19th episode of "Tu Jo Mil Jae” By Ana Ilyas __…


19th episode of
"Tu Jo Mil Jae”
By Ana Ilyas

_______________________
جيسے ہی اسکی ٹانگ اور بازؤوں کی پٹياں اتريں۔ اس نے
آفس جکنے کا ارادہ کيا۔ ٹانگ ميں ابھی تھوڑی سے لنگڑاہٹ تھی۔ مگر ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ جيسے جيسے وہ چلے گا يہ لنگڑاہٹ بھی ختم ہو جاۓ گی۔
"ابھی دو دن تو ريسٹ کر ليں” وہ جو وہيبہ کو اپنی کل کی تياری کا کہہ کر مزے سے بيڈ پر بيثھا ليپ ٹاپ پر کسی دوست سے چيٹنگ کر رہا تھا۔
"آپ تنگ نہيں پڑھيں ميرے نخرے اٹھا اٹھا کر” وہيبہ نے اسکی بات پر مسکراتے ہوۓ اسکی جانب ديکھا۔ وہ ابھی ابھی نفيسہ سے بات کرکے فارغ ہی ہوئ تھی جو آج ہی لاہور واپس گئيں تھيں۔
"ميں تو تنگ نہيں پڑھی۔۔ہاں آپکا کچھ نہيں کہہ سکتی۔۔شايد مجھے ديکھ ديکھ کر تنگ ہی نہ پڑ گۓ ہوں” اس نے ڈائجسٹ پکڑتے ہوۓ بے نيازی کا مظاہر کرتے کہا۔
” بالکل صحيح کہہ رہی ہيں۔۔۔۔ميں حيران ہوتا ہوں لوگ ايک ہی بيوی کے ساتھ کيسے ساری زندگی گزار ليتے ہيں۔۔تنگ نہيں پڑ جاتے صبح شام وہی شکل ديکھ ديکھ کر” خبيب کی بات پر اس کا منہ حيرت سے کھلا رہ گيا۔
پھر غصے سے ڈائحسٹ بيڈ پر پٹخ کر رخ اسکی جانب موڑا۔
"ہاہاہا!” خبيب اسکی جانب ديکھ کر قہقہہ لگاۓ بغير نہيں رہ سکا۔
"ہسن کيوں رہيں ہيں۔۔بہت ہی فضول بات کی ہے آپ نے ” اس خبيب کو شرمندہ کرنا چاہا۔
"ميرے پاس بيٹھ کر۔۔مجھ سے باتيں کرنے کی بجاۓ آپ اپنے يہ فضول ناولز پڑھيں گی تو مجھے اس سے بھی زيادہ فضول باتيں کرنی پڑيں گی” اس نے شرارتی مسکراہٹ سے اسے ديکھا۔
"اور خود جو يہ فيس بک ميں گھسے ہوۓ ہيں تو ميں کيا خاک آپ سے باتيں کروں۔۔” اس نے گھورا۔۔۔
"چليں بند کرتا ہوں” اس نے کہتے ساتھ ہی بند کرنا چاہا کہ وہيبہ نے يکدم ہاتھ ليپ ٹاپ کی اسکرين پر رکھ کر اسے واپس کھولا۔
"ايک منٹ ۔۔ايک منٹ۔۔۔يہ اپنی کس آنٹی سے باتيں کر رہے ہيں” وہيبہ نے چيٹ باکس ميں کسی لڑکی کا آئ ڈی پڑھ ليا تھا۔
"يار يہ لڑکی نہيں ہے ميرا دوست ہے لڑکی کے نام سے آئ ڈی بنائ ہوئ ہے” خبيب نے جلدی سے اپنا دفاع کيا۔
"صبر کريں ابھی پتہ چلتا ہے۔۔اس نے کہتے ساتھ وہ چيٹ ونڈو کھولی جسے خبيب نے منی مائز کر ديا تھا۔
"کيا کر رہی ہيں”اس نے وہيبہ سے ليپ ٹاپ لينا چاہا۔
"نہيں نہيں يہ جانو تو آپ مجھے کہہ رہے ہيں۔۔۔مائ گاڈ۔۔۔دوست کو جانو۔۔۔ ميری جان يہ کوئ کہتا ہے بھلا” وہيبہ تو صدمے سے بے حال ہو رہی تھی۔
يہ بھی نہيں جانتی تھی کا کيا کہہ رہی ہے۔
"آپ تو مجھے خود کو جانو اور جان کہنے نہيں ديتيں اب دوستوں کو بھی نہ کہوں تو کسے کہوں۔۔۔پھر کسی لڑکی کو کہا تو آپ نے غصہ کرنا ہے” خبيب نے بے چاری سی شکل بنائ۔
"اور يہ کل ملاقاتيں بھی سيٹ ہو رہی ہيں۔ اوہ تو ميں اب سمجھی کل آپ آفس جانے کے لئيۓ اتنے بے قرار کيوں ہو رہے ہيں۔” وہيبہ خبيب کی کوئ بات نہيں سن رہی تھی تيزی سے اسکے سارے ميسجز چيک کر رہی تھی۔
ساتھ ساتھ تبصرے بھی جاری تھے۔
"يار سيريسلی يہ لڑکا ہے۔۔۔۔” خبيب کو اب بات سنبھالنی مشکل ہوگئ۔
"ميں کيسے مان لوں” وہيبہ کوئ بھی بات سننے کو تيار نہيں تھی۔
اس بات سے بھی بے خبر تھی کہ خبيب سے ايک ہاتھ کے فاصلے پر بيٹھی ہے۔
اچانک خبيب نے اسے اپنی بازوؤں کے حصار ميں لے کر خود سے لگايا۔
"اتنی بے اعتباری؟” خبيب کے آنچ ديتے لہجے نے وہيبہ کی بولتی بند کروا دی۔
"ميں اسی آئ ڈی پر ابھی کال کرتا ہوں” کہتے ساتھ ہی اس نے وہيں سے کال ملائ۔
آگے سے واقعی کوئ لڑکا تھا۔ خبيب نے کچھ دير اس سے بات کرنے کے بعد کال بند کر دی۔
"اب يقين آگيا؟” خبيب کے استفسار پر اس نے آہستہ سے سر اثبات ميں ہلايا۔
"محبت ميں بے اعتباری کی کوئ گنجائش نہيں ہوتی وہيبہ” خبيب نے اسکی جھکی پلکوں کو ديکھ کر کہا۔
"ميں نے تو ابھی محبت کا اقرار ہی نہيں کيا” وہيبہ نے ہونٹ کاٹتے ہوۓ کہا۔ اسکی قربت وہيبہ کو گھبراہٹ ميں مبتلا کر رہی تھی۔
خبيب تو اب اسکی ايک ايک جنبش سے اسکے دل کا حال جاننے لگ گيا تھا۔ لہذا آہستگی سے اپنے بازو اسکے گرد سے ہٹاۓ اور اس کا رخ اپنی جانب کيا۔
"انکار بھی کب کيا ہے” خبيب کی مسکراہٹ گہری ہوئ۔
"ہاں۔۔۔اصل ميں ابھی سمجھ ہی نہيں آ رہی کہ محبت ہوتی کيسے ہے۔۔۔بس اتنا جانتی ہوں کہ آپ بہت اچھے لگتے ہيں۔۔۔۔جب وہ تکليف دہ خبر سنی اور آپکے ہوش ميں آنے سے پہلے وہ چند گھنٹے مجھے ہر گزرتے پل کے ساتھ ايسا لگ رہا تھا کہ کچھ بھی غلط سنا تو ميری سانسيں بھی بند ہو جائيں گی۔
گھٹن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔ ميں نہيں جانتی يہ محبت ہے يا کيا ہاں مگر آپکے بغير رہنا اب ميرے بس ميں نہيں”وہ ںظريں نيچے کئيۓ اپنے دل کی کيفيت بتاتی خبيب کو اتنی پياری لگی کہ اس نے فوراّّ نظر ہٹا لی۔ اسے شک گزرا کہيں اسکی ہی نظر وہيبہ کو نہ لگ جاۓ۔
"يہ سب محبت کے ہی آثار ہيں ڈئير۔۔۔۔ويسے مجھ جيسا گجر اتنا پيارا کيسے لگنے لگ گيا۔ جس کی گھنی داڑھی اور مونچھيں آپکو زہر لگتی تھيں” خبيب نے اسے پھر سے اپنی نظروں کے حصار ميں ليا۔ ںظريں اس پر سے ہٹنے کو آمادہ نہيں ہو رہيں تھيں۔
"وہ تو کزنشپ غصہ تھا نا۔۔۔اب آپکا يہی روپ سب سے پيارا لگتا ہے” اس کی نرم نظروں نے خبيب کی داڑھی کو پيار سے ديکھتے ہوۓ کہا اور وہيں سے واپس ہو گئيں۔ اس سے آگۓ اسکی آنکھوں ميں ديکھنے کی اس ميں ہمت نہيں تھی۔
"اوۓ ہوۓ۔۔۔۔۔آج تو دل کی باتيں شئير کی جا رہی ہيں۔ لگتا ہے آپ چاہتی ہيں ميں ابھی مزيد کچھ دن آفس نہ جاؤں” خبيب کی بات پر وہ ہنس پڑی۔
"نہيں جی آپ جائيں تاکہ ميرا بھی ريسٹ ہو۔۔۔توبہ ہر وقت پھرتياں دکھا دکھا کر ميری تو ہمت ہی جواب دے گئ ہے۔” وہيبہ يکدم پينترا بدلتی ہوئ کچھ دير پہلی کی معنی خيز سچوئيشن کا اثر زائل کرنے کے لئيۓ بولی۔
"چچ۔۔چچ۔۔۔بہت ہی کوئ اعلی پيس اللہ نے ميری قسمت ميں رکھا ہے بيوياں شوہروں کی خدمت کرکے خوش ہوتی ہيں يہاں طعنے دئيۓ جا رہے ہيں” خبيب نے ليٹتے ہوۓ لطيف سا طنز کيا۔
"ہاں تو آپ نے ميری خدمت کرنے کا بدلہ لے ليا ہے نا۔۔جب ميری گردن پر چوٹ لگی تھی۔۔ميں نے تو کچھ ہفتے خدمت کروائ تھی آپ نے تو پورے تين ماہ خدمتيں کروائيں ہيں”” وہ جو اٹھ کر لائٹ آف کرکے نائٹ بلب آن کر رہی تھی اس نے پھر پنجے تيز کئيے۔
"اب اگر لڑاکا کہا تو ميری شامت آنی ہے ۔
"سچے لوگوں کی کوئ قدر ہی نہيں” اس نے تاسف بھرے انداز ميں کہا۔
"بہت قدر ہے۔۔۔جناب اب اگر خاموش ہو کر نہيں ليٹيں اور صبح مجھے آفس سے دير ہوئ تو ميں نے۔۔۔۔”
"تو کيا” وہ خونخوار تيوروں سے خبيب کو ديکھ کر بولی۔
"تو کچھ نہيں يار بيويوں کا کوئ کيا بگاڑ سکا ہے۔۔۔چاہے جس مرضی پوسٹ اور رينک کا بندہ ہو دنيا اس سے ڈرتی ہو۔۔۔مگر وہ بچارا اپنی بيوی سے لازمی ڈرتا ہوگا۔ سو ميں بھی ايسا ہی شريف شوہر ہوں” خبيب کے بے بسی سے کہنے پر وہيبہ ہنس پڑی۔
"گڈ ڈرنا بھی چاہئيے”
"ويسے ايک بات ہے۔۔۔ميں نے تو ہميشہ سنا ہے کہ پوليس والے بہت خونخوار ٹائپ کے ہوتے ہيں آپ اتنے سوفٹ نيچر کے کيسے ہيں” خبيب جو آنکھيں موندے اب سمجھ رہا تھا کہ وہ چپ کرکے ليٹ جاۓ گی اسکے بولنے پر آنکھيں کھول کر اسے گھورا۔
"يہاں ٹيپ پڑی ہے يا روئ موجود ہے” اپنے سوال کے جواب ميں خبيب کی اتنی بے تکی بات پر اس نے حيرت سے اسے ديکھا۔
"کيوں”
"اسی لئيۓ کہ اگر ٹيپ ہے تو آپکے منہ پر لگانی ہے اور اگر روئ ہے تو اپنے کانوں ميں ٹھونسنی ہے کتنا بولتی ہو يار”
"خود کو ہی شوق تھا کہ دائجسٹ نہ پڑھو مجھ سے باتين کروں اور جب بات کر رہی ہوں تو کہہ رہے ہيں کہ کتنا بولتی ہو۔۔بس اب آپ سے کوئ بات نہيں کروں گی” وہ منہ پھلا کر منہ دوسری جانب کرکے ليٹ گئ۔
تھوڑی دير تک خاموشی رہی۔
"ہبہ” خبيب نے آواز دی۔۔اب منانا بھی تو تھا۔۔۔دل کو اسکی ناراضگی کہاں چين لينے دے رہی تھی۔
"وہيبہ” اٹھ کر اس کا رخ اپنی جانب کيا وہ پھر بھی خاموش ۔۔۔
"اچھا يار ويسے ہی تنگ کر رہا تھا ناراض ہو کر تو نہ سوئيں”
"آئندہ مجھے ايسے کہيں گے” اس نے الگلی اٹھا کر وارننگ دی۔
"نہيں میری توبہ ميرے باپ کی بھی توبہ” اس نے فوراّ صلح جو انداز اپنايا۔
"تايا جی کو کيوں بھيچ ميں لا رہے ہيں” پھر سے گھورا۔
"اچھا سوری ميری توبہ ميرے بچوں کی بھی توبہ” اب کی بار لہجہ شرارتی ہوا۔
اور وہيبہ کا چہرہ گلنار۔
"فضول باتيں” فوراّ رخ دوسری جانب موڑا۔
"ناراض تو نہيں” خبيب نے تصديق چاہی۔
"نہيں” اسکی آواز کی لرزش پر خبيب مسکرايا۔

________________________
صبح جانے سے پہلے اس نے تاکيد بھی کی تھی کہ وہ جلدی گھر آۓ۔ خود کو ايک ہی دن ميں پينڈنگ کاموں کو کرنے کے چکر ميں تھکا نہ لے۔
مگر پھر بھی وہی بات ہوئ جس کا وہيبہ کو شک تھا۔ رات کے گيارہ بج چکے تھے مگر خبيب ابھی تک نہيں آيا تھا۔
اور ہر بار کال کرنے پر يہی کہتا” بس ابھی نکل رہا ہوں”
"يہ اب ميرا آپکو آخری فون ہے اور يہ وارننگ کال ہے۔۔ اب بھی اگر آدھے گھنٹے کے اندر آپ گھر نہيں آۓ تو مين گیٹ پر بھی ميں نے تالا لگا دینا ہے اور اندر کے ڈورز پر بھی۔ پھر مزے سے باہر بيٹھنا ساری رات اور گارڈز کو بھی ميں نے کہہ دينا ہے آپکی کوئ مدد نہ کريں۔پھر ديواريں پھلانگتے پھرنا۔۔۔حد ہو گئ تين ماہ کا کام کيا ايک ہی دن ميں پورا کرنا ہے” وہ تو غصے سے بھری بيٹھی تھی۔
"اف اف اتنی دھمکياں ميری جگہ ميرے گھر والوں کو پوليس فورس ميں ہونا چاہئيۓ۔”
"آ رہے ہيں کہ نہيں ادھر ادھر کی باتيں نہ کريں ميرے ساتھ” اس نے پھر رعب سے کہا۔
"آ رہا ہوں يار آفس سے باہر ہوں اور گاڑی ميں بيٹھ چکا ہوں۔۔بس پہنچتا ہوں” خبيب کے کہنے پر اسے کچھ تسلی ہوئ۔
ايک عجيب سا مان کا رشتہ بن چکا تھا انکے نزديک۔ نہ وہيبہ کا اسکے بنا دل لگتا تھا نہ ہی اس کا وہيبہ کے بنا۔
اور وہ يہی چاہتا تھا۔۔کہ وہ اسے اسکی اہميت کے بارے ميں بتاۓ۔ وہ اسے يہ يقين دلاۓ کے اسکی بھی کسی کی زندگی ميں کوئ اہميت ہے۔ وہ کسی کے لئيے بہت خاص ہے۔۔ او يہی ہو رہا تھا۔ اسکے اردگرد بنا نارسائ اور خود ترسی کا خول چٹخ رہا تھا۔ اب تو بس کچھ ہی قدم رہ گۓ تھے جب اس نے بڑھ کر اپنی محبت کا اعتراف کر لينا تھا۔
ايک جھجھک تھی جو اسے روک رہی تھی۔۔رشتوں نے اس بری طری اسکا اعتبار توڑا تھا کہ اسے بحال ہوتے کچھ تو وقت لگنا تھا نا۔
___________________
"جی ممی ميں بات کرتا ہوں۔۔ٹھيک ہے کوئ مسئلہ نہيں۔۔جی جی جانتا ہوں۔۔اسی لئيۓ کہہ رہا ہوں کوشش کرتا ہوں” وہ جو آج کافی دنوں بعد چھوٹی والے دن ريليکس بيٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ کچھ ہی دير پہلے نفيسہ کی کال آئ اور وہ ان سے بات کرنے ميں مصروف تھا۔
پچھلے کچھ دن تو وہ اس قدر مصروف رہا تھا کہ وہيبہ کو اسکے ساتھ فرصت سے بيٹھنے کا ٹائم ہی نہيں مل پا رہا تھا۔
سب پينڈنگ رپورٹس مکمل کر رہا تھا۔ حتی کہ اتوار والے دن بھی کام گھر لے آتا اور پھر وہ ہوتا اور اسکی فائيليں۔
وہيبہ کو غصہ تو آتا مگر اسکی مجبوری کو بھی سمجھتی تھی۔
"کيا کہہ رہيں تھيں تائ” وہيبہ کو کسی گڑ بڑ کا احساس ہوا۔
"کہہ رہيں تھيں وہيبہ تمہيں بہت تنگ کرتی ہے اسے ہمارے پاس بھيجو سيدھا کرتے ہيں” خبيب نے مصنوعی سنجيدگی سے کہا۔
"جی نہيں مجھے پتا ہے تائ ايسے نہيں کہہ سکتیں” اس نے خبيب کی بات کو ہوا ميں اڑايا۔
"ہاۓ ہاۓ۔۔۔۔گھر والے بيوی کے ساتھ ہوں تو وہ اور بھی شير بن جاتی ہے” خبيب کچن کے دروازے پر کھڑے درد بھرے انداز ميں بولا۔ نظريں تيزی سے کھانا پکاتی وہيبہ پر تھيں۔ آجکل ريشم چھٹياں لے کر اپنے گاوں گئ ہوئ تھی۔
"صحيح بتائيں نا” وہيبہ نے جھنجھلاتے ہوۓ کہا۔
"ممی کو اپنی بہو بہت ياد آ رہی ہے۔۔انفيکٹ سب آپکو بہت مس کررہے ہيں۔ تو وہ چاہ رہيں تھيں کہ ميں چھٹی لے کر کچھ دن آپکو لے کر لاہور آجاؤں اور ہم سب سے مل بھی ليں۔ مگر مجھے اب اتنی چھٹيوں کے بعد اتنی جلدی چھٹی دوبارہ سے نہيں مل سکتی تو ميں نے سوچا آپکو بھيج ديتا ہوں آپ کچھ دن وہاں رہ کر آجانا”
خبيب کی بات پر اس نے ناراض نظر اس پر ڈالی۔
"مجھے آپکے بغير نہيں جانا” اس نے پھولے منہ سے کہا۔
"کچھ زيادہ محبت نہيں ہوگئ” آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگاتے پيار سے اسے ديکھتا اپنی نرم نظروں سے پگھلاتا ہوا بولا۔
"مجھے نہيں پتہ محبت ہے يا کياہے بس اتنا پتہ ہے کہ مجھے اکيلے نہيں جانا” اس نے ہٹيلے لہجے ميں کہا۔
"بری بات ہبہ ميں نے ممی کو اب کہہ ديا ہے کہ آپکو بھيج دوں گا۔۔وہ سب بہت اداس ہو رہے ہيں” خبيب نے اسے سمجھانا چاہا۔
"تو آپ اکيلے کيا کريں گے” وہيبہ نے الجھ کر اسے ديکھا۔
"رہ ليں گے مجبوری ہے کوشش کروں گا کہ واپسی پر ايک دن کی چھٹی لے کر آجاؤں اور پھر آپ کو لے کر اکٹھے آ جاؤں” اسکے بال سنوارتا وہ وہيبہ کو اس وقت بہت برا لگا۔
"پھر جدائ” وہ اتنا پرسکون کيسے تھا جبکہ وہيبہ کا اس سے دور جانے کے خيال سے ہی دل بيٹھا جا رہا تھا۔
"ارے کچھ دنوں کی تو بات ہے ۔۔۔ايک تو آپ نيگيٹو بہت سوچتی ہو۔۔۔اچھا سوچتے ہيں ميری جان” اسکے ماتھے پر پيار کرتا اسے ساتھ لگاتا بولا۔
"ويسے بھی اچھا ہے نہ تھوڑی سی جدائ کے بعد ہو سکتا ہے مجھے آپکے اعتراف محبت کے لمحے نصيب ہوجائيں۔ پتہ ہے جو کام قربت نہيں کر پاتی کبھی کبھی کچھ دير کی جدائ کر جاتی ہے۔ ميں تو اسی اميد پر آپکو بھيج رہا ہوں کہ مجھ سے دور جا کر شايد آپ ميں بھی اظہار کے جراثيم جاگ جائيں۔” خبيب نے اسے کندھوں سے تھام کر اسکی آنکھوں ميں جھانکتے ہوۓ کہا۔ جہاں ناراضگی کی جھلک تھی۔
پھر رات تک نفيسہ اور خديجہ کے آنے والے بالترتيب فونز نے وہيبہ کی ناں کو ہاں ميں بدلوا ديا۔
خبيب اگلے دن ہی اسکی شام کی ٹکٹس لے آيا۔
"بڑی جلدی ہے آپکو مجھے بھيجنے کی” وہ ابھی بھی خفا تھی۔
خبيب نے کچھ نہيں کہا۔۔۔دل اس قدر خوش تھا اپنے لئيۓ وہيبہ کہ يہ انداز ديکھ کر کہ وہ کچھ بھی کہہ کر ان لمحوں اور اس کيفيت کا مزہ خراب نہيں کرنا چاہا تھا۔
چاہے جانا کتنا خوبصورت احساس تھا خبيب کو اب اندازہ ہو رہا تھا۔ ابھی تک تو وہ ہی وہيبہ کے لئۓ اپنی بے قرارياں دکھاتا آيا تھا اب اسکا بھی تو حق بنتا تھا۔
گوکہ سچی محبت تو بس دئيۓ جانے کا نام ہے اور خبيب کی محبت اسکے لئۓ ايسی ہی تھی۔
اس نے اس لمحوں مين اسے چاہا تھا جب وہيبہ اسکی شکل تک ديکھنے کی روادار نہيں تھی۔ اس نے تو تب بھی صلہ کی خواہش نہيں کی تھی۔
مگر اب جب وہ اسکی محبت کی ڈور کے ساتھ بندھ گئ تھی تو اسکی شدتيں ديکھنے ميں مزہ آ رہا تھا۔
اب وہ وقت آگيا تھا جب وہ خبيب کے علاوہ کسی اور کو ديکھنا بھی نہيں چاہتی تھی۔
يہ احساس کتنا خوش کن ہوتا ہے کہ آپکا محبوب آپکو ويسے ہی چاہے جيسے آپ نے اسے چاہا۔ يہيں سے تو محبت کی تکميل شروع ہوتی ہے۔
اور ابھی تو آغاز تھا ابھی تو اس سے اظہار محبت سننے کی خواہش تھی۔
__________________