

شفیق خَلِشؔ ۔ خواہشِ دِل دبائے رکّھا ہے اُن سے کیا…
شفیق خَلِشؔ ۔ خواہشِ دِل دبائے رکّھا ہے اُن سے کیا کیا چُھپائے رکّھا ہے ڈر نے ہَوّا بنائے رکّھا ہے کہنا کل پر اُٹھائے رکھا ہے مُضطرب دِل نے آج پہلے سے کُچھ زیادہ ستائے رکّھا ہے مِل کے یادوں سے تیری، دِل نے مِرے اِک قیامت اُٹھائے رکّھا ہے تیری آمد کے اِشتیاق…
-

وہ برقِ ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں – روش صدیق…
وہ برقِ ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں – روش صدیقی وہ برقِ ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں مگر شریکِ رگِ جاں نہیں تو کچھ بھی نہیں ہزار، دل ہے ترا مشرقِ مہ و خورشید غبارِ منزلِ جاناں نہیں تو کچھ بھی نہیں سکونِ دل تو کہاں ہے، مگر یہ خوابِ سکوں…