وہ رات کو چُھپ کر محمد ﷺ کی آواز میں قرآن سنتے تھے…


وہ رات کو چُھپ کر محمد ﷺ کی آواز میں قرآن سنتے تھے…!

مکہ سو رہا تھا۔

گلیاں خاموش تھیں، گھروں کے چراغ بجھ چکے تھے، مگر ایک گھر سے قرآن کی آواز آ رہی تھی…

محمد ﷺ قرآن پڑھ رہے تھے۔

اور عجیب بات یہ تھی کہ جن دلوں نے دن کے اجالے میں اس آواز کی مخالفت کا عہد کر رکھا تھا، وہی دل رات کے اندھیرے میں اسی آواز کے پیچھے کھنچے چلے آتے تھے۔

ایک رات ابوجہل چپکے سے نکلا۔

اسے کسی نے نہیں دیکھا۔

وہ قریب جا کر بیٹھ گیا… اور خاموشی سے قرآن سنتا رہا۔

مگر وہ اکیلا نہیں تھا۔

اسی رات ابوسفیان بھی چھپ کر قرآن سننے آیا تھا۔

اور اخنس بن شریق بھی۔

تینوں ایک دوسرے سے بے خبر، اندھیرے میں چھپے بیٹھے رہے…

اور صبح ہونے تک محمد ﷺ کی زبانِ مبارک سے قرآن سنتے رہے۔

جب واپس جانے لگے تو راستے میں تینوں کا سامنا ہوگیا۔

ایک دوسرے کو دیکھا تو جیسے راز کھل گیا۔

پوچھا:

"تم یہاں کیا کر رہے تھے؟”

بات سمجھ آ گئی۔

تینوں نے ایک دوسرے سے کہا:

"دوبارہ یہاں نہیں آئیں گے۔ اگر قریش کے نوجوانوں کو خبر ہوگئی تو وہ بھی اس قرآن کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔”

وعدہ ہوگیا۔

مگر اگلی رات…

ہر ایک نے اپنے دل سے کہا:

"وہ دونوں تو نہیں آئے ہوں گے… میں ذرا سن ہی آتا ہوں۔”

اور تینوں پھر وہاں موجود تھے۔

پھر صبح ہوئی۔

پھر راستے میں ملاقات ہوئی۔

پھر شرمندگی۔

پھر ملامت۔

اور پھر وہی وعدہ:

"اب کبھی نہیں آئیں گے!”

لیکن تیسری رات…

وہ پھر آگئے۔

قرآن کی آواز کے سامنے ان کے قدم بار بار شکست کھا رہے تھے۔

تین راتیں…

تینوں چھپ کر قرآن سنتے رہے۔

آخر ایک دن اخنس بن شریق نے ابوسفیان سے پوچھ ہی لیا:

"تم نے محمد ﷺ سے جو قرآن سنا، اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟”

ابوسفیان نے کہا:

"اللہ کی قسم! میں ان باتوں کو پہچانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی سمجھتا ہوں… مگر کچھ باتیں ایسی ہیں جنہیں میں سمجھ نہیں سکا۔”

اخنس نے کہا:

"اللہ کی قسم! میری بھی یہی حالت ہے۔”

پھر اخنس ابوجہل کے پاس گیا۔

اس سے بھی یہی سوال کیا:

"تم نے محمد ﷺ سے جو سنا، اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟”

ابوجہل نے حقیقت جانتے ہوئے بھی جو جواب دیا، وہ تاریخ کے صفحات پر اس کی سب سے بڑی شکست بن گیا۔

اس نے کہا:

"ہم اور بنو عبد مناف ہمیشہ عزت اور بڑائی میں ایک دوسرے کے مقابل رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو کھانا کھلاتے تو ہم بھی کھلاتے۔ وہ سخاوت کرتے تو ہم بھی کرتے۔ یہاں تک کہ اب وہ کہنے لگے کہ ہمارے پاس ایک نبی ہے جس پر آسمان سے وحی آتی ہے۔”

پھر اس نے وہ جملہ کہا جس میں اس کے پورے انکار کی حقیقت چھپی تھی:

"ہم اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔”

سوچیے…

اسے قرآن اچھا لگتا تھا۔

وہ چُھپ کر اسے سنتا تھا۔

اس کے الفاظ کو پہچانتا تھا۔

اس کا اثر محسوس کرتا تھا۔

مگر ایمان کے راستے میں ایک چیز کھڑی تھی:

تکبر۔

اور کبھی کبھی انسان حق سے اس لیے محروم نہیں ہوتا کہ اسے حق دکھائی نہیں دیتا…

بلکہ اس لیے کہ حق مان لینے سے اس کی انا چھوٹی ہو جاتی ہے۔

یہی تو ابوجہل کا المیہ تھا۔

قرآن دل تک پہنچ گیا تھا، مگر تکبر نے دل کا دروازہ کھولنے نہ دیا۔

اور آج بھی سوال یہی ہے:

ہم قرآن کو صرف سنتے ہیں…

یا اسے اپنے اندر اترنے بھی دیتے ہیں؟

اللہ ہمیں قرآن سن کر پہچان لینے والوں میں نہیں،
قرآن پہچان کر اس پر ایمان لانے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔ 🤍

📖 تفسیر ابن کثیر، واقعۂ عتبة بن ربیعہ وغیرہ کے ضمن میں منقول روایت