منجھدار محبت وجیہہ بخاری قسط نمبر 6 وہ نہیں آی…


???? منجھدار محبت
???? وجیہہ بخاری
???? قسط نمبر 6

وہ نہیں آیا اس کا مطلب اس تک میسج نہیں پہنچا
وہ بھیگی آواز سے ہاں کرنے ہی والی تھی کہ ایک دم اس کی آواز آئی
رک جائیں وہ گرج کر بولا سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا اور اس کو اور عمران صاحب کو پولیس کے ساتھ دیکھ کر سب دنگ رہ گئے رھے
یہ ہے شہرام خان انسپیکٹر صاحب جو لڑکیاں اسمگلنگ کرتا ہے وہ شہرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا
یہ سب کیا ہو رہا ہے شاہ میر آغا جان چلائے
پولیس نے شہرام کو
: ہتکھڑیاں پہنا دیں تھیں
شکریہ شاہ میر آپ نے ہمیں انفارم کر دیا ایس پی شاہ میر سے مصافحہ کرتے ہوئے بولا
تجھے تو میں دیکھ لوں گا شاہ میر شہرام غرا کر بولا
شاہ میر مسکرا دیا
نور کی جان می جان آئی
تھی
_________””””__________”””___________
ان کے جانے کے بعد شاہ میر آغا جان کے پاس آیا تھا
کھیل تو بہت زبردست کھیلا تھا آپ نے داد دیتا ہوں ماننا پڑے گا
پر اگر چاچو مجھے کال پہ سب نہ بتاتے تو شاید مجھے کبھی پتا نہ چلتا وہ مسکرا کر بولا
آغا جان کے کان میں سائیں سائیں کی آواز آرہی تھی
وہ بھول گئے تھے کے خدا بڑی بڑی چالیں چلنے والا ہے چاہے ہم کتنی ہی بڑی چال کیوں نہ کھیل لیں
اب اس لڑکی سے کون شادی کرے گا
جس کیا عین وقت پہ نکاح ٹوٹ جائے
ہر طرف باتیں ہو ریا تھیں
رقیہ بیگم کا دل ہول گیا تھا
میں کروں گا شادی شاہمیر جتلا کر بولا
اشنا کی سیٹی گم گئی
خالہ یہ کیا کہہ رہا ہے وہ بے یقینی سے بولی
تم چپ کرو میں دیکھتی ہوں
یہ کیا کہ رہے ہو تم شاہ ہوش میں تو ہو اب اسی لڑکی کو بہو بنانا رہ گیا ہے کیا رحمہ بیگم غصے سے بولیں
میرا جو دل کہے گا میں وہی کروں گا اب وہ دو ٹوک بولا
لیکن
بس ماما
مولوی صاحب آپ نکاح پڑھائیں
!!!!_____________________!!!!
وہ نکاح کے بعد کمرے میں آگئی تھی کیا میں اتنی خوش قسمت تھی
وہ بہت خوش تھی اس کی دلی تمنا پوری ہو گئی تھی
اس کا دل خوشی سے جھومنے کو کر رہا تھا وہ بہت خوش تھی اس کو ا سکی محبت مل گئی تھی ہاں وہ شاہ میر سے محبت کرتی تھی شاید تب سے جب سے اس نے اس کو سپورٹ کرنا شروع کیا خود کو برا ثابت کیا
وہ مسکرا کر کپڑے چینج کرنے چلی گئی
*******________________________*******
رخصتی کے بارے میں عمران صاحب نے منع کر دیا تھا ان کے مطابق جب تک آغا جان اس رشتے کے لئے دل سے راضی نہیں ہوتے وہ تب تک رخصتی نہیں کریں گے شاہ نے بھی عزت و احترام سے ان کے سامنے سرخم کر دیا رقیہ بیگم اور عمران صاحب کے لئے یہی کافی تھا کے انکی بیٹی کو ایک اچھا شریک حیات مل گیا تھا
….._________________……
شاہ میر دو ہفتوں کے لئے آؤٹ آف کنٹری جا رہا رھا اسی سلسلے میں اس نے سعدیہ رحمہ اور اشنا کو بلایا تھا
کیوں بلایا ہے ہمیں رحمہ بیگم نے رخ موڑ کر جواب دیا
آپ لوگ تو جانتے ہی ہونگے کے میں دو ہفتوں کے لئے بزنس کے سلسلے میں آؤٹ آف کنٹری جا رہا ہوں تو کہنا یہ تھا کہ میرے جانے کے بعد اگر کسی نے نورالعین کو تکلیف پہنچائی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا میں بھول جاؤ گا کہ اس سے میرا کیا رشتہ ہے چاہے پھر وہ کوئی بھی ہو آپ لوگوں نے ابھی صرف میری نرمی دیکھی ہے غصہ نہیں
ابھی تو تمھاری وہ صرف منکوحہ ہے شاہ میر تو یہ حال ہے بیوی بن گئی تو کیا کرو گے تم ہمارے ساتھ وہ تمھاری ماں ہیں انکا مرتبہ اس لڑکی سے زیادہ ہونا چاہیئے تمھاری نظر میں اور تم ہو کہ اس لڑکی کو لے بیٹھے ہو ابھی سعدیہ غصےسے بولیں
میری نظر میں اب بھی انکا مقام اتنا ہی ہے یہ خود گرانا چاہ رہی ہیں
شاہ میر مجھے تو لگا تھا میرے بچے تم مجھ سے معافی مانگو گے مگر تم اب بھی یہ کہنے آئے ہو
میں تمھاری ماں ہوں میں تمھارا اچھا ہی چاہتی ہوں وہ جھوٹے آنسو بہاتے ہوئے بولیں وہ انکے قدموں میں بیٹھ کر بولا
ماما میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا میں چاہتا آپ اس کو اپنی بہو مان لیں
انھوں نے اس کے ہاتھ جھٹک دیئے ہرگز نہیں اس لڑکی کو کبھی نہیں مانوں گی میں وہ غصے سے بولی
پر ماما
بیٹا تیرے پاس ابھی بھی وقت ہے چھوڑ دے اسے اور میری اشنا کو اپنا لے
وہ اٹھ گیا آپ سے بات کرنا فضول
اشنا مزید سنے بغیر کمرے میں بھاگی
سعدیہ اس کے پیچھے بھاگی
___________________________
اس نے جا کر چیزیں نیچے پھینکنا شروع کردیں تھیں
اشنا میرے بچے سنبھالو خود کو یہ کیا کر رہی ہو
کیسے سمبھالوں خود کو میں ماما مجھے شاہ چاہئے میں خود کو مار دوں گی اگر وہ مجھے نہ ملا
مجھے سے نہیں جیت سکتی وہ نہیں چھین سکتی میرے شاہ کو وہ ہسٹریائی انداز میں چیخی
اچھا میرےے بچے وہ تمھارا ہی ہوگا بس تھوڑا سا انتظار کرو
رحمہ بیگم آگئی تھیں
اور اب اسے تسلی دے رہی تھی
نہیں جھوٹی ہیں آپ
لہتی رہتی ہی آپ یہ ہی اگر آپ چاہتی تو آج وہ میرا ہوتا
: اس نے انکا ہاتھ جھٹکا
سعدیہ دیکھو یہ کیا کہہ رہی ہے وہ بھری ہوئی آواز میں یہ نے بھی منہ پھیر لیا
خدا گواہ ہے سعدیہ میں اپنی اشنا کو ہی بہو بنانا چاہتی تھی لیکن پتا نہیں اس لڑکی نے میرے شاہ پہ کیا جادو کیا اس کو اسکے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا
وہ روتے ہوئے بولیں اشنا الگ رو رہی تھی
ماما مجھے چاہئے شاہ وہ روتے ہوئے بولیں
میں اسکو چھوڑوں گی نہیں وہ میرے شاہ کو مجھ سے چھین گئی ہے وہ چلا کر بولی تھی
رحمہ نے اسے گلے لگا لیا تھا وہ بھی انکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
___________________
وہ اس وقت نہا کر آئی تھی
ابھی بال ٹھیک کر رہی تھی
جب وہ دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا
اور اسکو پیچھے سے پکڑ لیا وہ چیخی
اور فورا پیچھے مڑی
اففف تم وہ سکھ کا سانس لیتے ہوئے بولی
پاگل ہو کچھ تمیز ہوتی ہے کچھ آداب ہوتے ہیں مگر تم کیا جانو وہ کیا ہوتے ہیں
اس نے قہقہہ مارا
افف کیا ہے کان پھاڑنے ہیں میرے پیچھے ہٹو وہ اسے ہٹاتے ہوئے بولی
کیوں کیوں اب تو ہم باقاعدہ میاں بیوی بن چکے ہیں
پر آپکی اطلاع کے لئے عرض ہے میں رخصت ہوکے آپ کے کمرے میں نہیں آئی
تو آجاؤ نہ میں تو چاہتا ہی یہ ہوں وہ آنکھ مار کر بولا
وہ شرما گئی تھی
اچھا کیوں آئے تھے بولو
وہ رخ موڑ کر بولی
ہاں تمھیں تو پتا ہے نا میں دو ہفتے آؤٹ آف کنٹری جا رہا ہوں
تو میں چاہتا ہوں تم اپنا چاچی جان اور چاچا جان کا بہت خیال رکھنا
اور میں بات تو یہ ہے کہ تمھارے لئے ایک سرپرائز ہے س
وہ اس کی سامنے آئی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بول
کسا سرپرائز وہ بھی مسکرا کر بولی
نہیں ابھی نہیں جلدی سے تیار کو کر آؤ پھر بتاوں گا
وہ بھی مسکرا کر کپڑے چینج کرنے چلی گئی
____________________
وہ باہر آئی تو شاہ میر بنا پلکیں جپھکے اس کو دیکھ دہا تھا
اس نے وائٹ کلر کی شارٹ شرٹ اور وائٹ کلر کی ہی کیپری پہنی ہوئی تھی ا
جس کے دامن اور بازؤں پر نفیس سی پنک اور گرین کلر کی کڑھائی ہوئی تھی
کیا ہوا؟ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے بولی
کوئی چڑیل اتنی بھی خوبصورت لگ سکتی ہے وہ شرارت سے بولا
شاہ میر بدلنا نا تم وہ منہ بنا کر بولی
اچھا بھئی سوری چلو اب
______________________
وہ اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے وہاں لایا تھا
اس نے ہوٹل کی بالکنی بک کی تھی جہاں ہر طرف پھول بکھرے ہوئے تھے اور درمیان میں پھولوں سے راستہ بنا ہوا تھا
جو ٹیبل تک تھا ٹیبل پر موم بتیاں دائرے کی صورت میں پڑھی تھی
: وہاں جا کر اس نے اس کے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹا دئے تھے
نور تو یہ سب دیکھ کر رونے والی ہو گئی تھی اسے اتنا محبت کرنے والا لائف پارٹنر مل گیا تھا اس نے محبت سے شاہ کی طرف دیکھا
جس نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک گلاب کا پھول نکالا تھا
اور اب قدموں بل بیٹھا اس کو پرپوز کر رہا تھا س نے ہنستے ہوئے پھول تھام لیا تھا اور اس کے گلے لگ گئی تھی یہ اسکی زندگی کا سب سے یادگار دن تھا

"وہ تقریبا بارہ بجے گھر آئے تھے
وہ دبے پاؤں حویلی میں داخل ہوئی
تھی
پاگل ہو اتنا ڈر کیوں رہی ہو اب ہم میاں بیوی ہیں کسی کا کوئی حق نہیں بنتا کہ ہمیں روکے
پر شاہ آپ کو پتا تو ہے یہ لوگ کتنا تماشہ بناتے ہیں
اچھا چھوڑو یہ بتاؤ مجھے مس تو نہیں کرو گی
بلکل بھی نہیں وہ شرارت سے بولی
رئیلی وہ منہ پھلا کر بولا
ہاہا نہیں مزاق کر رہی ہوں
ایک بات پوچھوں تم سے
شاہ میر
وہ دونوں اس وقت لان میں چہل قدمی کر رہے تھے
ہاں نہ پوچھو
تم جلدی نہیں آسکتے وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی
نہیں نا امپاسبل ہے
بھلا کیوں
اب بھلا میں کام چھوڑ دوں
نہیں اب ایسا مطلب بھی نہیں تھا
ہاہاہا بتاؤ کیا تھا؟؟
” مس کروگی مجھے اس کا مطلب ”
"جی نہیں”
پھر جلی کیوں
چھوڑو تم یہ بتاؤ صبح کتنے بجے کی فلائٹ ہے
آٹھ بجے جب محترمہ سو رہی ہوتی ہیں
وہ ہنس دی
کل نہیں ہوگا ایسا
پھر جاؤ محترمہ سوجاؤ تبھی اٹھو گی جلدی
اوکے جی صبح ملتے اللہ حافظ اور اندر چلی گئی
وہ جب تک اندر نہیں گئی اس کو دیکھتا رہا

اس نے الارم لگا لیا تھا صبح پانچ بجے کا
اور لیٹ گئی تھی یہ دن اس کی زندگی کا سب سے حسین دن اور حسین تحفہ تھا جو اسے شاہ میر سے ملا تھا یہی سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی

الارم کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی تھی وہ جلدی سے باتھ روم میں وضو کرنے چلی گئی تاکہ نماز پڑھے وہ وضو کر کے جلدی سے نماز کے لئے کھڑی ہوئی اور سلام پھیر کر کچن کی طرف بڑھی شاہ میر کے لئے ناشتہ بنایا اور کمرے میں گئی اس کی سوچ کے عین مطابق وہ نماز پڑھ رہا تھا
اس نے ناشتہ ٹیبل پر رکھا اور اس کے کپڑے پیک کرنے لگی وہ جانتی تھی نہیں کئے ہونگے اس لئے
وہ نماز پڑھ کر ہٹا تو اسے کپڑے پیک کرتا دیکھ کر مسکرا دیا
واہ آج تو بہت جلدی اٹھ گئی ہو
کہا تھا نا تمھیں وہ کپڑے پیک کرتے ہوئے بولی
وہ بھی ہنسا
اچھا چلو ناشتہ
کرلو اب باتیں نہ بناؤ وہ ہنستے ہوے بولی
اچھا میڈم
وہ پیکنگ کر کے بیگ کی زپ بند کرنے لگی تو رحمہ بیگم کمرے میں آئیں
شاہ میر تم… وہ بولتے بولتے چپ ہو گئی انکا دماغ خراب ہو گیا تھا اس کو صبح صبح شاہ کے کمرے میں دیکھ کے
جی ماما اس نے انکی طرف دیکھا
نور اپنے کام میں لگی رہی
ناشتہ بنا دیا ہے میں نے تمھارا آکر کرلو
ماما نور نے کروا دیا ہے وہ اس کی طرف دیکھ کر بولا
رحمہ بیگم کا تو غصہ آسمان پر پہنچ گیا تھا
نور کو انکی شکل دیکھ کر ہنسی تو بہت آئی پر کنٹرول کر گئی
شاہ سنو یہ جرابوں کے جوڑے کتنے رکھوں رحمہ بیگم غصے سے باہر نکل گئی

کچن میں آکر چیزیں پٹخنی شروع کر دیں
ارے کیا ہو گیا ہے رحمہ شور کیوں اتنا کر رہی ہو
کیا بتاؤں تجھے سعدیہ شادی سے پہلے میرے بچے کا ایسا حال کر دیا ہے کہ توبہ
شادی کے بعد تو میری شکل بھی نہیں دیکھنے دے گی وہ روتے ہوئے بولیں
اب کیا کر سکتے ہیں اگر تم نے تھوڑی سی لگام ڈالی ہوتی تو ایسا نہ ہوتا
ارے مجھے کہاں پتا تھا یہ جادوگرنی میرے بچے کا یہ حال کرےگی
اللہ کرے کبھی سکون نہ آئے اس نور کو
بس کرو باجی دیکھو شاہ کے جانے کا ٹائم ہو گیا ہے
اسے دیکھو
وہ باہر بھاگیں

نور اپنا خیال رکھنا تم اور سب کا اور یہ رونا دھونا بند کرو کونسا تم پرانے زمانے کی لڑکی ہو جو شوہر کے جاتے ہوئے رونا شروع کردے
اس نے ہنستے ہوئے اس کے سینے پر مکا مارا
رقیہ بیگم اور عمران صاحب کے دل کو قدرے سکون ملا تھا ان دونوں کو ایسے دیکھ کر
وہ آگے بڑھا مگر پھر پیچھے مڑا جو ابھی بھی رونے دھونے میں مصروف تھی وہ اس کے پاس گیا اور اس کے آنسو صاف کئے
اور پھر خود سے لگا لیا جو اب ہچکیوں سے رونے لگی تھی پاگل ہو گئی ہو اتنا کیوں رو رہی ہو
اتنا دور نہیں جا رہا بس دو ہفتوں کی ہی تو بات یے
بس اب چپ ہو جاؤ ورنہ ناراض ہو جاؤں گا
وہ چپ ہو گئی تھی
اور ہاں میڈم جی یہ جو دو دن سے چھٹیاں مار کے بیٹھی ہو
"کل جانا ہے یونی تم نے سمجھی مجھے یہ پتا نا چلے چھٹی پر ہو پتا کرتا رہا کروں گا میں "”
وہ گھور کر بولا
وہ ہنس دی اور سر ہلا دیا وہ عمران صاحب کی طرف بڑھا
"آپنے چاچا جان اپنا چاچی جان کا اور میری منکوحہ صاحبہ کا خیال رکھنا ہے آپ کے حوالے کر کے جا رہا ہوںش”
انھوں نے ہنس کر اس کا کندھا تھپتھپا دیا
آغا جان بھی آگئے تھے
انھیں دیکھ کر اس کا چہرہ ایک دم سپاٹ ہو گیا تھا
"مجھ سے نہیں ملو گے”
وہ کچھ نھیں بولا
بس سپاٹ چہرہ لئے کھڑا رہا
وہ ” اس کی طرف بڑھے اور اسے گلے لگا لیا”
"دیکھا رحمہ پھلے اپنے ساس سسر اور بیوی سے ملا ہے سعدیہ غصے سے بولیں ”
"سب دیکھ رہیں ہوں بس چپ ہوں بعد میں دیکھوں گی اسے
جاری ہے