بات ہورہی ہے آج ٹیچرز ڈے پہ ٹیچرز کی تو پچھلے دنوں نظر سے گزری ایک خبر یاد آ گئ ۔
بھارتی ریاست آندھرا پر دیش کے شہر وکاشہ پٹنوں میں ایک استانی نے چھ سال کے بچے کو کلاس روم میں ایک ہلکا سا تھپڑ مارا اور اس تھپڑ کے نتیجے میں وہ بچہ اپنی جان سے چلا گیا ۔ یہ ایک معمولی سا تھپڑ تھا جو سی سی ٹی وی کے کیمرے میں ریکارڈ ہوگیا ۔ٹیچر نے صرف ایک تھپڑ ہی لگایا تھا لیکن بچے کیلئے یہ بہت بڑا سانحہ تھا شاید کہ خوف اور صدمے سے اس کو دل کا دورہ پڑ گیا ۔۔۔۔۔۔
اس سے مجھے اپنی جماعت کا ایک واقعہ بھی یاد اگیا تب میں چھٹی کلاس کی طالبہ تھی ایک دن استانی صاحبہ نے فرمایا تمام بچیاں اپنی کاپیاں نکال کر اپنی اپنی میز پہ رکھ دیں تاکہ وہ سب کا ہوم ورک چیک کر سکیں۔ میں بھی اپنے بستے سے کاپی نکالنے لگی کہ اتنے میں میرے ساتھ بیٹھی طالبہ نے مجھ سے کوئی بات کی اور میں اس کی بات سننے لگ گئی ، میرے چہرے پہ مسکراہٹ تھی ۔ اس دوران میں قریب اتی ٹیچر کو بالکل نہیں دیکھ سکی ، ہوش مجھے تب آیا جب میرے چہرے پہ ایک زوردار تھپڑ پڑا میں ظاہر ہے اس اچانک حملے کیلئے بالکل تیار نہیں تھی اس تھپڑ کی گونج اس قدر زیادہ تھی کہ پوری کلاس میں سناٹا چھا گیا تھا میں کلاس کی نہایت کم گو اور فرمانبردار سی لڑکی تھی ۔ کبھی مار تو کیا ڈانٹ بھی نہیں کھائی تھی ۔ ٹیچر نے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ میں سب کو کاپیاں نکالنے کا کہہ رہی ہوں اور اپ باتوں میں مصروف ہیں۔ تھپڑ پڑتے ہی میری انکھوں سے انسو بہنا شروع ہو گئے ، ہچکیاں بندھ گئیں اور اس کے ساتھ ہی شاید صدمے سے میرے ہاتھ بھی مڑنا شروع ہو گئے میرے ساتھ بیٹھی میری دوست نے ٹیچر کو متوجہ کیا تو ٹیچر نے ایک نظر دیکھا اور کہنے لگیں یہ سب ڈرامے ہیں ابھی ٹھیک ہو جائے گی کچھ دیر رونے کے بعد میں واقعی ٹھیک تو ہو گئی لیکن اس تھپڑ کو کبھی بھلا نہیں سکی ۔
اگرچہ آجکل زیادہ تر سکولوں میں مار پیٹ سے اجتناب کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی کئی سکولوں میں یہ طریقہ رائج ہے پچھلے دنوں میرے بھانجے کیساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا اور اس بچے نے سکول جانے سے ہی انکار کردیا تھا ۔ بڑھتے ہوئے بچوں میں اپنی شخصیت اور عزت نفس کیلئے حساسیت پیدا ہوجاتی ہے اساتذہ کو اس چیز کا بہت خیال رکھنا چاہیے ۔ ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ معصوم دلوں اور ذہنوں پہ ہمیشہ کیلئے نقش ہوجاتی ہے ۔ اور انہیں پڑھائی سے باغی کرنے کیساتھ ساتھ نفسیاتی طور پہ نقصان پہنچا سکتی ہے ۔
کیا آپ کو کبھی دور طالب علمی میں مار پڑی ؟؟










Source
