جانے مرے گناہ میں کیسی ہے سادگی زاہد سمجھ رہا ہے ا…


جانے مرے گناہ میں کیسی ہے سادگی
زاہد سمجھ رہا ہے ابھی پارسا مجھے
…
حسنؔ_کاظمی کا یومِ ولادت
07؍اکتوبر 1960
نام سیّد_قمرالحسن_کاظمی اور تخلص حسنؔ_کاظمی ہے۔ حسنؔ کاظمی 07؍اکتوبر 1960ء کو کانپور میں سیّد_صدرالحسن کے یہاں پیدا ہوئے۔
حسنؔ کاظمی کے یومِ ولادت پر ان کے اشعار
..
جانے مرے گناہ میں کیسی ہے سادگی
زاہد سمجھ رہا ہے ابھی پارسا مجھے
—-
باسی روٹی سینک کر جب ناشتے میں ماں نے دی
ہر امیری سے ہمیں یہ مفلسی اچھی لگی
—-
خوبصورت ہیں آنکھیں تری، رات کو جاگنا چھوڑ دے
خود بہ خود نیند آجائے گی، تو مجھے سوچنا چھوڑ دے
—-
بھٹک گیا جو کبھی زندگی کی راہوں میں
ترے خیال نے اس وقت رہبری کی ہے
—-
کیا زمانہ ہے کبھی یوں بھی سزا دیتا ہے
مرا دشمن مجھے جینے کی دعا دیتا ہے
اپنا چہرہ کوئی کتنا بھی چھپائے لیکن
وقت ہر شخص کو آئینہ دکھا دیتا ہے
—-
میں تری آنکھ میں آنسو کی طرح رہتا ہوں
جلتے بجھتے ہوئے جگنو کی طرح رہتا ہوں
سب مرے چاہنے والے ہیں مرا کوئی نہیں
میں بھی اس ملک میں اردو کی طرح رہتا ہوں
—-
ہم نے سنا ہے نیل گگن پر قدرت رہتی ہے
لیکن ماں کے پاؤں کے نیچے جنت رہتی ہے
—-
دوستی کی کوئی قیمت نہیں ملنے والی
بے وفا تجھ سے محبت نہیں ملنے والی
ماں کے قدموں کے تلے ڈھوندھ لے جنت اپنی
ورنہ تجھ کو کہیں جنت نہیں ملنے والی
—-
چھائی ہوئی ہے ذہن پہ شامِ اودھ کی یاد
‏راس آئے کیسے دلی کی آب و ہوا مجھے
—-
طبیعت میری گھبرانے لگی ہے
وہ صورت مجھکو یاد آنے لگی ہے
ابھی تو رات کا پہلا پہر ہے
ابھی سے نیند کیوں آنے لگی ہے
—-
بچھڑ کے خود کو بھلا کس طرح سنبھالیں گے
وہ مل گیا تو کوئی راستہ نکالیں گے
دلِ عزیز ذرا چند روز صبر تو کر
وہ باوفا ہے تو اس کو بھی آزما لیں گے
…………………