میری نند کو کینسر ہوا تو ساس قینچی اور شیور لے آئی…


💥میری نند کو کینسر ہوا تو ساس قینچی اور شیور لے آئیں…

کہنے لگیں: “آج ہم سب مریم کے لیے اپنے بال کٹوائیں گے، تاکہ اُسے احساس ہو کہ وہ اکیلی نہیں ہے… اور سب سے پہلے تم۔” 💔💔

میرا نام عائشہ ہے۔
عمر تیس سال ہے۔

اور میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی ہوں۔

عام سی نوکری ہے، مگر میرے لیے صرف نوکری نہیں۔

یہ میری محنت کی پہچان ہے۔

میری خودمختاری ہے۔
میری عزتِ نفس ہے۔

وہ اعتماد ہے جو ایک عورت آہستہ آہستہ اپنی محنت سے کماتی ہے۔

میرے بال میری شخصیت کا ایک خاموش حصہ ہیں۔

کمر تک لمبے، گھنے اور خوبصورت۔

میں ان پر غرور نہیں کرتی، مگر یہ بھی سچ ہے کہ انہیں سنوارنے میں برسوں لگے ہیں۔

یہ میری پہچان ہیں۔
میری نسوانیت کا ایک نرم سا حوالہ۔

اور شاید میری اُن چند خوشیوں میں سے ایک، جنہیں میں نے زندگی کی بھاگ دوڑ میں اپنے لیے بچا رکھا ہے۔

میری شادی کو دو سال ہو چکے ہیں۔

میرے شوہر فہد کی ایک ہی چھوٹی بہن ہے، مریم۔

گھر کی لاڈلی۔

بات بات پر ہنسنے والی، چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھ جانے والی، اور پھر خود ہی مان جانے والی مریم۔

پھر ایک دن زندگی نے اُس کے نام کے آگے ایک ایسا لفظ لکھ دیا جسے سن کر پورا گھر سُن ہو گیا۔

کینسر۔

مریم صرف پندرہ سال کی ہے۔

اُس عمر میں جب لڑکیاں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر چوٹیاں بناتی ہیں، لپ گلوس لگاتی ہیں، ڈائری میں خواب لکھتی ہیں…

مریم ہسپتال کے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔

کیموتھراپی شروع ہوئی۔

اور چند ہفتوں میں اُس کے بال جھڑنے لگے۔

میں نے پہلی بار اُسے اُس دن ٹوٹتے دیکھا جب وہ واش روم کے آئینے کے سامنے کھڑی تھی، اور اُس کے ہاتھوں میں اپنے ہی بالوں کے گچھے تھے۔

وہ کچھ نہیں بولی۔

بس مجھے دیکھ کر اتنا کہا:

“بھابھی… میں اب بری لگوں گی نا؟”

میں نے اُسے سینے سے لگا لیا۔

اور اُس دن پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب الفاظ نہیں دے سکتے۔

اس کے بعد ہسپتال میرا دوسرا گھر بن گیا۔

دفتر سے سیدھا وہیں جاتی۔

کبھی اُس کے لیے ناول لے جاتی۔

کبھی رنگ بھرنے والی کتابیں۔

کبھی اُس کی پسندیدہ چاکلیٹ۔

کبھی صرف اُس کے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑے رہتی۔

کئی بار فہد مصروف ہوتا، مگر میں اکیلی چلی جاتی۔

نرسیں مجھے پہچاننے لگی تھیں۔

ڈاکٹر مجھے گھر والوں میں شمار کرنے لگے تھے۔

اور مریم…

وہ مجھے “بھابھی” کم، “آپی” زیادہ کہنے لگی تھی۔

سچ یہ ہے کہ میں بھی اُسے نند نہیں، اپنی چھوٹی بہن سمجھتی ہوں۔

پھر ایک دن ڈاکٹر نے مریم کو کچھ دن کے لیے گھر جانے کی اجازت دے دی۔

گھر میں خوشی کا ماحول تھا۔

سب نے اسے گھیر رکھا تھا۔

مریم کمزور تھی، مگر مسکرا رہی تھی۔

چہرہ پیلا تھا، آنکھوں کے گرد ہلکے تھے، سر پر نرم سا رومال بندھا تھا…

مگر اُس کی مسکراہٹ میں زندگی ابھی باقی تھی۔

میں اُس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔

اُس نے میرا ہاتھ پکڑا اور آہستہ سے کہا:

“آپی، آپ آج بھی آ گئیں؟”

میں نے مسکرا کر کہا:

“تمہیں چھوڑ کر کہاں جا سکتی ہوں؟”

وہ ہنس دی۔

اُسی دوران میری ساس ایک ڈبہ لے کر کمرے میں آئیں۔

اندر قینچی اور شیور رکھا تھا۔

پہلے مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔

پھر انہوں نے سب کے سامنے کہا:

“آج ہم سب مریم کے لیے اپنے بال کٹوائیں گے، تاکہ اسے احساس ہو کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔”

کمرے میں چند لوگوں نے فوراً ہاں میں ہاں ملائی۔

کسی نے کہا، “واہ، بہت خوب!”

کسی نے کہا، “یہی اصل محبت ہے۔”

کسی نے موبائل نکال کر ویڈیو بنانی شروع کر دی۔

میں خاموش بیٹھی رہی۔

پھر میری ساس کی نظریں مجھ پر آ کر ٹھہر گئیں۔

“اور عائشہ… تم سب سے پہلے۔”

کمرے کی ساری آوازیں جیسے ایک دم دور چلی گئیں۔

میں نے اُن کی طرف دیکھا۔

مجھے لگا شاید میں نے غلط سنا ہے۔

مگر وہ پوری سنجیدگی سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔

میں نے بہت نرمی سے کہا:

“امی جی… میں مریم سے بہت محبت کرتی ہوں۔”

“مگر میں اپنے بال نہیں کٹوا سکتی۔”

کمرے کی فضا بدل گئی۔

جیسے کسی نے خوشی کے کمرے میں اچانک الزام رکھ دیا ہو۔

میں نے فوراً بات سنبھالنے کی کوشش کی۔

“میں مریم کے ساتھ رہوں گی۔”

“اس کے علاج میں جو ہو سکے گا کروں گی۔”

“اس کی دواؤں، ہسپتال، ہر ضرورت میں ساتھ دوں گی۔”

“میں ہر ہفتے آؤں گی، روز آؤں گی…”

“لیکن صرف ایک علامتی اظہار کے لیے اپنے بال نہیں کٹوا سکتی۔”

فہد نے میری طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں وہ نرمی نہیں تھی جو ایک شوہر کی آنکھوں میں ہونی چاہیے۔

وہ تلخ لہجے میں بولا:

“واقعی؟”

“تمہیں اپنے بال میری بہن سے زیادہ عزیز ہیں؟”

میں نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔

“فہد، بات یہ نہیں ہے۔”

“تو پھر کیا ہے؟”

اس کی آواز بلند ہو گئی۔

“محبت قربانی مانگتی ہے، عائشہ۔”

“اور تم ایک بیمار بچی کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتیں؟”

میرے اندر کچھ ٹوٹا۔

کیونکہ یہ بات کسی اجنبی نے نہیں کہی تھی۔

یہ اُس شخص نے کہی تھی جس کے ساتھ میں نے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔

میں نے دھیمی آواز میں کہا:

“محبت کسی کو مجبور نہیں کرتی، فہد۔”

“محبت ساتھ دیتی ہے۔”

وہ ہنس دیا۔

وہ ہنسی نہیں تھی۔

طنز تھا۔

“بہانے مت بناؤ۔ تم خود غرض ہو۔”

“تمہیں اپنی شکل، اپنے بال، اپنی خوبصورتی زیادہ عزیز ہے۔”

میری آنکھیں بھر آئیں۔

مگر اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی، میری ساس نے وہ جملہ کہا جو شاید مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔

وہ مریم کی طرف مڑیں اور بولیں:

“دیکھا بیٹا؟”

“عائشہ آپی کو اپنے بال تم سے زیادہ عزیز ہیں۔”

یہ جملہ میرے دل پر نہیں، میری روح پر لگا۔

میں فوراً مریم کی طرف دیکھنے لگی۔

مجھے ڈر تھا کہ شاید وہ بھی مجھے اسی نظر سے دیکھے گی۔

شاید اُس کی آنکھوں میں بھی شکایت ہو گی۔

شاید وہ بھی سوچے گی کہ میں اس سے محبت نہیں کرتی۔

مگر مریم خاموش تھی۔

بہت خاموش۔

اُس نے سب کو دیکھا۔

اپنی ماں کو۔

اپنے بھائی کو۔

موبائل پکڑے کھڑے رشتے داروں کو۔

پھر مجھے دیکھا۔

اور آہستہ آہستہ صوفے سے اُتر آئی۔

کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

وہ میرے پاس آئی۔

میرے ہاتھ پر اپنا کمزور سا ہاتھ رکھا۔

پھر اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر بولی:

“بھائی…”

فہد چپ ہو گیا۔

مریم کی آواز کمزور تھی، مگر لفظ بہت مضبوط تھے۔

“اگر میرے بال واپس نہیں آ سکتے…”

وہ رُکی۔

“تو کیا بھابھی کے بال بھی چلے جائیں تو مجھے سکون آ جائے گا؟”

کسی نے جواب نہیں دیا۔

مریم نے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔

“امی… مجھے کیموتھراپی اس لیے نہیں دی گئی کہ سب میرے جیسے لگیں۔”

“مجھے اس لیے دی گئی ہے کہ میں ٹھیک ہو جاؤں۔”

پھر وہ میری طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی۔

“مجھے بھابھی کے بال نہیں چاہئیں۔”

میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

مریم نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔

اور پھر وہ جملہ کہا جس نے پورے کمرے کو آئینہ دکھا دیا۔

“مجھے بس بھابھی چاہئیں۔”

کمرے میں ایسی خاموشی پھیل گئی جس میں ہر شخص اپنی نیت کی آواز سن سکتا تھا۔

فہد کی نظریں جھک گئیں۔

میری ساس کے ہاتھ میں پکڑا ڈبہ آہستہ سے نیچے ہو گیا۔

موبائل بند ہو گئے۔

اور میں پہلی بار سمجھ رہی تھی کہ اس گھر میں سب سے زیادہ بالغ انسان پندرہ سال کی ایک بیمار بچی ہے۔

کچھ لوگ محبت کو زخموں کی گنتی سے ناپتے ہیں۔

جتنا بڑا نقصان، اتنی بڑی محبت۔

جتنی بڑی قربانی، اتنا بڑا ثبوت۔

مگر محبت کوئی عدالت نہیں جہاں ہر رشتے کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑے۔

محبت کسی کو توڑ کر اپنی سچائی ثابت نہیں کرواتی۔

محبت تو بس اتنا چاہتی ہے کہ جب کوئی کمزور ہو، آپ اُس کے پاس بیٹھ جائیں۔

جب کوئی روئے، آپ اُس کا ہاتھ تھام لیں۔

جب کوئی زندگی سے ڈرنے لگے، آپ اسے یاد دلائیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔

اُس دن میرے بال ویسے ہی رہے۔

مگر میرے اندر کچھ بدل گیا۔

مجھے سمجھ آ گیا کہ کبھی کبھی گھر کے بڑے صرف عمر میں بڑے ہوتے ہیں…

سوچ میں نہیں۔

اور کبھی کبھی ہسپتال کے بستر پر لیٹی ہوئی ایک کمزور بچی پورے گھر سے زیادہ مضبوط نکل آتی ہے۔

مریم بیمار ضرور ہے…

مگر سب سے زیادہ صحت مند دل اُسی کے سینے میں دھڑکتا ہے۔ ❤️

©️ انتخابِ سخن

#EmotionalStory #cancerawareness #life #urdustories