وہ جزبوں کی تجارت تھی، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
اُسے ہنسنے کی عادت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
اُس نے کہا مجھ سے ــــــــــ آؤ نئی دُنیا بساتے ہیں
اُسے سوجھی شرارت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
ہمیشہ اُس کی آنکھوں میں دَھنک سے رنگ ہوتے تھے
یہ اُس کی عام حالت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
وہ میرے پاس بیٹھی دیر تک، غزلیں میری سنتی رہی
اُسے خود سے محبت تھی، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا
… More
![]()
![]()
