🟣 نعت رسول مقبول ﷺ 🟣
مسجد نبوی تو ہی بتا کچھ سماں وہ کیسا پیارا ہوگا
صحن میں آقا ﷺ بیٹھے ہوں گے، گرد اصحاب کا حلقہ ہوگا
دو جگ کے مختار ﷺ کی باتیں دین و دانش کی سوغاتیں
اس محفل میں ان پھولوں سے ہر کوئی دامن بھرتا ہوگا
بزمِ نبوت ﷺ میں صدیق بھی، فاروق و عثمان و علی بھی
چاروں یار ستارے ہوں گے بیچ میں چاند ﷺ چمکتا ہوگا
ان جلوؤں کے دن بھی تیری یاد کا حصہ ہوں گے جن میں
حسن حسین کا بچپن ، نانا ﷺ کی گودی میں کھیلا ہوگا
تو نے اپنے دروازے پر وہ بھی بچے دیکھے ہوں گے
جن بچوں نے پیار سے اکثر نبی ﷺ کا دامن تھاما ہو گا
قربِ حضور ﷺ میں اہلِ مدینہ کیسی راحت پاتے ہوں گے
دلِ اویس غمِ فرقت سے صبح و شام تڑپتا ہوگا
ارضِ مدینہ! بانگِ بلال سے تیری فضا جب گونجتی ہو گی
اس کے سرور و سوز کی رو میں ہر کوئی بہہ جاتا ہوگا
بہرِ شفاعت جب بھی دعا کو حضرت ﷺ ہاتھ اُٹھاتے ہوں گے
عرشِ مشیت بہرِ اجابت طیبہ پر جھک جاتا ہوگا
اُمتِ مرسل ﷺ میں ہوں طرب! اور اس رشتے پر نازاں ہوں
اس کی قسمت کا کیا کہنا جو محفل میں بیٹھا ہو گا
(طرب احمد صدیقی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
