
لاہور میں پانی کی کمیابی اور زیر زمین پانی کی سطح آٹھ سو فٹ تک جانے کی کہانی کا آغاز آج سے دو عشرے قبل دریائے راوی پر انڈیا کے دو ڈیمز مادھو پور اور تھین ڈیم بنانے سے آغاز ہوتا ہے یہ دو ڈیم سن 2000 میں بنائے گئے نتیجتاً راوی جو کبھی وگدی اے راوی ( راوی بہتی ہے ) جیسے محبت بھرے گیتوں سے یاد کیا جاتا تھا رفتہ رفتہ خشک ہوتا گیا اب اس کی حالت ایک گندے نالے کی سی ہو گئی ہے جس کا واحد مقصد لاہور کی گندگی کو اپنے دامن میں سمیٹنا ہے۔اس کو موجودہ حالت میں دیکھ کر نہ صرف دکھ ہوتا ہے بلکہ رہ رہ کر دواکر راہی کا شعر یاد آتا ہے
اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے
ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے
لورن ایزلے(1907-1977) نے سچ کہا تھا کہ کہ کرہ ِ ارض پر اگر کوئی معجزہ اس وقت بھی موجود ہے تو وہ بذات خود پانی ہے اور پانی میں ہی ساری جادوگری پوشیدہ ہے اس قول کی حقیقت اور سچائی تو ظاہر و باہر تھی ہی مگر اپنے وطن عزیز میں پانی کی حفاظت اور اس کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کا احساس حکومتی سطح پر کم ہی ہوا اور آخر کار اس بھاری پتھر کو اٹھانے کا فریضہ بھی عدلیہ کے ہی حصے میں آیا۔لاہور شہر میں پانی کے بیجا مصرف کو روکنے اور اس مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر سائنسی طریقوں سے حل کرنے کی کہانی دلچسپ بھی ہے اور فکر انگیز بھی۔لاہور شہر میں پانی کی سطح کتنی کم ہو چکی ہے اور پانی کے ضیاع کی کیا کیا صورتیں ہیں یہ ہم لوگوں کے علم میں نہ آ سکتیں اگر لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن نہ سنی جاتی اور اس کے حل کے لیے ایک واٹر کمشن نہ تشکیل دیا جاتا اور اس کی سربراہی ایک اعلیٰ دماغ شخصیت کی سربراہی میں یہ کمشن اپنا کام شروع نہ کرتا۔
پانی کی سطح گرنے کے ساتھ ہی اس مسئلے کی کسی تدبیر کا آغاز حکومتی سطح پر ہونا چاہیے تھا مگر یہ مسئلہ روز بروز گھمبیر ہوتا چلا گیا اور اسے جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی بجائے اس کو نظر انداز کیا جاتا رہا مگر جوڈیشیل واٹر کمشن کی تشکیل سے اس مسئلے کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی اور اس مسئلے کو حل کرنے کی مختلف اقدامات بھی کئے گئے۔اس جوڈیشیل واٹر کمشن کی کہانی سبق آموز بھی ہے اور چشم کشا بھی۔ہوا یوں کہ 2018 جسٹس علی اکبر قریشی کی عدالت میں ایک رٹ پیٹیشن سید کمال حیدر بنام حکومت پنجاب میں فاضل عدالت کو بتایا گیا کہ شہر لاہور میں پانی کی سطح 800 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور تمام گہرائی 1300 فٹ ہے جس کے نیچے فقط چٹانیں ہیں یہ جانکاری بہت تشویشناک تھی عدالت نے اس ضمن میں بہت سارے اقدامات کا حکم دیا۔اس سے قبل مال روڈ کو اس کی اصل صورت میں لانے اور وہاں سے دیو ہیکل بل بورڈ ہٹانے کا فیصلہ بھی جسٹس علی اکبر قریشی نے ہی کیا تھا۔ لاہور میں پانی کی گھمبیر صورت احوال کی درستی کے لیے ان کی سربراہی میں ایک جوڈیشیل واٹر کمشن تشکیل دیا گیا۔
یوں تو دنیا کے ستر فیصد حصے پر پانی ہے مگر اس میں صرف تین فیصد پانی پینے کے قابل ہے۔ تیس فیصد علاقے پر انسان کی آبادیاں ہیں جنگل ہیں اور دوسرے مقامات ہیں مگر اس کے باوجود دنیا کو اس وقت پانی کے ذخائر کی قلت کا سامنا ہے اور اس کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔دنیا کے چار سو بڑے شہروں میں ہر چوتھا شہر پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔بنگلور ماسکو لندن بیجنگ استنبول دنیا کے وہ میٹروپولٹن شہر ہیں جہاں پانی کی قلت بھی ہے اور ارد گرد کا علاقہ قحط سالی کا شکار رہا ہے اور مستقبل بھی یہ خطرہ برقرار ہے۔ دنیا میں پانی کی قلت کا شکار ممالک میں پاکستان کا بارہواں نمبر ہے
کمشن نے اپنے قیام کے ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں درجنوں منصوبوں کا آغازکیا تا کہ شہر میں پانی کی کمیابی کے مسئلے کو ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پر مستقلاً حل کیا جا سکے۔بہت سارے اقدامات میں سب سے پہلے وضو کے استعمال شدہ پانی کو جمع کر کے اسے کاشتکاری اور فصلوں کے لیے استعمال کرنا تھا۔ایک حیران کن انکشاف یہ تھا کہ اس وقت داتا دربار میں ایک لاکھ گیلن، بی بی پاک دامن میں پچاس ہزار، میاں میر دربار میں پچاس ہزار ، مادھو لال حسین درگاہ میں پچاس ہزار ، شاہ جمال درگاہ پچاس ہزار ، درگاہ شاہ کمال میں پچاس ہزار اور پیر مکی اور شاہ عنایت قادری کے مزارات پر پچیس پچیس ہزار گیلن وضو کے استعمال شدہ پانی کو ذخیرہ کر کے اسے دوبارہ زرعی مقاصد کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ان مزارات پر وضو کے لیے چار لاکھ گیلن پانی روزانہ کی بنیاد پر سیوریج کے گندے پانی میں ضائع ہو رہا ہے۔اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں داتا دربار میں ایک لاکھ گیلن روزانہ پانی کو جمع کر کے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اس طرح لاہور کی مختلف رہائشی سوسائٹیز میں ایک سو چھیاسی حوض تعمیر کیے جا چکے ہیں جن میں ایک سو بیس پوری طرح کام کر رہے ہیں۔باغ ِجناح کی پچھلی جانب لارنس روڈ پر مون سون اور بارش کے پانی کو وہاں نئے تعمیر شدہ حوض میں منتقل کر کے بوقت ضرورت اسی باغ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
غیر قانونی پانی کے کنکشنز پر پابندی کے ساتھ رہائشی سوسائٹیز سے باسٹھ کروڑ کی خطیر رقم وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع کرائی جا چکی ہے۔ایک اور اہم کام کار واشنگ سٹیشنز کے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے احکامات جاری ہوئے جن کی خلاف ورزی اور ہدایات کی عدم پیروی پر اب تک ایک سو چورانوے سروس سٹیشنز بند کیے جا چکے ہیں۔شہر کے بیچوں بیچ گزرتی نہر جو اس کے حسن کو کم نہیں ہونے دیتی اس کی صفائی بھی اس کمشن کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس کمشن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ چودہ متعلقہ حکومتی محکموں کے تعاون اور شرکت سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے ان محکموں میں واسا ایل ڈی اے پی ایچ اے اور دیگر اہم مجاز اتھارٹیز ہیں۔اگر جوڈیشیل واٹر کمشن جیسے ادارے نہ بناٸے گئے تو وہ دن دور نہیں جب بڑے شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ک طرح پانی کی بھی لوڈ شیڈنگ کرنی پڑے گی اس سلسلے میں جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاٶن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے ہاں سیاست اور اہل سیاست کو تو بہت اہمیت دی جاتی ہے کہیں کسی منصوبے کا آغاز ہو رہا ہے کہیں تختی کے اوپر کسی اور کے نام کی تختی لگ رہی ہے کہیں تختی کی افتتاحی تقریب اور نقاب کشائی ہورہی ہے اور ان تقریبات کو میڈیا کی زینت بھی بنایا جاتا ہے مگر ایسے دیرپا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے والے لوگوں کی پذیرائی ذرا کم ہوتی ہے اصل میں ایسے کام کرنے والے ہی قوم کے اصل ہیرو ہوتے ہیں اور انہیں کے کام کو یاد رکھا جانا چاہییے۔جسٹس علی اکبر قریشی جیسے نابغوں کی قدر ہمارا قومی فریضہ ہے۔لاہور ایک شہر نہیں ایک تاریخ اور ایک ثقافت کا نام ہے جس کی حفاظت عین فرض ہے۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔