پرندہ تو بس پرندہ تھا
شاعرہ: فروغ فرخ زاد (ایران)
مترجم : احمد شہریار (کوئٹہ)
*
پرندے نے کہا: "کیا خوشبو ہے! کیا روشنی ہے!
آہا!
موسم بہار آگیا ہے!
اب میں
اپنی جوڑی کی تلاش میں نکلوں گا!”
پردہ ڈیوڑھی سے اُاڑا،
… More
ایک پیغام کی مانند
اُڑا
اور چلا گیا
وہ ننھا سا پرندہ!
پرندہ سوچتا نہیں تھا
پرندہ اخبارات نہیں پڑھتا تھا
پرندے پر کسی کا ادھار نہیں تھا
پرندہ لوگوں سے واقف نہیں تھا
پرندہ
ہواؤں میں،
لال بتیوں کے اوپر ہی اوپر،
کہیں بے خبری کی بلندیوں میں
اُڑ رہا تھا
اور تمام تر نیلے لمحوں کا
تجربہ کررہا تھا
دیوانہ وار!
آہ! پرندہ تو بس ایک پرندہ تھا!
*
فروغ فرخ زاد
پیدائش : 1934ء تہران
وفات: 1966ء تہران
تخلیقات : اسیر (قیدی)، دیوار (دیوار)، عصیان (گناہ)، تولدی دیگر (دوسرا جنم)، ایمان بیاوریم بہ آغاز فصل سرد (سرد موسم کے آغاز پر ایمان لے آئیں)
*
مشمولہ:
کتاب: عشق قابیل ھے (بیسویں صدی کی ایرانی شاعرات)
انتخاب: فریبا یوسفی
فارسی سے اردو ترجمہ : احمد شہریار
پبلیشر: صریر پبلیکیشنز، راولپنڈی (رابطہ نمبر 03165167241)
قیمت : 680، صفحات : 160

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3016442181919628

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔