فیض احمد فیض کی نظم ”دو عشق“
”دو عشق“
وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کا م کیا
عشق کام کے آڑے آتا رہا
اور کام سے عشق الجھتا رہا
پھر آخر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
فیض احمد فیض