💥 میری نند نے میری پانچ سالہ بیٹی کو تھپڑ مارا تو میں نے دو تھپڑ لگا دیئے ۔۔ لیکن اصل سبق ہم دونوں نے بعد میں سیکھا 💔🥹
حورین کے گال پر پڑنے والا تھپڑ اتنا زور دار نہیں تھا جتنا اس کے بعد کمرے میں چھائی ہوئی خاموشی۔
عید کی شام تھی۔ گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ ڈرائنگ روم میں بچے عیدی گن رہے تھے، خواتین ایک دوسرے کے کپڑوں اور زیورات کی تعریف میں مصروف تھیں اور باورچی خانے سے بریانی، قورمے اور شیرخرمے کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔
میں کھانے کی میز پر اپنی پانچ سالہ بیٹی حورین کے ساتھ بیٹھی تھی۔ میرے شوہر فہد کے والدین، بہن رابعہ اور دوسرے رشتے دار بھی موجود تھے۔
حورین کی پلیٹ میں رابعہ نے خود بریانی ڈالی تھی۔ بچی نے دو تین لقمے کھائے، پھر چاولوں میں موجود ہڈی دیکھ کر معصومیت سے بولی:
"پھوپھو! مجھے ہڈی والا گوشت نہیں کھانا، آپ مجھے بغیر ہڈی والا دے دیں گی؟”
رابعہ نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
"تم لوگوں کو ہر وقت کوئی نہ کوئی فرمائش کیوں رہتی ہے؟ جو دیا ہے، خاموشی سے کھاؤ۔”
حورین نے اپنی پلیٹ کی طرف دیکھا۔
"لیکن مجھے ہڈی سے ڈر لگتا ہے۔”
"بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری!”
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتی، رابعہ کا ہاتھ اٹھا اور ایک زور دار تھپڑ حورین کے گال پر پڑا۔
بچی کا چہرہ ایک طرف گھوم گیا۔ اس کے ہاتھ سے چمچ نیچے جا گرا۔
چند لمحوں کے لیے پورے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
حورین نے اپنے گال پر ہاتھ رکھا اور میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر شاید وہ ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی کہ ہوا کیا ہے۔
میں اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
"رابعہ! تم نے میری بیٹی کو تھپڑ مارا ہے؟”
وہ الٹا مجھے گھورنے لگی۔
"تو کیا ہوا؟ بدتمیزی کر رہی تھی۔ بچوں کو کبھی کبھی سمجھانا بھی پڑتا ہے۔”
"سمجھانے اور مارنے میں فرق ہوتا ہے۔ وہ صرف پانچ سال کی ہے!”
رابعہ نے ہونٹ سکیڑے۔
"تم اپنی بیٹی کو اتنا سر پر چڑھاؤ گی تو یہی ہوگا۔”
میں نے فہد کی طرف دیکھا۔ وہ میرے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔
مجھے امید تھی کہ وہ فوراً اٹھ کر اپنی بہن کو روکے گا، مگر اس نے آہستہ سے کہا:
"سدرہ، پلیز! آج عید کا دن ہے۔ بات کو یہیں ختم کرو۔”
میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"بات کو ختم کروں؟ تم نے اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھا ہے؟”
"دیکھ رہا ہوں۔ رابعہ سے غلطی ہوئی ہے، لیکن سب لوگ بیٹھے ہیں۔ تماشا مت بناؤ۔”
اس لمحے مجھے اپنی بیٹی سے زیادہ اپنے شوہر کی خاموشی نے تکلیف دی۔
میں رابعہ کی طرف بڑھی۔ اس کے چہرے پر اب بھی وہی نخوت تھی۔
"اگر تمہیں بچوں کی تربیت کا اتنا ہی شوق ہے تو پہلے اپنے رویے کی تربیت کر لو۔”
وہ ہنس کر بولی:
"تم مجھے سکھاؤ گی؟”
میرا ضبط جواب دے گیا۔
میں نے اسے ایک تھپڑ مارا، پھر دوسرا۔
اس کی چیخ کے ساتھ ہی کمرے میں شور اٹھ کھڑا ہوا۔
میری ساس، شگفتہ بیگم، فوراً اپنی بیٹی کے پاس پہنچیں۔
"یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تم نے میری بیٹی پر ہاتھ کیسے اٹھایا؟”
میں نے حورین کو گود میں اٹھایا۔
"آپ کی بیٹی نے میری پانچ سالہ بچی کو مارا ہے۔”
"بچے غلطیاں کرتے ہیں، بڑوں کو سمجھانا چاہیے۔”
"تو پھر آپ کی بیٹی نے اسے سمجھانے کے لیے تھپڑ کیوں مارا؟”
فہد اپنی جگہ سے اٹھا۔
"بس کرو، دونوں! سدرہ، تمہیں رابعہ کو مارنے کی کیا ضرورت تھی؟”
میں نے اسے دیکھا۔
"اور تمہیں اپنی بیٹی کے لیے بولنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہوئی؟”
اس نے آہستہ سے کہا:
"گھر جا کر بات کرتے ہیں۔”
میں نے حورین کو سینے سے لگایا اور اپنی جگہ پر واپس آ گئی۔ عید کی ساری رونق جیسے ایک لمحے میں ختم ہو چکی تھی۔
رات کو مہمان چلے گئے تو فہد میرے کمرے میں آیا۔
"تم نے آج میری بہت بے عزتی کروائی ہے۔”
میں حورین کو سلا کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔
"میری وجہ سے؟”
"تمہیں رابعہ کو تھپڑ مارنے کی کیا ضرورت تھی؟ خاندان میں بات پھیل گئی ہے۔ امی بہت ناراض ہیں۔”
میں نے کچھ دیر اسے دیکھا، پھر پوچھا:
"جب رابعہ نے حورین کو مارا تھا تو تمہیں خاندان کی عزت یاد کیوں نہیں آئی؟”
"میں نے کہا نا، اس سے غلطی ہوئی ہے۔”
"غلطی؟ فہد، اس نے جان بوجھ کر ہاتھ اٹھایا تھا۔ تم نے اپنی بیٹی کو روتے دیکھا، اس کے گال پر نشان دیکھا، پھر بھی تم نے اسے صرف یہ کہا کہ عید کا دن ہے، خاموش رہو۔”
فہد نے دفاعی انداز میں کہا:
"میں نہیں چاہتا تھا کہ سب کے سامنے جھگڑا ہو۔”
"اور میں یہ نہیں چاہتی تھی کہ میری بیٹی ساری عمر یہ سیکھے کہ خاندان کی عزت کے لیے اپنی توہین برداشت کرنا ضروری ہے۔”
وہ خاموش ہو گیا۔
میں نے اس کے سامنے ایک اور بات رکھی۔
"تمہیں یاد ہے، پچھلے مہینے رابعہ نے حورین کے کھلونے اٹھا کر الماری میں رکھ دیے تھے کیونکہ اس کے بچوں نے وہ کھلونے توڑ دیے تھے؟ تب بھی تم نے کہا تھا کہ بچوں کی بات ہے، جانے دو۔ اس سے پہلے عید پر اس نے حورین کو سب کے سامنے موٹا کہہ دیا تھا۔ میں نے تب بھی خاموشی اختیار کی۔ لیکن آج اس نے ہاتھ اٹھایا ہے۔ اب یہ صرف زبان کی تلخی نہیں رہی۔”
فہد نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا:
"تو تم چاہتی کیا ہو؟ میں اپنی بہن سے تعلق ختم کر لوں؟”
"میں نے کب کہا؟ میں چاہتی ہوں کہ تم اپنی بہن کو یہ سمجھاؤ کہ رشتے کا مطلب کسی پر اختیار نہیں ہوتا۔ پھوپھی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ میری بیٹی کو مارنے کا حق بھی رکھتی ہے۔”
میں نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر کہا:
"اور میری بھی ایک بات سن لو۔ میں نے رابعہ کو تھپڑ مار کر درست نہیں کیا۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میں اس بات کی ذمہ داری لیتی ہوں۔ لیکن میری غلطی تمہاری بہن کے عمل کو درست نہیں بنا دیتی۔”
فہد نے نظریں جھکا لیں۔
شاید اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا تھا کہ میں صرف غصے میں نہیں ہوں، بلکہ ایک ایسے مسئلے کی بات کر رہی ہوں جسے ہم دونوں نے برسوں نظرانداز کیا تھا۔
اگلی صبح شگفتہ بیگم کا فون آ گیا۔
"فہد! تم اپنی بیوی کو سمجھاؤ۔ کل اس نے میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ ابھی تک رابعہ کے گال پر نشان ہے۔”
فہد نے کہا:
"امی، آپ پریشان نہ ہوں۔ ہم بات کر رہے ہیں۔”
انہوں نے فوراً کہا:
"مجھے اس سے معافی چاہیے۔ اور آئندہ اسے میرے گھر آنے کی ضرورت نہیں۔”
فہد نے میری طرف دیکھا۔ میں خاموشی سے حورین کو ناشتہ کروا رہی تھی۔
اس نے چند لمحے توقف کے بعد کہا:
"امی، معافی ضرور مانگنی چاہیے، لیکن صرف سدرہ سے نہیں۔ رابعہ کو بھی حورین سے معافی مانگنی ہوگی۔”
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر شگفتہ بیگم بولیں:
"تم اپنی بیوی کے کہنے پر اپنی بہن کے خلاف ہو گئے ہو؟”
فہد نے پہلی بار مضبوط لہجے میں جواب دیا:
"امی، میں کسی کے خلاف نہیں ہوں۔ میں اپنی بیٹی کے حق میں بات کر رہا ہوں۔”
اس نے فون بند کر دیا۔
دو دن بعد فہد نے اپنے والدین اور رابعہ کو گھر بلایا۔
اس نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ آج کسی قسم کی تلخ کلامی نہیں ہوگی۔
رابعہ آئی تو اس کے چہرے پر ناگواری صاف دکھائی دے رہی تھی۔
شگفتہ بیگم نے بیٹھتے ہی کہا:
"چلو، اب دونوں ایک دوسرے سے معافی مانگو اور بات ختم کرو۔”
میں نے کہا:
"مجھے رابعہ سے اپنی طرف سے معافی مانگنی ہے۔ میں نے اسے تھپڑ مار کر غلط کیا۔ لیکن میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ حورین کے ساتھ جو ہوا، اسے معمولی بات نہ سمجھا جائے۔”
رابعہ نے فوراً کہا:
"میں نے بھی تو غصے میں مار دیا تھا۔”
فہد نے پہلی مرتبہ اپنی بہن کی بات کاٹ دی۔
"رابعہ! غصہ تمہیں کسی پانچ سال کی بچی کو مارنے کا حق نہیں دیتا۔ تمہیں معلوم ہے کہ وہ کتنا ڈر گئی تھی؟”
رابعہ نے نظریں دوسری طرف کر لیں۔
میں نے کہا:
"دیکھو رابعہ، مجھے تم سے کوئی دشمنی نہیں۔ تم میری نند ہو اور حورین کی پھوپھو۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ تمہارے گھر آئے تو خوش ہو، خوف زدہ نہ ہو۔”
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر فہد نے حورین کو آواز دی۔
وہ اپنے کمرے سے باہر آئی تو رابعہ نے اسے اپنے پاس بلایا۔
"حورین، ادھر آؤ۔”
حورین نے پہلے میری طرف دیکھا، پھر آہستہ آہستہ اس کے پاس گئی۔
رابعہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"بیٹا، پھوپھو سے غلطی ہو گئی تھی۔ مجھے تمہیں نہیں مارنا چاہیے تھا۔ مجھے معاف کر دو۔”
حورین نے کچھ نہیں کہا۔
اس نے صرف اپنی ماں کی طرف دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
میں نے اسے مجبور نہیں کیا کہ وہ اسی وقت معاف کرے۔
رابعہ نے بھی پہلی بار اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے سر جھکا لیا۔
شگفتہ بیگم نے آہستہ سے کہا:
"بچوں کی باتیں دل پر نہیں لیتے۔”
فہد نے نرمی سے جواب دیا:
"امی، بچوں کی باتیں دل پر نہیں لیتے، مگر بچوں کے دل میں لگنے والی باتوں کو نظرانداز بھی نہیں کرتے۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
اس دن کے بعد گھر کے ماحول میں ایک واضح تبدیلی آئی۔
فہد نے اپنے گھر والوں سے صاف کہہ دیا کہ حورین کی تربیت کے معاملے میں کسی کو اسے مارنے، ڈرانے یا سب کے سامنے شرمندہ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ اگر کوئی شکایت ہو تو پہلے والدین سے بات کی جائے گی۔
میں نے بھی اپنی طرف سے رابعہ کے ساتھ تعلق بہتر رکھنے کی کوشش کی۔ ہمارے درمیان پہلے جیسی بے تکلفی تو فوراً واپس نہیں آئی، لیکن کم از کم اب ایک دوسرے کی حدود کا خیال رکھا جانے لگا۔
چند ہفتوں بعد حورین کی سالگرہ تھی۔
رابعہ اس کے لیے ایک خوب صورت گڑیا لے کر آئی۔ حورین نے تحفہ لیا تو اس نے مسکرا کر کہا:
"شکریہ پھوپھو!”
رابعہ نے اسے گلے لگانا چاہا، مگر حورین پہلے میری طرف دیکھنے لگی۔
میں نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
اس نے خوشی سے پھوپھو کو گلے لگا لیا۔
فہد یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس نے میرے قریب آ کر دھیرے سے کہا:
"شاید ہم بڑے لوگ بچوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔”
میں نے جواب دیا:
"ہاں، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنی غلطی ماننے میں دیر نہ کریں۔”
اس نے میرا ہاتھ تھام لیا۔
اس روز مجھے ایک بات سمجھ آئی۔
رشتے نبھانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر زیادتی پر خاموش رہا جائے۔ اور اپنی عزت کے لیے کھڑے ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر رشتہ توڑ دیا جائے۔
کبھی کبھی ایک گھر کو بکھرنے سے بچانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس گھر کے سب لوگ پہلی مرتبہ ایک دوسرے کی بات سنیں۔
حورین اس دن کے بعد پھر اپنی پھوپھو کے گھر جانے لگی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب اسے معلوم تھا کہ اگر کوئی بات اسے بری لگے تو وہ بلاخوف اپنی ماں اور باپ کو بتا سکتی ہے۔
اور ہمیں بھی یہ سمجھ آ گیا تھا کہ بچوں کے سامنے بڑے ہونے کا دعویٰ کرنا آسان ہے، اپنی بڑائی ثابت کرنا مشکل۔
کیونکہ بعض اوقات گھر میں سکون تب واپس آتا ہے جب کوئی ایک شخص خاموش رہنا چھوڑ دیتا ہے، اور باقی سب سننا سیکھ لیتے ہیں۔
افسانہ: تھپڑ
©️ انتخاب سخن