💥 جس عورت نے اٹھارہ سال تک میرے لیے ہر عید پر سویاں بچا کر رکھیں، میں نے کبھی نہیں پوچھا کہ اسے خود سویاں پسند بھی ہیں یا نہیں۔ مجھے یہ بات ایک اجنبی کی بیوی سے متعلق سن کر سمجھ آئی۔ 🥹💔
اس شام بیکری کے باہر کھڑے آدمی کے ہاتھ میں جلیبیوں کا لفافہ تھا، اور میرے اندر ایک عجیب احساس پیدا ہو رہا تھا۔
وہ شفیق صاحب تھے، ہمارے محلے کے ان چند لوگوں میں سے ایک جنہیں دیکھ کر آدمی کو اپنے لہجے پر خودبخود قابو آ جاتا ہے۔ عمر پچپن کے لگ بھگ، سر کے بال سفید، قمیص کی جیب میں دو قلم اور چہرے پر ایسی تھکن جو صرف دفتر کے اوقات سے پیدا نہیں ہوتی۔
میں نے ان کے ہاتھ میں لفافہ دیکھا تو پوچھ لیا، ’’آج گھر میں میٹھا نہیں بنا؟‘‘
وہ مسکرائے۔
’’بنا تو ہوگا، مگر یہ اپنی بیگم کے لیے لے جا رہا ہوں۔‘‘
’’خیر ہے؟‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا، ’’ لگتا ہے آج کوئی خاص دن ہے؟‘‘
’’نہیں، آج دفتر میں جلیبیاں کھائی تھیں۔‘‘
انہوں نے لفافے کا منہ ذرا سا کھولا۔ اندر چاشنی سے چمکتی جلیبیاں ایک دوسرے سے لگی ہوئی تھیں۔
’’ساتھیوں نے منگوائی تھیں۔ میں نے دو کھائیں۔ پھر خیال آیا، زرینہ کو بھی پسند ہیں۔ سوچا، اس کے لیے بھی لے جاؤں۔‘‘
میں نے بے ساختہ کہا، ’’ارے، وہ کہتیں تو منگوا لیتے۔‘‘
شفیق صاحب نے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں مسکراہٹ تو تھی، مگر اس بار وہ ہونٹوں تک نہیں پہنچی۔
’’کچھ چیزیں آدمی مانگ سکتا ہے، کچھ مانگتے ہوئے اسے اپنا قد چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔‘‘
میں نے پہلی بار ان کے ہاتھ میں موجود لفافے کو غور سے دیکھا۔
’’جلیبی بھی؟‘‘
’’نہیں، ۔ اپنے لیے جلیبی مانگنے کی نوبت آ جائے تو سمجھ لو، گھر میں سب کچھ ہے، بس آدمی کی اپنی جگہ نہیں رہی۔‘‘
وہ موٹر سائیکل کی طرف بڑھ گئے۔
میں بیکری کے شیشے میں اپنا عکس دیکھتا رہا۔
میرے ہاتھ میں بھی ایک شاپر تھا۔ اس میں بچوں کے لیے بسکٹ، دودھ اور میرے لیے سگریٹ کے بجائے رکھی گئی الائچی والی سونف تھی۔ مگر بیوی کے لئے؟
اس شاپر میں گھر کے سب لوگوں کا خیال تھا۔
سوائے اس عورت کے، جسے میں گھر سمجھتا تھا۔
میری بیوی کا نام مہرالنسا ہے، مگر گھر میں سب اسے مہرو کہتے تھے۔
وہ ان عورتوں میں سے ہے جو چیزیں ختم ہونے سے پہلے ان کی کمی محسوس کر لیتی ہیں۔ آٹے کا ڈبہ خالی ہونے سے دو دن پہلے راشن کی فہرست میں آ جاتا، بچوں کے جوتے تنگ ہونے سے پہلے نئے جوتوں کے پیسے الگ ہو جاتے، اور میری قمیص کا بٹن ٹوٹنے سے پہلے ہی اس کے تکیے کے نیچے سوئی دھاگا رکھا ہوتا۔
اس کی اپنی چیزوں کا حساب کبھی مکمل نہیں ہوتا تھا۔
عید سے ایک ہفتہ پہلے میں نے پوچھا تھا، ’’تم نے اپنے کپڑے لیے؟‘‘
اس نے بچوں کے کپڑوں پر لگے لیبل کاٹے اور کہا، ’’پچھلے سال کا جوڑا پڑا ہے۔ ذرا سا کام کروا لوں گی۔‘‘
میں نے اس کی بات مان لی۔
مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ پچھلے سال اس نے بھی یہی کہا تھا۔
اس شام جب میں گھر پہنچا تو مہرو باورچی خانے میں تھی۔ پریشر ککر کی سیٹی کے بعد ہانڈی میں چمچ چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ بچے میز پر بیٹھے اسکول کی کاپیاں کھولے ہوئے تھے۔
میں نے پوچھا، ’’مہرو، تمہیں جلیبیاں پسند ہیں؟‘‘
اس نے چولہے سے نظریں ہٹائے بغیر کہا، ’’کیوں؟‘‘
’’بس پوچھ رہا ہوں۔‘‘
’’بچپن میں بہت پسند تھیں۔ اب تو میٹھا کم کھاتی ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے ہانڈی کا ڈھکن بند کر دیا۔
میں نے محسوس کیا کہ اس نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا تھا۔ اس نے صرف ایک ایسی عورت کا ذکر کیا تھا جو کبھی تھی۔
اور مجھے پہلی بار یہ جاننے کی خواہش ہوئی کہ وہ عورت کہاں چلی گئی۔
اگلے دن دفتر میں ایک ساتھی کی ترقی کی خوشی میں مٹھائی بانٹی گئی۔ میں نے دو پیڑے کھائے، پھر تیسرا اٹھاتے ہوئے شفیق انکل یاد آ گئے۔
میں نے پیڑا واپس ڈبے میں رکھ دیا۔
شام کو گھر پہنچا تو مہرو بچوں کو کھانا کھلا رہی تھی۔ میری پلیٹ میں کھانا ڈالا، پھر چھوٹے بیٹے کی انگلیوں سے چاول صاف کیے۔ میں نے جیب سے چند نوٹ نکال کر میز پر رکھے۔
’’یہ رکھ لو۔ گھر کے خرچے کے لیے۔‘‘
اس نے نوٹ اٹھائے، گنے اور الماری کے ایک خانے میں رکھ دیے۔
’’اپنے لیے کچھ لے لینا،‘‘ میں نے کہا۔
اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا۔
’’کیا؟‘‘
میں نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا، مگر میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی۔
کپڑے؟ اس کے پاس کپڑے تھے۔
جوتے؟ ایک جوڑا تھا۔
زیور؟ شادی کے وقت کے دو کنگن اور ایک چین۔
میں نے ہمیشہ سمجھا تھا کہ اس کے پاس سب کچھ ہے، کیونکہ اسے کبھی کسی چیز کی کمی کا شکوہ کرتے نہیں سنا تھا۔
اب پہلی بار یہ خیال آیا کہ شاید اس نے شکوہ کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
اس رات میں نے مہرو سے کہا، ’’کل شام باہر چلتے ہیں۔‘‘
وہ حیران ہوئی۔
’’کہاں؟‘‘
’’کہیں بھی۔ کھانا کھائیں گے۔‘‘
اس نے پہلے بچوں کی طرف دیکھا، پھر کچن کی طرف۔
’’بچے؟‘‘
’’امی کے پاس رہ لیں گے۔‘‘
’’امی کی طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘
میں نے جھنجھلا کر کہا، ’’تو پھر کبھی سہی!‘‘
وہ خاموش ہو گئی۔
اور میں اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا، مطمئن کہ میں نے کوشش تو کی تھی۔
اگلی صبح میری آنکھ جلدی کھل گئی۔ مہرو سو رہی تھی۔ اس کے تکیے کے پاس ایک چھوٹی سی پرچی پڑی تھی، جس پر بچوں کی اسکول فیس، بجلی کا بل اور راشن کے پیسے لکھے تھے۔
سب سے نیچے ایک جملہ تھا:
اپنے لیے سینڈل لینے ہیں۔
اس جملے کے آگے سوالیہ نشان بنا ہوا تھا۔
میں نے پرچی واپس رکھ دی۔
شاید اسے خود بھی یقین نہیں تھا کہ اپنے لیے سینڈل خریدنا کوئی ضروری کام ہے۔
جمعے کی شام میں پھر اسی بیکری پر رکا۔
’’بھائی، آدھا کلو جلیبیاں دے دیں۔‘‘
دکاندار نے کاغذ کا لفافہ کھولا تو میں نے کہا، ’’ذرا الگ پیک کر دیں۔‘‘
’’کتنے حصے؟‘‘
میں نے ایک لمحہ سوچا۔
’’دو۔ ایک گھر والوں کے لیے، ایک میری بیوی کے لیے۔‘‘
دکاندار نے میری طرف دیکھا، مگر کچھ نہیں کہا۔
گھر پہنچا تو مہرو سلائی مشین پر بیٹھی بیٹی کی پھٹی ہوئی فراک ٹھیک کر رہی تھی۔ مشین کے پہیے کی آواز کمرے میں پھیل رہی تھی۔
میں نے اس کے سامنے جلیبیوں کا چھوٹا لفافہ رکھ دیا۔
’’یہ تمہارے لیے ہے۔‘‘
اس نے سلائی روک دی۔
’’میرے لیے؟‘‘
’’ہاں، تمہارے لیے۔‘‘
اس نے لفافہ کھولا۔ ایک جلیبی اٹھائی، پھر اسے واپس رکھ دیا۔
’’بچوں کو دے دوں؟‘‘
میرے اندر کچھ بیٹھ سا گیا۔
’’مہرو، یہ تمہاری ہیں۔‘‘
وہ میری طرف دیکھتی رہی۔ اس کے چہرے پر نہ خوشی تھی، نہ ناراضی۔ صرف حیرت تھی، جیسے میں نے اسے کوئی ایسی چیز دے دی ہو جس پر اس کا حق تو تھا، مگر جسے وصول کرنے کی عادت نہیں رہی تھی۔
پھر اس نے جلیبی اٹھائی اور ایک چھوٹا سا نوالہ لیا۔
چاشنی اس کی انگلی پر لگ گئی۔
اس نے بے اختیار وہ انگلی چوس لی، بالکل ویسے جیسے بچے کرتے ہیں۔
اگلے ہی لمحے وہ ہنس دی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
وہ سر جھکا کر جلیبی توڑنے لگی۔
’’کچھ نہیں۔ بچپن میں ایسے ہی کھایا کرتی تھی۔ امی ڈانٹتی تھیں کہ پلیٹ میں رکھ کر کھاؤ۔‘‘
میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ میں نے جس عورت سے شادی کی تھی، اس کے اندر ایک لڑکی بھی رہتی تھی۔ وہ لڑکی جسے جلیبیاں پسند تھیں، جو نئے کپڑے پہننا چاہتی تھی، جو بازار میں رک کر چوڑیاں دیکھتی تھی، جو کبھی کسی سے کہتی ہوگی کہ آج میرا دل کچھ اچھا کھانے کو چاہ رہا ہے۔
پھر آہستہ آہستہ وہ لڑکی میرے گھر کی ضروریات میں کہیں دب گئی۔
اور میں نے کبھی اسے تلاش نہیں کیا۔
رات کو مہرو نے جلیبیوں کا لفافہ اٹھایا اور فریج کھول دیا۔
میں نے پوچھا، ’’اب کیوں رکھ رہی ہو؟‘‘
وہ بولی، ’’کل بچوں کو دے دوں گی۔‘‘
میں نے اس کے ہاتھ سے لفافہ لے لیا۔
’’بچوں کے لیے الگ ہیں۔ یہ تمہاری ہیں۔‘‘
اس نے کچھ کہنا چاہا، پھر خاموش ہو گئی۔
میں نے لفافہ فریج میں رکھنے کے بجائے میز پر رکھ دیا۔
’’مہرو، تمہیں کبھی ایسا لگتا ہے کہ تم اس گھر میں اپنے لیے کچھ مانگ نہیں سکتیں؟‘‘
اس نے فوراً جواب نہیں دیا۔ وہ میز پر پڑے لفافے کے کنارے سیدھے کرتی رہی۔
پھر بولی، ’’مانگ تو سکتی ہوں۔ آپ منع بھی نہیں کرتے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
اس نے میری طرف دیکھا۔
’’پھر یہ سوچتی ہوں کہ آپ کے پاس پہلے ہی اتنی ذمہ داریاں ہیں۔ میری ایک خواہش سے کیا فرق پڑے گا؟‘‘
میں نے کہا، ’’فرق پڑتا ہے۔‘‘
وہ دھیرے سے ہنسی۔
’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘
میرے پاس جواب نہیں تھا۔
کیونکہ اس کی خواہشات پوری نہ ہونے سے میرے دن کبھی خراب نہیں ہوئے تھے۔ میرے کپڑے وقت پر استری ہوتے رہے، کھانا گرم ملتا رہا، بچے صاف ستھرے اسکول جاتے رہے۔ اس کی خاموشی نے میرے لیے زندگی آسان بنائی تھی۔
میں نے اس کی قربانی کو محبت کہا تھا، کیونکہ اس نام سے مجھے اپنی بے خبری کا حساب نہیں دینا پڑتا تھا۔
اگلے دن میں نے مہرو کو بازار چلنے کے لیے کہا۔
اس نے حسبِ عادت پہلے بچوں کا پوچھا، پھر کھانے کا، پھر واپسی کے وقت کا۔
میں نے کہا، ’’آج ان میں سے کوئی بات تمہیں نہیں سوچنی۔ تمہیں جو کرنا ہے، وہ کرو۔‘‘
بازار میں وہ کپڑوں کی دکان کے سامنے رکی۔ ایک گہرے نیلے رنگ کا جوڑا شیشے کے پیچھے لٹکا تھا۔
’’اچھا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
اس نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔
’’مہنگا ہوگا۔‘‘
میں نے قیمت دیکھی۔
’’لے لو۔‘‘
’’نہیں، ابھی رہنے دیں۔‘‘
میں نے اصرار نہیں کیا۔ اس بار میں نے صرف اتنا کہا، ’’اگر تمہیں پسند ہے تو قیمت بعد میں دیکھیں گے۔ پہلے یہ بتاؤ، تمہیں پسند ہے؟‘‘
وہ خاموش رہی۔
پھر اس نے شیشے کے پیچھے لٹکے جوڑے کو دیکھا اور بہت آہستہ سے کہا، ’’ہاں۔‘‘
یہ ایک چھوٹا سا لفظ تھا۔
لیکن اٹھارہ سال میں پہلی بار اس نے کسی چیز کی قیمت بتانے سے پہلے اپنی پسند بتائی تھی۔
ہم نے وہ جوڑا خرید لیا۔
واپسی پر اس نے ایک دکان سے چوڑیاں بھی دیکھیں۔ میں نے پوچھا تو اس نے مسکرا کر کہا، ’’بس دیکھ رہی تھی۔‘‘
میں نے اس کے لیے چوڑیاں بھی خرید لیں۔
اس نے راستے بھر کچھ نہیں کہا۔ گھر آ کر اس نے شاپر الماری میں رکھا اور بچوں کو کھانا کھلانے چلی گئی۔
میں نے سوچا، شاید وہ خوش ہے۔
پھر مجھے خیال آیا کہ میں اس کی خوشی کا اندازہ بھی ہمیشہ اپنی سہولت سے لگاتا رہا ہوں۔
کچھ دن بعد ایک رات میری آنکھ کھلی تو مہرو بستر پر نہیں تھی۔ میں باہر نکلا تو وہ باورچی خانے میں بیٹھی تھی۔ سامنے چائے کا کپ تھا اور پلیٹ میں ایک جلیبی رکھی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ کھا رہی تھی، جیسے کسی سے چھپا کر نہیں، بلکہ اپنے لیے وقت نکال کر کھانا بھی ایک کام ہو جسے پورا کرنے کے لیے اسے گھر کے سو جانے کا انتظار کرنا پڑتا ہو۔
میں دروازے پر رک گیا۔
اس نے مجھے دیکھا تو جلیبی پلیٹ میں رکھ دی۔
’’آپ جاگ گئے؟‘‘
میں نے کرسی کھینچ کر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا، ’’کھاؤ۔‘‘
اس نے جلیبی اٹھائی۔
ہم دونوں خاموش رہے۔
پھر اس نے آدھی جلیبی توڑی اور میری طرف بڑھا دی۔
’’یہ آپ کھا لیں۔‘‘
میں نے اس کی طرف دیکھا۔
اٹھارہ سال پہلے بھی شاید وہ یہی کرتی۔ اپنی پلیٹ سے میرے لیے حصہ نکالتی، اپنی خواہش کو آدھا کرتی، اور اسے محبت سمجھ کر خوش رہتی۔
میں نے آدھی جلیبی لے لی، مگر اس بار اپنی پلیٹ میں رکھنے کے بجائے اس کے ہاتھ میں واپس رکھ دی۔
’’پہلے تم پوری کھاؤ۔‘‘
وہ مسکرائی۔
اس نے جلیبی ختم کی، چائے کا آخری گھونٹ لیا اور کپ دھونے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں اسے دیکھتا رہا۔
مجھے معلوم تھا کہ اگلے دن بھی وہ میرے لیے روٹی رکھے گی، بچوں کا خیال کرے گی، گھر سنبھالے گی۔ وہ اچانک کوئی دوسری عورت نہیں بن جانے والی تھی۔
لیکن شاید اب میں اسے صرف ان کاموں کے ذریعے پہچاننا چھوڑ سکتا تھا۔
صبح میں نے ناشتے کی میز پر اس کے سامنے جلیبیوں کی پلیٹ رکھی۔
بچوں نے ہاتھ بڑھائے تو میں نے کہا، ’’پہلے امی لے گی۔‘‘
مہرو نے میری طرف دیکھا۔ پھر ایک جلیبی اٹھائی، آدھی بیٹی کی پلیٹ میں رکھی اور باقی خود کھانے لگی۔
میں نے اسے روکا نہیں۔
کیونکہ اب میں سمجھ گیا تھا کہ کسی عورت کا اپنے حصے میں سے دوسروں کو دینا محبت ہو سکتی ہے، مگر اس کے حصے کا ہمیشہ دوسروں کو ملتے رہنا محبت نہیں۔
اور اسی صبح مجھے ایک ایسی بات سمجھ آئی جسے میں شاید ساری عمر نہیں بھول سکوں گا:
جس گھر میں عورت سب کے لیے جلیبی بچا کر رکھتی ہے، وہاں کبھی کسی کو یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ اس عورت کے حصے کی جلیبی آخر کون بچا کر رکھتا ہے؟
افسانہ: بیوی کا حصہ
©️ انتخاب سخن