قسط 11
???? جنت کے پتے ????
داؤد اور سونیا کی شادی کے چند روز بعد کا ذکر ھے۔۔ صبح سے سردی بہت بڑھ رہی تھی دسمبر ختم ھونے کو تھا۔۔۔اور ہوا ٹھٹھرا دینے والی تھی۔۔ ایسے میں وہ کیمپس میں اسکالرشپ کوآرڈینیٹر کے آفس کے باہر دروازے پر لگی لسٹ دیکھ رہی تھی۔۔ تمام سٹوڈنس میں سے صرف دو لڑکیاں سانجی یونیورسٹی جارہی تھیں۔۔۔
حیا سلمان اور خدیجہ رانا۔۔۔۔
یہ خدیجہ رانا ھے کون بھلا۔۔۔؟؟ وہ سوچتے ھوئے اپنے یخ ہوتے ہاتھوں کو آپس رگڑ رہی تھی۔۔۔ سردی سے اسکی ناک سرخ ھورہی تھی۔۔
لانگ شرٹ اور ٹراوزر پر اسٹائلش سا سویٹر پہنے وہ دروازے پر کھڑی تھی۔۔۔ عقب سے کسی نے پکارا۔۔ ایکسکوز می۔۔۔۔۔
وہ چونک کر پلٹی ۔۔ پیچھے ایک لڑکی کھڑی تھی۔۔۔ کندھے پر بیگ،ہاتھ میں ڈائری اور پین اور آنکھوں میں بڑا سا چشمہ۔۔ وہ اس کو نام سے نہیں پہچانتی تھی۔۔۔ مگر اسکو کئی دفعہ یونیورسٹی میں دیکھا ضرور تھا۔۔۔۔ وہ لڑکی اسے خؤاہ مخوایہ ہی بہت بری لگتی تھی۔۔۔۔
"یہ حیا سلمان کون ھے بھلا؟؟؟” وہ چشمے کے پیچھے سے آنکھیں سکیڑتی ھوئی بولی۔۔۔ حیا نے ایک طنزیہ نگاہ میں اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا۔۔۔۔۔ پھر روکھے انداز میں بولی "میں ھوں”
اوہ جیسے اس نے بمشکل ناگواری چھپائی۔۔۔۔۔۔
میں آپ کے ساتھ ترکی جا رہی ھوں حیا۔ میں خدیجہ ھوں میری فرنڈز مجھے ڈی جے کہتی ھیں۔۔۔ آپ میری فرنڈ نہیں ھیں سو آپ مجھے خدیجہ ہی کہیے گا۔۔۔۔۔
مجھے بھی حیا صرف میرے فرنڈز کہتے ھیں۔۔۔ آپ مجھے مس سلمان کہہ سکتی ھیں۔۔۔ وہ کہہ کر پلٹ گئی۔۔۔
عجیب بددماغ لڑکی تھی وہ خدیجہ رانا۔۔۔ اسے خؤاہ مخواہ ہی بہت بری لگتی تھی۔۔ اور اب اسے اندازہ ھو گیا کہ اس کے بھی حیا کے بارے میں خیالات ایسے ہی تھے۔۔۔۔ وہ جیسے ہی گھر آئی ظفر سامنے آگیا بھاگتا ھوا۔۔ ہانپتا ھوا۔۔۔
"حیا بی بی۔۔ حیا بی بی”
بو؛ل بھی چکو اب۔۔ وہ گاڑی لاک کرتے ھوئے کوفت زدا ھوئی۔۔۔
آپ کو ارم بی بی بلا رہی ھیں۔۔۔
خیریت؟؟
خیریت نہیں لگتی جی۔۔۔۔۔ وہ بہت رو رہی ھیں ظفر نے رازداری سے بتایا تو وہ چونک گئی۔۔۔۔ اچھا میں آتی ھوں۔۔ تم یہ میرا بیگ اندر رکھ دو۔۔۔ وہ سیدھا ارم کے گھر کھلنے والے درمیانئ دروازے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
لاؤنچ میں صائمہ تائی اور سونیا بیٹھی تھیں۔۔۔سامنے کوئی کامدار دوپٹہ پھیلا رکھا تھا اور دونوں اسی کے ساتھ اللجھی تھیں۔۔۔آہہٹ پر سر اٹھایا۔۔ اسے دیکھ کر دونوں مسکرا دیں۔۔
حیا کیسی ھو؟؟؟
بلکل ٹھیک ۔۔ ارم کدھر ھے تائی اماں مجھے بلا رہی تھی؟؟؟
"اندر کمرے میں ھوگی”
اوکے میں دیکھ لیتی ھوں۔۔ وہ مسکراتے ھوئے آگے بڑھ گئی۔۔ تائی کے کمرے کا دروازہ بند تھااس نے ڈور ناپ گھما کر دھکیلا۔۔۔ دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔ بیڈ پر ارم اکڑوں بیٹھی تھی۔۔۔ سامنے لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔۔ چکتی سکریں ارم کے چہرے کو بھی چمکا رہی تھی۔۔۔ جس پہ آنسو لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے
ارم کیا ھوا؟؟؟ وہ کدرے فکر مندی سے ارم کے سامنے آبیٹھی۔۔۔
ارم نے سرخ متورم آنکھیں اٹھا کر حیا کو دیکھا۔۔۔ حیا ایک بات تو بتاؤ،،،،؟ اسکا لہجہ عجیب سا تھا۔۔۔
بولو۔۔۔
ہم شریف لڑکیاں ھیں کیا؟؟
اپنے بارے میں تو یقین ھے مگر تمہارا معاملہ تھوڑا مشکوک ھے۔۔اس نے ماحول کا بوجھل پن دور کرتے ھوئے کہا۔۔۔ مگر ارم مسکرائی تک نہیں۔۔۔
"نہیں حیا ہم دونوں کا ایک ہی معاملہ ھے”
کیوں پہلیاں بجوا رہی ھو ہوا کیا ھے؟
حیا مجھے بتاؤ کیا ہم مجرا کرنے والیا ھیں؟
وہ ایک دم رونے لگی تھی۔۔ وہ ششدر رہ گئی۔۔۔۔۔ بتاؤ کیا ھم طوائفیں ھیں۔۔۔؟؟؟ وہ اور زور سے رونے لگی۔۔!
ارم بات کیا ھوئی ھے؟؟؟
حیا بولو بتاؤ کیا ھم ایسی ھیں؟؟؟
نہیں بلکل نہیں!
پھر۔۔۔۔ پھر یہ کیا ھے؟؟ ارم نے لیپ ٹاپ کی سکرین کا رخ اسکی طرف کیا۔۔۔ کیا ھے یہ؟؟؟ اس نے الجھن سے سکرین کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ایک ویڈیو اپلوڈئنگ ویب سائٹ کھلی ھوئی تھی۔۔ اور اس پہ ایک ویڈیو چل رہی تھی۔۔ اوپر لکھا ھوا تھا رومن میں۔۔۔ "شریفوں کا مجرا”
ویڈیو کسی شادی کے فنگش کی تھی ہر سجی سنوری عورت اور درمیان میں محو رقص دو لڑکیاں۔۔۔ ایک کا لہنگا گولڈن تھا اور دوسری کا سلور۔۔
پوری چھت جیسے اسکے سر پر آن گری۔۔
نہیں وہ کرنٹ کھا کر اٹھی۔۔یہ کیا ھے؟؟
یہ شریفوں کا مجرا ھے حیا۔۔۔ اور یہ ہم نے کیا ھے یہ داؤد بھائی کی مہندی کی ویڈیو ھے جو کسی نے ادھر نیٹ پہ ڈال دی۔۔۔ یہ پڑھو ویڈیو ڈالنے والے نے اپنا ای میل ایڈرس بھی لکھا ھے جس پہ میل کر کے پورے ڈانس کی ویڈیو حاصل کی جاسکتی ھے۔۔۔
یہ دیکھو اس ویڈیو کو تین دن میں سینکڑوں لوگ دیکھ چکے ھیں۔۔۔ ہم برباد ھوگئے ھیں حیا۔۔ ہم کہیں کے نہیں رہے
ارم پھوٹ پھوٹ کے روئے جارہی تھی اور وہ ساکت اسکرین کو دیکھے جارہی تھی۔۔۔۔
جاری ھے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔