Category: عکسِ خیال
-

پَھسیاں اُتے ، جال نہ سُٹ گل سُن ، منہ تے وال نہ س…
پَھسیاں اُتے ، جال نہ سُٹ گل سُن ، منہ تے وال نہ سُٹ ”تجمّل کلیم“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

آج مرزا نوشہ مرزا اسد اللہ خاں غالب کی ١٥٠ برسی ھے…
آج مرزا نوشہ مرزا اسد اللہ خاں غالب کی ١٥٠ برسی ھے۔ آئیے اِس عظیم شاعر کو اُسی کا کلام شئیر کر کے خراجِ عقیدت پیش کریں۔ پُوری غزل کی بجائے اپنی پسند کے اشعار پوسٹ کریں۔ ابتدا میں کیے دیتا ھُوں۔ تھی وہ اِک شخص کے تصّور سے اب وہ رعنائیِ خیال کہاں مضمحل…
-

ایسا آساں نہیں لہُو رونا دِل میں طاقت ، جِگر میں …
ایسا آساں نہیں لہُو رونا دِل میں طاقت ، جِگر میں حال کہاں ”اسد الله خاں غالب“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

آتا ھے داغِ حسرتِ دِل کا شمار یاد مجھ سے میرے گنا…
آتا ھے داغِ حسرتِ دِل کا شمار یاد مجھ سے میرے گناہ کا حساب ، اے خدا نہ مانگ ”اسد الله خاں غالب“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

”مثنوی قادر نامہ کا تعارف“ غالب کے سات بچے تھے لی…
”مثنوی قادر نامہ کا تعارف“ غالب کے سات بچے تھے لیکن افسوس اُن میں سے کوئی بھی چھ یا سات ماہ سے زیادہ زندہ نہ رہ پایا ۔ اپنی اُسی تنہائی اور بعض دیگر وجُوھات کی بنا پر غالب نے زین العابدین خاں عارف کو متبنیٰ (اپنا منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا جو اُن…
-

آنکھ جُھک جاتی ھے ، جب بندِ قبا کُھلتے ھیں تُجھ می…
آنکھ جُھک جاتی ھے ، جب بندِ قبا کُھلتے ھیں تُجھ میں , اُٹھتے ھُوئے خُورشید کی عُریانی ھے ”مُصطفیٰ زیدی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

وہ ٹوٹتے ھُوئے رشتوں کا , حُسنِ آخر تھا کہ چُپ سی…
وہ ٹوٹتے ھُوئے رشتوں کا , حُسنِ آخر تھا کہ چُپ سی لگ گئی ، دونوں کو بات کرتے ھُوئے ”راجیندر منچندا بانی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

شامِ فرقت کی ھتھیلی پہ ، یونہی رَکھ کے گلاب کل خی…
شامِ فرقت کی ھتھیلی پہ ، یونہی رَکھ کے گلاب کل خیالوں میں ، ترے گال کو ھم چُھو آئے ”ضیاء افروز“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

تیری پسند سے ، واقف کبھی رھی ھو گی جو اُس نے چائے…
تیری پسند سے ، واقف کبھی رھی ھو گی جو اُس نے چائے بنائی ھے ، اتنی عجلت میں ”ضیاء افروز“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

موسمِ وصل کے اِمکان میں , رَکھے ھُوئے ھیں کچھ حَسی…
موسمِ وصل کے اِمکان میں , رَکھے ھُوئے ھیں کچھ حَسیں لوگ ، میرے دھیان میں رَکھے ھُوئے ھیں تیری آوازوں سے ، تصویروں سے ، تحریروں سے بھرے فُون آج بھی سامان میں , رَکھے ھُوئے ھیں ”قمرؔ ریاض“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house