بارش ہوئی تو پُھولوں کے تَن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے
بادلوں کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچّے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سورج کی شہ پہ تِنکے بھی بےباک ہو گئے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رُخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے
سورج دماغ لوگ بھی ابلاغِ فکر میں
زلفِ شبِ فراق کے پیچاک ہو گئے
جب بھی غریبِ شہر سے گفتگو ہوئی
لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے
محترمہ سیّدہ پروین شاکر
از:-خوشبو ص ۲۳۹
انتخاب
سفیدپوش
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔