وہ مکہ جانے کی تیاری کر رہے تھے…
قافلہ تیار تھا، سامان بندھ چکا تھا، اور دل میں وہی تڑپ تھی جو ہر سچے مسافرِ حج کے دل میں ہوتی ہے۔
یہ عبداللہ بن مبارک تھے—علم، تجارت اور عبادت… تینوں کا حسین امتزاج۔
راستہ لمبا تھا… مگر نیت صاف تھی۔
لیکن بعض اوقات… راستے منزل بدل دیتے ہیں۔
ایک سنسان مقام پر قافلہ رکا۔
ہوا میں عجیب سی خاموشی تھی… جیسے کچھ ہونے والا ہو۔
اچانک ان کی نظر ایک عورت پر پڑی..
وہ کچرے کے ڈھیر کے پاس بیٹھی تھی… ہاتھ کانپ رہے تھے… اور وہ ایک مردہ پرندہ اٹھا رہی تھی۔
یہ منظر عام نہیں تھا۔
ابنِ مبارکؒ رک گئے۔
دل نے قدموں کو روک لیا۔
وہ قریب گئے اور نرمی سے پوچھا،
“بہن… یہ تم کیا کر رہی ہو؟”
عورت نے سر نہیں اٹھایا… آواز میں ٹوٹن تھی،
“کئی دن سے بھوکے ہیں… بچے ہیں… کچھ نہیں بچا… یہ بھی اللہ کی دی ہوئی چیز ہے…”
یہ جملہ نہیں تھا… ایک زخم تھا… جو سیدھا دل پر لگا۔
قافلہ آگے بڑھ سکتا تھا…
حج ہو سکتا تھا…
عبادت مکمل ہو سکتی تھی…
لیکن انسانیت ادھوری رہ جاتی۔
ابنِ مبارکؒ نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔
وہ اپنے ساتھیوں کی طرف مڑے اور کہا،
“جو کچھ ہمارے پاس ہے… سارا اسی عورت کو دے دو۔”
ساتھی چونک گئے،
“سارا؟ پھر حج؟”
انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا… جیسے وہاں سے جواب آ رہا ہو،
“آج اللہ نے ہمیں یہاں اسی لیے روکا ہے… یہی ہمارا حج ہے۔”
سامان اُتر گیا…
سکے بانٹ دیے گئے…
راشن دے دیا گیا…
اور ایک ماں کے ہاتھ کانپنا بند ہو گئے۔
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے… مگر وہ شکر کے آنسو تھے۔
قافلہ واپس لوٹ آیا۔
ظاہری طور پر حج نہ ہو سکا…
مگر کچھ وقت بعد لوگوں نے عجیب خواب دیکھے—
وہی ابنِ مبارکؒ، وہی لباس، وہی طواف…
لوگ حیران تھے۔
تب سمجھ آیا…
اللہ کے ہاں نیت اور عمل کا حساب زمین کے حساب سے مختلف ہوتا ہے۔
یہ واقعہ صرف تاریخ کا ایک ورق نہیں…
یہ دل پر لکھی جانے والی ایک سچائی ہے۔
(حوالہ: سیر اعلام النبلاء، حلیۃ الاولیاء)
سخی وہ نہیں جو بچا ہوا بانٹ دے…
سخی وہ ہے جو اپنی منزل قربان کر دے… کسی اور کی بھوک کے لیے۔
اور شاید اسی لیے…
جو اللہ کے بندوں میں بانٹتا ہے
وہ کبھی خالی نہیں لوٹتا۔