چراغ راہ گزر لاکھ تابناک سہی
جلا کے اپنا دیا روشنی مکان میں لا
….
اکبر حیدر آبادی کا یومِ وفات
(پیدائش: 20 جنوری 1925ء – وفات: 7 اکتوبر 2014ء)
——
منتخب کلام
——
ادا ہو قرضِ جمال مجھ سے یہ بات وہم و خیال کی ہے
میں منفرد لفظ ڈھونڈتا ہوں کہ مدح اُس بے مثال کی ہے
——
دولت ملی ، مکان ملا ، نوکری ملی
شہرت ملی، وقار ملا ، دوستی ملی
اک جسم تھا کہ جس کوملیں ساری نعمتیں
اک روح تھی کہ جس کو فقط تشنگی ملی
——
یوں بھی اک جشن آرزو کرنا ، دل کو رو رو لہو لہو کرنا
جن سے اک آشنا مہک آئے ،ان ہواؤں سے گفتگو کرنا
——
ہے کیا فنا میں بھی رنگِ ثبات، سوچتا ہوں
حیات ہے کوئی بعد حیات ؟ سوچتا ہوں
——
ہر لحظہ مری ذات کی تشکیل و نمو میں
ہر موڑ پہ تاریخ کے دھارے ہیں مرے ساتھ
——
کسی سے پہلے پہل ہم جوآشنائے گئے
امید و بیم کے کتنے دیے جلائے گئے
کسے خبر کہ پرستش کے ہیں عوامل کیا
نہ جانے کیسے صنم تھے کہ جو خدائے گئے
کہاں وہ پہلا سا احساس گرم و سرد اکبر
کہ اب مزاج ہمارے بھی موسمائے گئے
——
اے چرخ اپنا مد مقابل مجھے سمجھ
میں عقل بھی ہوں تو نہ فقط دل مجھے سمجھ
اکبر نہ ڈھونڈو مجھ کو حدوں کے حصار میں
رہتی ہے جو سفر میں وہ منزل مجھے سمجھ۔
——
تاج محل کا حسن امر ہے لیکن یہ شہکار
جس کا ہُنر ہے ، اس کا ہی احوال نہیں ملتا
——
نفرتوں کے سائے بھی پیچ دار تھے لیکن
دور دور تک پہنچی روشنی محبت کی
——
وہ آدمی جو نئے ذہن کی علامت ہے
اس آدمی ہی کو اب رہنما بنا کے چلیں
——
عکس نادیدہ زمانوں کے ابھرتے ہی رہے
منعکس کیا مرے اندر کوئی آئینہ تھا
——
اچانک آ گیا فنا کا موڑ راہ میں
مسافتِ حیات جیسے ایک جست تھی
——
اُن حقائق کا بھی تھا دل سے علاقہ کوئی
میں پرکھتا تھا جنہیں عقل کے پیمانے سے
——
ہے میری روح میں مٹی کی تشنگی اکبرؔ
سمندروں سے جو رکھتی ہے ہمکنار مجھے
——
کب تک یونہی غم روح کی خلوت میں پلے گا
کب تک مرے ہمراہ یہ آسیب چلے گا
——
مرحلہ اپنی شناسائی کا آساں ہو جائے
مجھ میں جو شخص چھپا ہے وہ نمایاں ہو جائے
——
سایوں سے بھی ڈر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
جیتے جی ہی مر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی
خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
بجھے دلوں کو روشن کرنے سچ کو زندہ رکھنے
جان سے اپنی گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
عقل و خرد کے بل بوتے پر سب کو حیراں کر کے
کام انوکھے کر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ
ہو بے لوث محبت جن کی غنی ہوں جن کے دل
دامن سب کے بھر جاتے ہیں ایسے ایسے لوگ
——
جن کے نصیب میں آب و دانہ کم کم ہوتا ہے
مائل ان کی سمت زمانہ کم کم ہوتا ہے
رستے ہی میں ہو جاتی ہیں باتیں بس دو چار
اب تو ان کے گھر بھی جانا کم کم ہوتا ہے
مشکل ہی سے کر لیتی ہے دنیا اسے قبول
ایسی حقیقت جس میں فسانہ کم کم ہوتا ہے
کبھی جو باتیں عشق کے سال و سن کا حاصل تھیں
اب ان باتوں کا یاد آنا کم کم ہوتا ہے
رند سبھی ساغر پر ساغر چھلکاتے جاتے ہیں
کیوں لبریز مرا پیمانہ کم کم ہوتا ہے
بات پتے کی کر جاتا ہے یوں تو کبھی کبھی
ہوش میں لیکن یہ دیوانہ کم کم ہوتا ہے
کتنی مقدس ہوگی اکبرؔ اس بچے کی پیاس
جس کی اک ٹھوکر سے روانہ زمزم ہوتا ہے
…………………………








