والعصر
نظم پہلی اکائی سے نکلی ہوئی
روشنی کا جھماکا ھے جو روشنی
اگلا امکان تھی
نظم پہلے پہل جو تھی حیوان تھی
نظم چلتی گئی
اور قرنوں چلی
تیرنے بھی لگی
رینگنے بھی لگی
پھر یہ گھٹنوں چلی اور کھڑی ھو گئی
اب یہ انسان ھے
خود پہ حیران ھے
وہم تھی اب تیقّن ھے ایقان ھے
نظم حرفِ دعا نظم قرآن ھے
نظم گیتا ہے انجیل ھے وَید ھے
نظم اک بھید ھے
بھید جس پر کھلے
نظم جس کو ملے
وہ مسیحا بنے
نظم سینے میں جس کے بھی اترے
پڑھے
اور پڑھنے لگے
اوّلیں اِسم کو
جس نے پیدا کیا خونِ بستہ سے
انسان کو
نظم تجسیم ھوتا ھُوا جسم ھے
جسم کی جان ھے
یہ وہ میزان ھے
جس پہ قائم ھوئے ہیں زمان و مکاں
ہفت افلاک بھی
تودۂ خاک بھی
تودۂ خاک یعنی کہ میں اور تم
یعنی میں اور تم
نظم کی لائینیں..
جو مسلسل بدلتی چلی جا رہی ہیں کسی نظم میں
ان کی بےربطگی
ربط کے واھمے
سے انہیں جوڑ رکھتی ھے اک وقت تک
اور پھر
اپنے عنوان سے
منحرف ھو کے مٹتی ھوئی لائینیں
لائینیں…….. لائینیں…………….. یعنی ہم………..!
عمار اقبال
