( غیر مطبوعہ )
لا مکانی کے ان دائروں میں کہیــں نخــــل امـکان ہے
رست خیــــــزی* کے کرتب دکھاتا ہوا کوئی دہقان ہے
کِشتِ خِلقت کی مٹّی نجانے نمو گیر کیسے ہوئی
پھول کیسے کھلا ، سوچنے کے لیے صرف انسان ہے
چرخ کی نیل گوں طشتری میں ستارے پگھلنے لگے
روشنی اپنے اندر سمٹتے ہوئے خود بھی حیران ہے
شہرِ افراط کی چیونٹیوں کو لگی مفلسی کی وبا
اور قناعت کے رستے پہ جو چـــل پڑا وہ سُـلیمان ہے
معبــدوں میں ندی کے کنارے مقــــدّس ملائم مہَـک
نذر کے واسطے دیوداسی کی زلفوں میں لوبان ہے
ایک بے جسم ذرّہ کہ شاید بنائے نئی کہکشاں
آنکھ میں روشنی کی مجرد اکائی کا فَوٹان *ہے
معرکہ خیز مقدونیہ کا جواں لشکری تھک گیا
اس کو کیا تھی خبر آخـــــرش اس کہانی میں ملتان ہے *
٭ رست خیزی : Rejuvenation or reincarnation * فوٹان : Photon particle that has no mass of its own
( عابد رضـا )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔