مرے وجود کی قائم اساس رہنے دے
زمیں کے جسم پہ کوئی لباس رہنے دے
مری تمام خوشی خوش دلی سے لے جا تو
جو تیرے غم ہیں وہ سب میرے پاس رہنے دے
مجھے تو پینا ہے آنکھوں سے تیری جی بھر کر
تو میرے سامنے خالی گلاس رہنے دے
کبھی کبھی مجھے تنہائیوں میں چھوڑ بھی دے
کبھی کبھی تو مجھے بھی اداس رہنے دے
یہ تلخ لہجہ ترا دل کو کر نہ دے گھائل
زبان و لب پہ ذرا سی مٹھاس رہنے دے
میں تجھ سے دور بہت ہو کے جی نہ پاؤں گا
تجھے قسم ہے مجھے اپنے پاس رہنے دے
تو میری پیاس کی شدت بجھا نہیں سکتی
اے چشم مست مرے لب کی پیاس رہنے دے
تعلقات نہ کر ترک اپنے شاداںؔ سے
کبھی کبھار تو ملنے کی آس رہنے دے
(محمد اسمٰعیل شاداں)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی