پاس اب کوئی ہم نشیں بھی نہیں کوئی بھی تو نہیں، …

پاس اب کوئی ہم نشیں بھی نہیں
کوئی بھی تو نہیں، کہیں بھی نہیں

آپ سا کوئی نازنیں بھی نہیں
اور جھکانے کو وہ جبیں بھی نہیں

کس سے اب گھر کا راستا پوچھیں
اب تیرے نقش پا کہیں بھی نہیں

اک تری ہاں کے منتظر تھے ہم
اور ترے لب پہ تو نہیں بھی نہیں

سُوے افلاک سیر کو نکلے
جن کے پیروں تلے زمیں بھی نہیں

دستِ وحشت نے یوں کیا رسوا
جیب و دامان و آستیں بھی نہیں

شیخ صاحب سے دوستی بھی رہی
ان کی باتیں کبھی سنیں بھی نہیں

(طاہر زیدی )

— with Syed Tahir Raza Zaidi.