محب عارفی کا یوم، وفات 19 دسمبر 2011 منتخب کلام ….


محب عارفی کا یوم، وفات
19 دسمبر 2011
منتخب کلام
….
آئینہ ہے ذات اپنی معمور ہوں جلوؤں سے
مستور ہے نظروں سے ہر چند جمال اپنا
—
اپنے مرکز کو اک وہم سمجھا کیا عقل کا دائرہ
جس کو کچھ اپنے دام کشش کے سوا دل نہیں مانتا
—
سایہ جس کا نظر آتا ہے مجھے
وہ بھی سایہ نظر آتا ہے مجھے
—
وہ آفتابِ حسن ہے جلوے لٹائے جائے گا
اس کو اب اس سے کیا غرض مشتاق کتنا کون ہے
—
اب یہاں کوئی نہیں پہلے یہاں تھا کوئی
جس کے دم سے یہ مکاں اور مکاں تھا کوئی
—
شعلۂ شوق کی آغوش میں کیوں کر آؤں
اک تمنا ہوں کہ مٹ جاؤں اگر بر آؤں
—
پیتا رہا کیا عمر بھر پی کر تمنا کا لہو
کچھ دن سے میری آستیں کچھ زیر لب کہتی تو ہے
—
اس کو پا جاؤں کبھی ایسا مقدر ہے کہاں
اور اٹھا لوں اس سے دل یہ زور دل پر ہے کہاں
—
میرے ساتھ آئے ہیں میرے ساتھ جائیں گے
ہوں جہاں قدم میرے راستے وہیں ہوں گے
—
خردِ یقیں کے سکوں زار کی تلاش میں ہے
یہ دھوپ سایۂ دیوار کی تلاش میں ہے
—
جو زخموں سے اپنے بہلتے رہیں گے
وہی پھول ہیں شہد اگلتے رہیں گے
—
اپنی آگ میں بھنتی جائے بنتی جائے کفن اپنا
گویا اسی لیے چھوڑا ہے چنگاری نے وطن اپنا
—
خیال ذہن شکن سے زبان بھر آ جائے
یہ ہو تو ہاتھ مرے کوئی شعر تر آ جائے
—
خوشبو سے محبؔ کھیلو کیا عود کو روتے ہو
اس عہد کی نظروں سے مخفی ہے ملال اپنا
…..
جو زخموں سے اپنے بہلتے رہیں گے
وہی پھول ہیں شہد اگلتے رہیں گے

گھٹائیں اٹھیں سانپ ویرانیوں کے
انہی آستینوں میں پلتے رہیں گے

شریعت خس و خار ہی کی چلے گی
علم رنگ و بو کے نکلتے رہیں گے

نئی بستیاں روز بستی رہیں گی
جنہیں میرے صحرا نگلتے رہیں گے

مچلتے رہیں روشنی کے پتنگے
دیے میرے کاجل اگلتے رہیں گے

رواں ہر طرف ذوق پستی رہے گا
بلندی کے چشمے ابلتے رہیں گے

جسے سانس لینا ہو خود آڑ کر لے
یہ جھونکے ہوا کے تو چلتے رہیں گے

یہ پتے تو اب پھول کیا ہو سکیں گے
مگر عمر بھر ہاتھ ملتے رہیں گے

محبؔ راستی ہے عبارت کجی سے
مرے بل کہاں تک نکلتے رہیں گے
……….
عمر بھر جس پہ تکیہ رہا کچھ نہ تھا دل نہیں مانتا
کیا کروں تجزیوں کا اٹل فیصلہ دل نہیں مانتا

کوند کر ایک لمحہ جو پھر جا ملا وقت کے ابر میں
چھوڑ دے گی اسے وقت کی مامتا دل نہیں مانتا

گھپ اندھیرے سے لیتی ہے کیوں کر جنم روشنی کی لگن
یہ کرشمہ نہیں ہے کسی شمع کا دل نہیں مانتا

خشک ہی کیوں نہ ہو جائے دریا مرا لہر بن بن کے میں
ڈھونڈھنا چھوڑ دوں خشکیوں کا سرا دل نہیں مانتا

اپنے مرکز کو اک وہم سمجھا کیا عقل کا دائرہ
جس کو کچھ اپنے دام کشش کے سوا دل نہیں مانتا

اس کی تصویر کو دیکھتے دیکھتے یہ ہوا کیا مجھے
یعنی بے حس ہے تصویر کی ہر ادا دل نہیں مانتا

دل میں کچھ ہے زباں سے نکلتا ہے کچھ بات ایسی ہے کچھ
میرا مطلب محبؔ کوئی پا جائے گا دل نہیں مانتا
……
اک لہر سی دیکھی گئی پائے نہ گئے ہم
حالانکہ یہیں تھے کہیں آئے نہ گئے ہم

گرداب میں کیا ہے جسے طوفان مٹائے
ہاں گردش دوراں سے مٹائے نہ گئے ہم

پالا تھا اسے باد سے باراں سے بچا کر
جس آگ سے اے شمع بچائے نہ گئے ہم

ہیں بند یہ کس آئینہ خانے میں کہ باہر
نایاب نظارے نظر آئے، نہ گئے ہم
…………………..