رہنے کو کیا برا ہے جو جنت میں گھر ملے – مرزا عزیز بیگ سہارنپوری (مخمس بر غزلِ غالب)
….
رہنے کو کیا برا ہے جو جنت میں گھر ملے
پھر تو جناں جناں ہے وہاں تو اگر ملے
آرام دل کو جلوۂ رخ دیکھ کر ملے
"تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
حورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے”
اس طرح کر چھپا کے خبر دفن…

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔