پاکستان کو وجود میں آئے ابھی صرف 12 برس ہوئے تھے اور اُس دور میں کسی پاکستانی لڑ…


پاکستان کو وجود میں آئے ابھی صرف 12 برس ہوئے تھے اور اُس دور میں کسی پاکستانی لڑکی کا جہاز اڑانے کا خواب دیکھنا غیر معمولی بات تھی۔ مگر لاہور کی ایک نوجوان لڑکی نے صرف یہ خواب دیکھا ہی نہیں بلکہ اسے حقیقت بھی بنا دیا۔ اس کا نام شکریہ نیاز علی تھا، جنہیں دنیا بعد میں شکریہ خانم کے نام سے جاننے لگی۔ 12 جولائی 1959 کو انہوں نے کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا اور یوں پاکستان کی پہلی خاتون بن گئیں جن کے پاس باقاعدہ کمرشل جہاز اڑانے کی اہلیت موجود تھی۔ اس وقت ان کی عمر صرف چوبیس برس کے قریب تھی۔

شکریہ خانم نے لاہور کے والٹن ہوائی اڈے پر پرواز کی تربیت حاصل کی تھی۔ اُس زمانے کی ایک نوجوان پاکستانی عورت کا تنہا جہاز کے کاک پٹ میں بیٹھنا آج شاید اتنی حیرت کی بات محسوس نہ ہو، لیکن ساٹھ کی دہائی شروع ہونے سے پہلے کا معاشرہ ذہن میں رکھیے۔ عورتوں کے لیے بہت سے پیشے ابھی بند دروازوں کی طرح تھے اور ہوا بازی تو تقریباً مکمل طور پر مردوں کا میدان سمجھی جاتی تھی۔ شکریہ نے یہ دروازہ کھول تو دیا، مگر ایک عجیب مشکل ان کی منتظر تھی۔ ان کے پاس لائسنس تھا، تربیت تھی اور جہاز اڑانے کی صلاحیت بھی، لیکن اُس وقت پی آئی اے کے قواعد خواتین کو مسافر بردار کمرشل طیارے اڑانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

یہ شکریہ خانم کی کہانی کا شاید سب سے دلچسپ اور تکلیف دہ حصہ ہے۔ پاکستان کی پہلی خاتون کمرشل پائلٹ کمرشل پرواز کی کپتان نہیں بن سکتی تھیں۔ مگر انہوں نے اس رکاوٹ کو اپنے اور آسمان کے درمیان آخری دیوار نہیں بننے دیا۔ وہ پی آئی اے کے تربیتی شعبے سے وابستہ ہوئیں اور نئے پائلٹوں کی تربیت کرنے لگیں۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس عورت کو خود مسافر طیارہ اڑانے کی اجازت نہیں تھی، وہ ان مردوں کو پرواز سکھا رہی تھی جو بعد میں انہی طیاروں کے کاک پٹ میں بیٹھنے والے تھے۔

شکریہ خانم نے پرواز سے اپنا تعلق کراچی فلائنگ کلب کے ذریعے بھی قائم رکھا۔ وہ چھوٹے جہاز اڑاتی تھیں اور لوگوں کو تفریحی پروازوں پر لے جاتی تھیں۔ ان سے جڑی 1966 کی ایک یاد بھی بیان کی جاتی ہے جب ایک خاندان اپنے بچوں کو جہاز کی سیر کرانے کراچی فلائنگ کلب پہنچا۔ ان کے لیے شاید سب سے حیران کن بات جہاز میں بیٹھنا نہیں بلکہ یہ جاننا تھی کہ اسے اڑانے والی ایک پاکستانی خاتون ہے۔ وہ شکریہ خانم تھیں۔ جس معاشرے میں خاتون پائلٹ کا تصور ہی نیا تھا، وہاں وہ حقیقت میں آسمان پر پرواز کررہی تھیں۔

وقت گزرا اور پاکستان میں خواتین کے لیے ہوا بازی کے دروازے آہستہ آہستہ کھلنے لگے۔ شکریہ خانم کے تقریباً تین دہائی بعد جب نئی پاکستانی خواتین نے اس شعبے کا رخ کیا تو ان کے سامنے ایک ایسا نام پہلے سے موجود تھا جس نے ثابت کردیا تھا کہ عورت جہاز اڑا سکتی ہے۔ بعد میں پی آئی اے کی نمایاں خاتون پائلٹ بننے والی عائشہ رابعہ کی شکریہ خانم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے نئی نسل کی اس پائلٹ کو پیشہ ورانہ صلاحیت پر توجہ رکھنے اور اپنے کام سے خود کو ثابت کرنے کا مشورہ دیا۔ شاید شکریہ جانتی تھیں کہ آنے والی خواتین کو بھی صرف جہاز نہیں اڑانا ہوگا، انہیں بہت سی پرانی سوچوں سے بھی اوپر اٹھنا ہوگا۔

2005 میں عائشہ رابعہ نے ایک باقاعدہ مسافر پرواز کی کپتانی کرکے پاکستانی ہوا بازی میں ایک اور تاریخ رقم کی۔ وہ منزل جو شکریہ خانم اپنی قابلیت کے باوجود اپنے دور کے قواعد کی وجہ سے حاصل نہ کرسکی تھیں، آنے والی نسل کی ایک عورت نے حاصل کرلی۔ یہی شاید کسی بھی پہلی عورت کی جدوجہد کا سب سے خوبصورت نتیجہ ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ جو شخص دروازہ کھولے، وہ خود اس کے پار بھی جاسکے؛ کبھی کبھی اس کی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ اس کے بعد آنے والوں کو وہ دروازہ بند نہ ملے۔

14 مئی 2017 کو شکریہ خانم 82 برس کی عمر میں لاہور میں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ انہیں وہ شہرت شاید کبھی نہیں ملی جو ان کے کارنامے کے حساب سے ملنی چاہیے تھی، مگر پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ میں ان کا نام مٹایا نہیں جاسکتا۔ آج جب کوئی پاکستانی خاتون پائلٹ سینکڑوں مسافروں کو لے کر جہاز کو رن وے سے اٹھاتی ہے تو اس سفر کے بہت پیچھے ایک چوبیس سالہ لڑکی بھی کھڑی دکھائی دیتی ہے جس نے 1959 میں ایک ایسے وقت میں جہاز اڑانا سیکھ لیا تھا جب معاشرہ ابھی یہ طے کررہا تھا کہ عورتوں کو کن کن جگہوں تک جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

شکریہ خانم شاید اپنے دور میں مسافر طیارے کی کپتان نہ بن سکیں، مگر انہوں نے پاکستانی عورت کے لیے آسمان کی حد ضرور کچھ اور اونچی کردی۔













Source