Category: منتخب غزلیں
-
تِری ہی زُلف کو مَحشر میں ہم دِکھا دیں گے جو کوئی …
تِری ہی زُلف کو مَحشر میں ہم دِکھا دیں گے جو کوئی مانگے گا نامہ سیاہ کاروں کا۔۔۔! میر تقی میرؔ
-

اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی – آر…
اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی – آرزو لکھنوی اوّل شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی قید کو توڑ کے نکلا جب میں اُٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے دشتِ عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ…
-

کہاں رہے تِرا آوارہ سر، کہاں نہ رہے….. سیماب اکب…
کہاں رہے تِرا آوارہ سر، کہاں نہ رہے….. سیماب اکبرآبادی رہیں گے چل کے کہیں اوراگر یہاں نہ رہے بَلا سے اپنی جو آباد گُلسِتان نہ رہے ہم ایک لمحہ بھی خوش زیرِ آسماں نہ رہے غنیمت اِس کوسَمَجْھیے کہ جاوِداں نہ رہے ہمیں تو خود چَمن آرائی کا سلیقہ ہے جو ہم رہے توگُلِسْتاں…
-

عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا ۔ ماہ لقا چندا عا…
عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا ۔ ماہ لقا چندا عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا ناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشق دانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا گردش سے تیری چشم کے مدت سے ہوں خراب تس پر کرے ہے…
-
"”صدابصحرا”” چاروں سمت اندھیرا گھپ ہے اور گھٹا گھ…
????????””صدابصحرا””???????? چاروں سمت اندھیرا گھپ ہے اور گھٹا گھنگھور وہ کہتی ہے„کون___؟؟،، میں کہتا ہوں„میں____، کھولو یہ بھاری دروازہ مجھ کو اندر آنے دو___،، اس کے بعد اک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور منیر نیازی از:-ایک اور دریا کا سامنا کُلیاتِ منیر نیازی ص ۹۰ انتخاب سفیدپوش
-
اُداسی کو بیاں کیسے کروں مَیں خموشی کو زباں کیس…
اُداسی کو بیاں کیسے کروں مَیں خموشی کو زباں کیسے کروں مَیں بدلنا چاہتا ہُوں اِس زمیں کو یہ کارِ آسماں کیسے کروں مَیں بھروسہ ہی نہیں مجھ کو کسی پر کسی کو رازداں کیسے کروں مَیں شبِ دیجور ہے اور سوچتا ہُوں فلک کو کہکشاں کیسے کروں مَیں کسی جنگل کا طائر ہُوں مَیں…
-

علا مہ اقبال – خوشحال خان خٹک اور عبدالرحمن بابا …
علا مہ اقبال – خوشحال خان خٹک اور عبدالرحمن بابا … ۱. د خوشحال سلام په هغه شا زلمو دے کمندونه چې د ستورو په اسمان ږدي خوشحال خان خٹک محبت مجهے ان جوانوں سے هے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند علا مہ اقبال ….. ۲. ځه هغه شهباز شه چې یې ځای په…
-
وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا گھر …
وہ دن کب کے بیت گئے جب دل سپنوں سے بہلتا تھا گھر میں کوئی آئے کہ نہ آئے ایک دیا سا جلتا تھا یاد آتی ہیں وہ شامیں جب رسم و راہ کسی سے تھی ہم بے چین سے ہونے لگتے جوں جوں یہ دن ڈھلتا تھا ان گلیوں میں اب سنتے ہیں راتیں…
-
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لئے ہیں کچھ شعر فق…
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لئے ہیں کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لئے ہیں اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لئے ہیں آنکھوں میں جو بھر لو گے تو کانٹوں سے چُبھیں گے یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لئے ہیں…
-
جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے ہے یہی رسم تو …
جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے دل کا وہ حال ہوا ہے غم دوراں کے تلے جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے انہی گُلرنگ دریچوں سے سحر جھانکے گی کیوں نہ کھلتے ہوئے زخموں کو دُعا دی جائے کم نہیں نشے…