یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 40 شارلٹ کی شہ بالیاں…


یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 40

شارلٹ کی شہ بالیاں اس بار صرف دو تھیں شار لٹ کی دوست اور ویرا ٰ امرحہ کوکہا گیاتھا،لیکن اس نےاورساد ھنانے انکار کر دیا ،جورڈن کے خاندان کی نازک مزاجی نے انہیں برہم کر دیا تھا،انہیں ان سب کی نظروں میں آنے کی خواہش نہیں تھی۔
شارلٹ دلہن بن کر آئی تو امرحہ نے دیکھا کہ دلہن کے بعد سب نے جس چہرے کو دیر تک دیکھا وہ ویرا کا تھا، اس نے ہلکا ارغوانی آف شولڈر فراک پہنا تھا اور وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی اگر بلیک آوٹ کر دنوں میں اسے کسی عمارت کی چوٹی پر بیٹھا دیا جاتا تو وہ اپنے آدھے شہر کو حسن کی چکا چوند سے منور کر دیتی ۔
”ویرا نے اتنی خوبصورتی کا کیا کرنا ہے ؟“امرحہ نے دیکھا کہ دور کھڑے عالیان نے بھی ویرا کو دیکھا تو امرحہ یہ سوچے بنا رہ نہیں سکی ۔
”اگر ویرا صحرا گوبی کا سفر اختیار کر لے اور صحرا میں بھٹک جائے اور پیاسی….پیاسی….“امرحہ اسے یہ بددعا دیے بغیر نہیں رہ سکی وہ یہ کرنے پر مجبور تھی۔
دو خاندان ایک جگہ موجود ہو کر بھی کیسے الگ الگ رہتے ہے یہ شارلٹ اور جورڈن کی شادی میں دیکھا جا سکتا تھا۔تناؤ موجود تھا اور خوشی کے بجائے گھبراہٹ ہو رہی تھی،وہ سب آپس میں دھیمی آوازوں میں باتیں کر رہے تھے کہ کہیں ان کی مسکراہٹوں کا غلط مطلب نہ نکال لیا جائے ان کے بیش قیمت لباس ،زیورات ان کی ہاتھوں کی حرکات ،ان کے لبوں کا وا ہونا کچھ ایسا تھا کہ سانس گھٹنے لگتا۔وہ ایک شادی میں شریک ہونے سے زیادہ کسی نیلامی میں شریک ہوئے لگتے تھے جہاں وہ اپنے رتبے کی بولی سننے آئے ہوں۔شادی کی رسم شروع ہو گئی اور جب انگوٹھی پہنانے کی باری آئی اور دلہا نے اپنے شہ بالے کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ انگوٹھی اسے دی جائے تو شہ بالے نے اپنی جیبیں ٹٹولنی شروع کر دیں۔”انگوٹھی تو نہیں ہے۔“رافیل نے ہاتھ اُٹھا دیے۔
”تم دیکھو،شاید تمہارے پاس ہو۔“اس نے دوسرے شہ بالے سے کہا۔اس نے بھی اپنی جیبیں ٹٹولیں اور ہاتھ اُٹھا دیے۔”میرے پاس نہیں ہے۔“ دونوں نے یہ حرکت کرتے کافی وقت لیا تھا،پادری بے زاری سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
”تم دیکھو،شاید تمہارے پاس ہو ؟“دوسرے شہ بالے نے تیسرے شہ بالے سے کہا۔
تیسرے نے بھی خود کو ٹٹولا اور اس بار جورڈن کے انکل سے کہا ۔
”آپ کے پاس تو نہیں انکل….!میرے پاس بھی نہیں ہے۔“انکل نے بھی اپنا کوٹ کنگالا اور ساتھ بیٹھی آنٹی جولیا سے یہی کہا۔آنٹی جولیا نے اپنا پاوچ اور ہاتھوں کی انگوٹھیاں دیکھیں اور اگلی خاتون سے کہا ”آپ کے پاس ہو شاید “اگلی خاتون نے بھی کم بیش یہی کیا اور اپنے سے اگلے کی طرف اشارہ کر دیا۔آگےسےآگے….قطار در قطار وہ اپنے سے آگے بیٹھنے والے کو اشارہ کرنے لگے۔
پادری صاحب حد سے زیادہ نے زار ہو چکے تھے ۔دلہن رو دینے کو ہو گئی تھے لیڈی مہر اپنی نم آنکھیں چھپا رہی تھیں۔
”یہ لوگ واقع شارلٹ کو پسند نہیں کرتے۔“
آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزار چکا تھا ان کی تلاشیاں ہی ختم ہونے میں نہیں آرہی تھیں اور پھر آخر کار جب ان کے ایک ایک بوڑھے،عورت،مرد،لڑکی،لڑکے اور بچے نے خود کو کنگال ڈالا اور کوئی ایک بھی نہیں بچا تو وہ……
”انگوٹھی نہیں ہے…..یہ شادی نہیں ہو سکتی“وہ یک آواز چلائے۔
سکوت چھا گیا….تناؤ اور بوجھل پن اور بڑھ گیا۔شہ بالے رافیل نے چھینک ماری انگوٹھی اس کے منہ سے نکل کر باہر گری اسے اٹھا کر اس نے دلہا کو دی۔شادی کی رسم ہو گئی لیڈی مہر کی چہرے کے سارے رنگ اڑتے ہی رہے۔
شادی میں ہنسی مزاق ،شرارت معمول کا حصہ ہیں،لیکن اس شرارت پر ہتک غالب تھی۔انہیں شارلٹ کے ساتھ یہ سلوک پسند نہیں آیا۔ عالیان انہیں لے کر ذرا دور چلا گیا اور جب واپس لایا تو وہ مسکرا رہی تھیں۔رات کی تقریب قلعے کے انداروسیع ہال میں تھی جسے سفید اوع بنفشی رنگوں کے خوبصورت امتزاج سے خواب ناک بنایا گیا تھا ۔جیسے کسی قدیم شہزادی کی خوشیوں کے جام لہرائے جا رہے ہوں۔کارل اور عالیان شادی کی تقریب کے دوران سے ہی غائب تھے۔اسے ان دونوں کے غائب ہونے کی سمجھ نہیں آئی،بلکہ کارل تو ایسے تیار ہو کر آیا تھا جیسے اسی کی شادی ہو ۔امرحہ کو کارل کے جانے کی خوشی تھی اس نے سادھنا اور این اون کے ساتھ انگلش طرز پر گول گول گھومنے کی کوشس بھی کی تھی۔ابھی کیک نہیں کاٹا گیا تھا ۔شارلٹ کافی مرجھائی ہوئی سی لگ رہی تھی۔بہرحال کیک کی ٹرالی لائی گئی اس سے پہلے کہ وہ دونوں کیک کاٹتے ہال کا دروازہ دہشت ناک انداز سے کھلا اور ایک پاگل دیوانہ شخص شارلٹ کی طرف آیا ،جسے دیکھتے ہی شارلٹ نے چیخ ماری دی اور اتنی شدت سے ماری کہ ہال کا ماحول جامد ہو گیا اور سب اسے دیکھنے لگے اور ٹھیک اسی دوران اس پاگل نےسر سے ہاتھ اوپر اٹھا کر پسٹل سے فائر کیا ۔
فریز کسی نے بال برابر بھی جنبش کی تو میں اسے گولی سے مار دوں گا۔فائر کی آواز سے سہم کر چیخوں سے گونجھتا ہال سناٹے سے بھر گیا ۔
”تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو شارلٹ؟“وہ چلایا اور پسٹل کا رخ جورڈن کی طرف کر دیا۔”تم شادی کر رہی ہو ….تم شارلٹ…تم….یہ سب….“
شارلٹ بری طرح سہم گئی اور جوردن تو تھا ہی ایکٹر وہ ایسے سہما کہ ذرا دور کھڑی اس کی ماں سے دل کا دورہ چند انچ کے فاصلے سے گزرا….
”یہ پاگل خانے سے کیسے بھاگا”ہال میں سے کسی کی آواز ابھری اور وہ خود بھی….وہ سائی تھا جو اس پاگل کی طرف بڑھ رہا تھا۔
”اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ ورنہ مجھے اپنے اس ہاتھ کی انگلی کو زحمت دینی پڑے گی“اس نے شرٹ کے اندر سے دوسرا پسٹل والاہاتھ نکالاکر اور ا س کی طرف تان کر کہا پہلا پسٹل بددستور جورڈن پر تنا تھا۔
”چلے جاؤ یہاں سے میک!“سائی قریب جاتے چلایا۔امرحہ نے حیرت سے سائی کو دیکھا بھلا اس کا کیا کام یہ تو شارلٹ کو جانتا بھی نہیں تھا اور اس پاگل نے اپنی انگلی کو زحمت دے دی اور فائر کر دیا ۔گولی سائی کے بازو میں لگی اور خون کی دھار اس کے بدن سے پھوٹی اور وہ وہیں گر گیا۔
”سائی !“امرحہ نے چیخ ماری اور اس کی طرف لپکنے لگی کہ ویرا نے اس کا ہاتھ سختی سے پکڑلیا ۔” ہمیشہ گڑبڑ کرتی ہو ،بیٹھ جاو ورنہ تمہیں تو ہو شوق سے گولی مار دے گا ۔“ویرا نے ایک ہاتھ اس کے کمر میں دیا اور ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھا اور اس کے کان میں کہا۔
”میں نے کہا نہ کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا ۔“وہ حلق کے بل دھاڑا۔
اس کا حلیہ ہی ایسا تھا ہال میں سب دبک گئے……سکوت چھا گیا۔
ذرا دور سے ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں آنے لگیں اور پولیس کے بھی….یعنی ان کے بچاؤ کے لیے لوگ آرہے تھے۔ جلدی ہی شارلٹ کے سابقہ پاگل عاشق کو پکڑ کر لے جائیں گے۔ تم تو مجھ سے پیار کرتی تھی شارلٹ اور شادی….شادی….وہ کس سے کر رہی ہو ؟“پسٹل کا رخ جورڈن کی طرف کر کے وہ اچھل اچھل کر چلایا ،اتنی اونچی آواز میں کہ ان کے کانوں کے پردے ہل گئے اور خوف سے آنکھیں بند کرلینےکو جی چاہا۔
”سائی !“امرحہ اس دوران سسک رہی تھی۔
”میرے جگہ تم کسی اور کو لے آئیں۔“اس نے قہقہہ لگایا۔
”ٹھیک ہے میں اپنی جگہ خالی کروا لیتا ہوں۔“اس نے جورڈن کے کنپٹی پر پسٹل رکھی۔جورڈن کی ماما اور چند دیگر خواتین کی چیخیں نکل گئیں،جس کے جواب میں اس پاگل نے پسٹل کا رخ ان کی طرف کرکے ہوائی فائر کر دیا۔
”کوئی آواز نہیں….“وہیں ان کی آوازیں بند بلکہ گم سی ہو گئی۔
”چلو شارلٹ میرے ساتھ ….“
”میری شادی ہو چکی ہے میک…..! جورڈن میرا شوہر ہے۔
”جورڈن تمہارا شوہر تھا ….یہ ابھی مردہ ہونے جا رہا ہے ۔“اس نے تھا کو لمبا کھینچ کر کہا۔
”مجھے تم سے نفرت ہے….میں تمہارے جیسے پاگل انسان کے ساتھ ایک منٹ نہیں رہ سکتی ….سائیکو….نفرت ہے مجھے تم سے۔“
”مجھے اس سے نفرت ہے میں ایک اور منٹ اسے زندہ نہیں چھوڑ سکتا ۔“
ہال کے اندار بھاگتے ہوئے تین چار لوگ آئے ،حلیے سے وہ ہسپتال کے ملازم لگتے تھے اور پاگلوں کا پاگل نظر آتا ڈاکٹر جس کی آنکھوں پر بہت بڑا چشمہ تھا۔
”میک۔چھوڑ دو اسے۔ہمارے ساتھ واپس چلو ۔“ڈاکٹر ذرا دور سےمحتاط انداز میں چلایا۔ہال والوں کی نظریں اب ڈاکٹر پر تھیں۔
”مجھے پاگل سمجھا ہے کیا ؟“اس نے جنونی قہقہہ لگایا اور پسٹل کا رخ ڈاکٹر کی طرف کر دیا ۔”حساب کتاب تو تم سے بھی باقی ہیں میرے ۔“
”تم یہ نہیں کر سکتے ۔“میک یعنی پاگل کو اور بھڑکایا۔
”میں یہ ضرور کروں گا ۔“اچھل اچھل کر وہ چلانے لگا ۔اسے دیکھ دیکھ کر خوف اور بڑھنے لگا اور اس وقت خوف سے دم ہی نکل گیا ،جب ڈاکٹر نے اچھلتے میک کو غافل سمجھ کر اس پر قابو پانے کےلیے ایک دم سے حملہ کر دیا۔ حملے کی صورت دو فائر فوری ہوئے ہال خواتین کی چیخوں سے گونج اٹھا ،جن میں سب سے نمایاں چیخ جورڈن کی ماما کی تھی۔فائر کے ساتھ ہی ہال کی لائٹس بجھ گئیں۔لوگوں کے اُٹھنے ،گرنے،بھاگنے کی آوازیں بھی آئی اور جورڈن کے کراہنے اور ماما جورڈن کے چلانے کی بھی۔ایک منٹ سے بھی کم وقت میں یہ ہوا ۔اتنی چیخ و پکار پر بھی لائٹس آن نہ کی گئی اور جب لائٹس آن کی گئی تو کیک کے پاس نہ مردہ دلہا تھا نہ دلہن ،اور اس کا پاگل خانے سے بھاگا بوائے فرینڈ اور نہ ہی اس پاگل کا ڈاکٹر۔
وہ سب غائب تھے…وہ سب کہاں تھے۔ہال میں نظریں گردش کر رہی تھیں۔ہال میں آرکسٹرا نے دھن چھیڑی اور اونچے چھت تلے بنے وسیع گول دائرے نما اندھیرے ،ڈانس فلور پر اسپاٹ لائٹ روشن ہوئی اور روشنی چلتے چلتے ایک جگہ پر آکررک گئی،دلہا اور دلہن پر ۔جورڈن نے ہاتھ اوپر اُٹھایا جسے تھام کر دلہن گول گول گھومنے لگی۔دوسری اسپاٹ لائٹ چلتی دو اور لوگوں پر آکر گئی۔پاگل کارل اور ڈاکٹر عالیان پر۔انہوں نے سر کو جھکا کر داد لینی چاہی اور دلہا دلہن کی نقل اتارتے گول گول گھومنے لگے۔رکے ہوئے سانس تنفر سے بحال کیے گئے۔انہیں گمان تک نہیں ہوا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے۔دلہن والوں اور دلہا کے صرف مردوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجا بجا کر ہال سر پر اٹھا لیا ۔کارل اور عالیان کے ویڈنگ پرانگ (مذاق) نے میدان مار لیا تھا۔کچھ کو تو مار ہی ڈالا تھا۔ امرحہ بھی کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہی تھی آج اسے کارل بھی اچھا لگ رہا تھا۔ویرا نے اس کے کان میں سب بتا دیا تھا صرف چند گھنٹوں میں سب پلان کیا گیا تھا شارلٹ اور جورڈن بھی ان کے ساتھ تھے۔کارل اور عالیان کا گیٹ اپ ایسا تھاکہ امرحہ نے بہت دیر میں انہیں پہچانا۔ان کی پرفارمنس لاجواب تھی۔پاگلوں سے بڑھ کر کارل پاگل لگ رہا تھا۔تو اسی لیے ہر چار میں سے تیسرے کو کارل ہونا چاہیے،ہر تین میں سے دوسرے کو اور ہر دو میں سے ایک پہلے میں تھوڑا کارل ضرور ہونا چاہیے۔کیونکہ کبھی کبھی یہ بہت ضروری ہوتا۔
*……….*………….

جاری ہے

64