ڈاکٹر تصدق حسین خالد کا یومِ وفات
November 06, 1972
پیدائش: 1919ء
وفات: 6 نومبر 1972ء
اردو شاعر۔ پشاور میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے اور 1924ءمیں انگریزی ادبیات میں ایم۔اے کیا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں بطور ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر متعین رہے۔ 1935ء میں قبل از وقت پنشن پاکر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان گئے اور لندن یونیورسٹی سے بی۔اے آنرز اور پی۔ایچ۔ڈی کے امتحانات پاس کیے۔ 1945ء میں بیرسٹر بن کر آگئے اور لاہور ہائی کورٹ میں پریکٹس شروع کی۔ ابتدائی کلام میں غالب اور اقبال کا رنگ غالب ہے۔ پھر کئی نئے اسلوب اختیار کیے۔ آپ کا شمار آزاد اردو نظم کے بانیوں میں ہوتا ہے۔
…………..
نظم "موجِ دریا”
مجموعہ کلام "سروُدِ نو”
اے حسیں ساحل مگر سوتا ھے توُ؟
تیرے حُسنِ بے خبر پر میری بیداری نثار!
میرے قطروں کی جبیں،
مُضطرب سجدوں کی دُنیائے ناز،
آستانِ ناز پر زوقِ عبادت کا ھجوُم
دیکھ، لرزاں سانس
تیری دِید کو آتی ھوُں میں
گاتی ھوُئی، روتی ھوُئی
اور توُ؟
اضطرارِ فطرتِ سیماب کا رنگِ ادا
تیری اِس شانِ تغافل پر فدا،
سوتا ھے توُ
دردِ اُلفت کی اَسیر
تیری ریتوں کو اگر میں بوسہ دُوں
ھے یہی اِک آرزوُ،
ایک جُنبش، اِک نگاہ
اِک سرسراہٹ، ایک آہ
اے میرے دِل کے دیوتا!
میرے آئینے سے مسحوُرِ جمال،
تمتما اُٹھتے ھیں تارے،
گم سے ھو جاتے ھیں دَم بھر کے لیے
منعکس ھے میرے دامن میں فروغِ ماہتاب
خوشہء پرویں کہ ھے شادابِ خوُن آفتاب
پانیوں میں لہلہاتا ھے عجب انداز سے،
حُسنِ ایمن کی بہار
یاد ھے چشمِ کلیم؟
میرے دِل کے دیوتا!
سونے کو ھوُں،
ایک جُنبش، اِک نگاہ
اِک سرسراہٹ، ایک آہ
اے میرے دِل کے دیوتا!
…………
