کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے
—–
خطاط، ڈرامہ نگار اور شاعر عادلؔ منصوری کا یومِ وفات
06؍نومبر 2008
نام عادل منصوری اور تخلص عادلؔ تھا۔ 18؍مئی 1936ء کو احمد آباد گجرات میں پیدا ہوئے۔ تشکیلِ پاکستان کے وقت عادلؔ کے والد کراچی چلے گئے
عادلؔ منصوری 06؍نومبر 2008ء کو نیوجرسی میں انتقال کر گئے۔
منتخب اشعار
کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو
تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو
—–
میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر
اس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا
—–
چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں
بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال سے
—–
کوئی خودکشی کی طرف چل دیا
اداسی کی محنت ٹھکانے لگی
—–
ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں
تری یاد آنکھیں دکھانے لگی
—–
ایسے ڈرے ہوئے ہیں زمانے کی چال سے
گھر میں بھی پاؤں رکھتے ہیں ہم تو سنبھال کر
—–
جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر
وہ تصویر باتیں بنانے لگی
—–
تو کس کے کمرے میں تھی
میں تیرے کمرے میں تھا
—–
پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا
اس گلبدن پہ نقش اٹھ آئے گلاب کے
—–
دریا کے کنارے پہ مری لاش پڑی تھی
اور پانی کی تہہ میں وہ مجھے ڈھونڈ رہا تھا
—–
مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوں
یہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوں
—–
پھر بالوں میں رات ہوئی
پھر ہاتھوں میں چاند کھلا
—–
دروازہ کھٹکھٹا کے ستارے چلے گئے
خوابوں کی شال اوڑھ کے میں اونگھتا رہا
—–
حدود وقت سے باہر عجب حصار میں ہوں
میں ایک لمحہ ہوں صدیوں کے انتظار میں ہوں
—–
ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں
غیر کو بوسہ دیا تو منہ سے دکھلا کر دیا
—–
دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا
جھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیا
—–
کب تک پڑے رہوگے ہواؤں کے ہاتھ میں
کب تک چلے گا کھوکھلے شبدوں کا کاروبار
—–
خودبخود شاخ لچک جائے گی
پھل سے بھرپور تو ہو لینے دو
—–
نیند بھی جاگتی رہی پورے ہوئے نہ خواب بھی
صبح ہوئی زمین پر رات ڈھلی مزار میں
—–
انگلی سے اس کے جسم پہ لکھا اسی کا نام
پھر بتی بند کر کے اسے ڈھونڈتا رہا
—–
کھڑکی نے آنکھیں کھولی
دروازے کا دل دھڑکا
—–
حمام کے آئینے میں شب ڈوب رہی تھی
سگریٹ سے نئے دن کا دھواں پھیل رہا تھا
—–
وہ تم تک کیسے آتا
جسم سے بھاری سایہ تھا
—–
تصویر میں جو قید تھا وہ شخص رات کو
خود ہی فریم توڑ کے پہلو میں آ گیا
—–
بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا
میں ہاتھ میں تلوار لیے جھوم رہا تھا
—–
دریا کی وسعتوں سے اسے ناپتے نہیں
تنہائی کتنی گہری ہے اک جام بھر کے دیکھ
—–
تم کو دعویٰ ہے سخن فہمی کا
جاؤ غالبؔ کے طرف دار بنو
—–
کب سے ٹہل رہے ہیں گریبان کھول کر
خالی گھٹا کو کیا کریں برسات بھی تو ہو
—–
خواہش سکھانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر
اب شام ہو چلی میاں دیکھو کدھر گئی
—–
نشہ سا ڈولتا ہے ترے انگ انگ پر
جیسے ابھی بھگو کے نکالا ہو جام سے
—–
جانے کس کو ڈھونڈنے داخل ہوا ہے جسم میں
ہڈیوں میں راستہ کرتا ہوا پیلا بخار
—–
جسم کی مٹی نہ لے جائے بہا کر ساتھ میں
دل کی گہرائی میں گرتا خواہشوں کا آبشار
—–
یادوں نے اسے توڑ دیا مار کے پتھر
آئینے کی خندق میں جو پرچھائیں پڑی تھی
—–
گرتے رہے نجوم اندھیرے کی زلف سے
شب بھر رہیں خموشیاں سایوں سے ہمکنار
—–
وہ جان نو بہار جدھر سے گزر گیا
پیڑوں نے پھول پتوں سے رستہ چھپا لیا
—–
آواز کی دیوار بھی چپ چاپ کھڑی تھی
کھڑکی سے جو دیکھا تو گلی اونگھ رہی تھی
—–
پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالے
پھر کسی آنکھ کے نقطے میں اتارا جاؤں
………………………………
