💥 گیارہ سال میں اپنی بیوی کو دیکھتا رہا۔۔۔ اور وہ مجھے اندھا سمجھتی رہی! 🥹💔
جس عورت کو ساری دنیا بدصورت کہنے لگی تھی، اس کے شوہر نے گیارہ برس تک اسے بتایا کہ وہ دیکھ نہیں سکتا۔
ارمغان اور ماہ نور کی شادی کو ابھی چھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ ماہ نور کے چہرے پر سفید دھبے نمودار ہونے لگے۔ پہلے اس نے انہیں میک اپ سے چھپایا، پھر دوپٹے کے پلو سے۔ جب دھبے گردن تک اتر آئے تو اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہونا چھوڑ دیا۔
ارمغان کو اس کے چہرے سے محبت تھی۔ وہ دفتر سے لوٹتا تو کبھی اس کے کانوں میں گجرے کی خوشبو چھوڑ جاتا، کبھی بازار سے چوڑیاں اٹھا لاتا۔
’’تمہیں معلوم ہے، تم ہنستی ہو تو تمہارے گال میں جو گڑھا پڑتا ہے، اس کے لیے آدمی پوری زندگی گزار سکتا ہے۔‘‘
ماہ نور ہنس دیتی، پھر فوراً رخ پھیر لیتی۔
اب اس کے گال پر گڑھا نہیں پڑتا تھا۔ وہاں جلد کی رنگت بدل گئی تھی۔
اس نے کئی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ ٹیسٹ ہوئے، دوائیں بدلیں، امیدیں بندھیں اور ٹوٹیں۔ بیماری نے اس کی خوب صورتی ہی نہیں، اس کا اپنے آپ پر اعتماد بھی آہستہ آہستہ کھا لیا۔
ایک رات اس نے ارمغان سے پوچھا، ’’اگر میں کبھی بہت بری دکھائی دینے لگی تو؟‘‘
ارمغان نے اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر میز پر رکھا۔
’’تو کیا؟‘‘
’’تو تم مجھے دیکھ کر پہلے کی طرح خوش تو نہیں ہو گے۔‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر بولا، ’’تم نے کبھی سوچا ہے کہ مجھے تم سے محبت کیوں ہے؟‘‘
ماہ نور نے نفی میں سر ہلایا۔
’’کیونکہ تم میرے ساتھ ہو۔‘‘
ماہ نور کو یہ جواب خوب صورت نہیں لگا۔ اسے کوئی ایسا جواب چاہیے تھا جس میں اس کے چہرے کی تعریف ہو، اس کی آنکھوں، ہونٹوں اور اس مسکراہٹ کا ذکر ہو جس پر ارمغان کبھی فدا ہوا کرتا تھا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ محبت کے وعدے بھی کبھی کبھی آدمی کے خوف سے چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔
حادثہ جمعرات کی شام ہوا۔
ارمغان فیصل آباد سے دفتر کا کام نمٹا کر واپس آ رہا تھا کہ موٹروے پر اس کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ سر پر چوٹ آئی، آنکھوں کے پردے متاثر ہوئے، اور کئی دن کے علاج کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی بینائی واپس آنے کی امید بہت کم ہے۔
ماہ نور ہسپتال کے کمرے میں اس کے پاؤں کے پاس بیٹھی رہی۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو سب سے پہلے پوچھا، ’’تم کہاں ہو؟‘‘
’’یہیں ہوں۔‘‘
’’میرے قریب آؤ۔‘‘
اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیا۔
ارمغان کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔
چند ہفتوں بعد وہ گھر واپس آ گئے۔ اب ماہ نور اسے کمرے سے غسل خانے تک لے جاتی، دواؤں کے ڈبوں پر بریل کے نشان لگوانے کا سوچتی، پھر وقت نہ ملنے پر ہر ڈبے کو الگ جگہ رکھ دیتی۔ ارمغان نے چھڑی کے سہارے چلنا سیکھنا شروع کیا۔ گھر کی دیواروں اور فرنیچر کی ترتیب اس کے لیے نقشہ بن گئی۔
ماہ نور کو پہلی بار اپنے چہرے کے بدلنے پر سکون محسوس ہوا۔
اب ارمغان اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔
وہ اس کے سامنے بے تکلف ہو کر بیٹھنے لگی۔ کبھی دوپٹہ سر سے اتر جاتا، کبھی بال بکھرے رہتے۔ وہ برسوں بعد اس کے سامنے اپنے چہرے کو بھولنے کی کوشش کرنے لگی۔
لیکن ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اس کا سکون بھی ایک نئی قید ہے۔
’’ارمغان، تمہیں میری شکل یاد ہے؟‘‘
’’کیوں نہیں؟‘‘
’’اگر میں تمہارے سامنے کھڑی ہوں تو تم مجھے پہچان لو گے؟‘‘
ارمغان مسکرایا۔ ’’تمہارے قدموں کی آواز سے پہچان لوں گا۔‘‘
’’اور اگر میں چلنا چھوڑ دوں؟‘‘
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی پکڑ لی۔
’’تو تمہاری نبض سے۔‘‘
ماہ نور نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ آدمی کبھی کبھی محبت میں بھی اپنی موجودگی کا ثبوت مانگتا رہتا ہے۔
سال گزرتے گئے۔
ماہ نور کے چہرے پر بیماری کے نشان گہرے ہوتے گئے۔ علاج کی امیدیں محدود ہوئیں تو اس نے لوگوں سے ملنا کم کر دیا۔ عید پر رشتے دار آتے تو وہ دیر تک باورچی خانے میں رہتی۔ ارمغان آواز دے کر اسے بلاتا، اور وہ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دوپٹے سے چہرہ ڈھانپ لیتی۔
’’یہ کیا ہر وقت پردہ کیے رکھتی ہو؟‘‘ ارمغان نے ایک دن کہا۔
’’بس ایسے ہی۔‘‘
’’مجھ سے بھی؟‘‘
وہ جواب نہ دے سکی۔
ارمغان نے ہاتھ بڑھایا تو ماہ نور نے اپنا چہرہ اس کی ہتھیلی کے قریب کر دیا۔ اس نے انگلیوں سے اس کی پیشانی چھوئی، پھر گال، پھر ٹھوڑی۔
’’تمہیں پتا ہے،‘‘ وہ آہستہ سے بولا، ’’میں تمہیں پہلے سے زیادہ پہچانتا ہوں۔‘‘
ماہ نور کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ محبت تھی، ترس تھا یا کسی ایسے شخص کی کوشش جو اپنی محرومی کے باوجود دوسرے کو محروم نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس نے اس دن ارمغان سے کچھ نہیں پوچھا۔
شاید بعض سوالوں کا جواب سننے سے زیادہ ضروری یہ ہوتا ہے کہ آدمی ان کے بغیر جی سکے۔
گیارہویں برس کی سردیوں میں ماہ نور کو سینے میں درد رہنے لگا۔ اس نے گھر کے کام کم نہیں کیے۔ ارمغان کی دوائیں وقت پر رکھتی، ناشتے میں اس کے لیے انڈا ابالتی، اور رات کو سونے سے پہلے اس کی چھڑی بستر کے دائیں طرف رکھ دیتی۔
ایک صبح وہ کچن میں چائے بناتے ہوئے گر پڑی۔
ارمغان نے کپ ٹوٹنے کی آواز سنی تو چھڑی کے بغیر دروازے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ راستے میں میز سے ٹکرایا، پھر دیوار کا سہارا لے کر کچن میں آیا۔
’’ماہ نور؟‘‘
وہ فرش پر پڑی تھی۔ اس کے قریب چائے پھیلی ہوئی تھی اور گیس کا چولہا جل رہا تھا۔
ارمغان نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
’’ماہ نور، آنکھیں کھولو۔ میری بات سن رہی ہو؟‘‘
اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
ہسپتال پہنچنے تک اس کی سانسیں ختم ہو چکی تھیں۔
ڈاکٹر نے جب موت کی خبر دی تو ارمغان نے کوئی شور نہیں مچایا۔ صرف پوچھا، ’’اب میں گھر کس آواز کے پیچھے چلوں گا؟‘‘
تدفین کے بعد رشتے دار اسے اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کرتے رہے۔ اس نے سب کو رخصت کیا اور اگلی صبح اپنا مختصر سا سامان باندھ لیا۔
اسے وہ گھر چھوڑنا تھا جہاں ہر چیز ماہ نور کے لمس سے واقف تھی۔
دروازے کے پاس رکھی چھڑی، کچن میں مصالحوں کے ڈبے، الماری میں تہہ کیے ہوئے کپڑے، اور ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا وہ چھوٹا سا آئینہ جس پر برسوں سے کپڑا پڑا تھا۔
اس نے آئینے سے کپڑا ہٹایا۔
پھر اسے واپس رکھ دیا۔
اسٹیشن پر ایک پرانا شناسا مل گیا۔ وہ دونوں ایک ہی محلے میں رہتے تھے۔ اس نے تعزیت کی، پھر ارمغان کے ہاتھ میں پکڑا سامان دیکھ کر کہا، ’’بھائی، اب آپ اکیلے کیسے رہیں گے؟ بھابھی نے تو آپ کی ساری زندگی سنبھالی ہوئی تھی۔‘‘
ارمغان نے کہا، ’’کچھ زندگیاں آدمی دوسروں کے سہارے گزارتا ہے، اور کچھ سچ چھپا کر۔‘‘
وہ شخص اس کے قریب آ بیٹھا۔
’’کون سا سچ؟‘‘
ارمغان نے جیب سے ایک پرانی عینک نکالی۔ اس کے شیشے پر خراشیں تھیں۔
’’حادثے کے بعد میری بینائی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ شروع میں مجھے دھندلا دکھائی دیتا تھا۔ علاج کے بعد میری نظر کافی حد تک واپس آ گئی تھی۔ ڈاکٹر نے مجھے بتایا بھی تھا کہ میں دیکھ سکتا ہوں۔‘‘
اس شخص کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔
’’تو آپ نے بھابھی کو کیوں نہیں بتایا؟‘‘
ارمغان نے عینک کی ایک ٹانگ سیدھی کی۔
’’ایک دن میں نے اسے آئینے کے سامنے روتے دیکھا تھا۔ وہ اپنے چہرے پر دوپٹہ رکھے بار بار کہہ رہی تھی کہ اب میں اسے دیکھ کر اس سے محبت نہیں کر سکوں گا۔ اس رات میں نے اسے بتانے کا فیصلہ کیا تھا کہ میری نظر واپس آ گئی ہے۔ مگر جب میں کمرے میں گیا تو اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر کہا، ’ارمغان، تمہارے اندھے ہونے کے بعد پہلی بار مجھے اپنے چہرے سے خوف نہیں آتا۔‘‘‘
وہ خاموش ہو گیا۔
ریل گاڑی کے پہیوں کی آواز قریب آ رہی تھی۔
’’میں نے سوچا، اگر اسے معلوم ہو گیا کہ میں دیکھ سکتا ہوں تو وہ پھر سے ہر روز میرے چہرے پر اپنا فیصلہ تلاش کرے گی۔ اس لیے میں نے اپنی بینائی چھپائے رکھی۔ پہلے اسے خوف سے بچانے کے لیے، پھر شاید اس لیے کہ میں اس کا خوف دور کرنے کی ہمت نہیں کر پایا۔‘‘
’’لیکن گیارہ سال؟‘‘
ارمغان نے سر جھکا لیا۔
’’گیارہ سال میں نے اس کی حفاظت کی یا اسے ایک ایسے جھوٹ میں رکھا جس سے وہ کبھی باہر نہ آ سکی، یہ میں آج تک نہیں سمجھ پایا۔‘‘
اس نے عینک جیب میں رکھ لی۔
’’وہ ہمیشہ چاہتی تھی کہ میں ایک دن اس کا چہرہ دیکھ کر بتاؤں کہ وہ کیسی لگتی ہے۔ میں ہر روز اسے دیکھتا تھا، مگر اسے کبھی یہ نہیں بتا سکا کہ وہ میرے لیے کیا تھی۔‘‘
ریل گاڑی رک گئی۔
لوگ سوار ہونے لگے۔ ارمغان نے اپنی چھڑی سنبھالی اور دروازے کی طرف بڑھا۔
اچانک وہ رکا، جیب سے عینک نکالی اور اسے ہاتھ میں پکڑ کر دیر تک دیکھتا رہا۔
پھر اس نے عینک واپس رکھ دی۔
اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔ سامنے راستہ بھی صاف تھا۔
مگر اس راستے کے آخر میں اب کوئی ایسا شخص نہیں تھا جسے وہ بتا سکتا کہ اس نے اس کا چہرہ کبھی کھونا ہی نہیں چاہا تھا۔
آپ بتائیے، ارمغان نے ماہ نور سے اپنی بینائی چھپا کر اس کی محبت کی حفاظت کی، یا اسے اس کے اپنے چہرے کے خوف میں عمر بھر قید رکھا؟
©️ انتخاب سخن
ماخوذ افسانہ: اندھی محبت