( غیر مطبوعہ )
(ایک نثری نظم)
پھر قصبے پہ گھٹا چھا جاتی ہے
ننگی ٹہنیوں سے رِس رس کر
بارش پھر ہوتی ہے
پھر گھنے درختوں میں
بلندی سے نظر آتی
راستے کی لکیر مٹ جاتی ہے
مٹی دھل جاتی ہے
مگر کہیں کہیں
گیلی زمین سے خشکی سر اٹھاتی ہے
تو بارش پھر ہوتی ہے
دور کہیں کسی فارم ہاؤس کی
انگیٹھی سے دھواں اٹھتا ہے
اور لکیر بناتا ہے
سردی بڑھ جاتی ہے!
ٹوٹی ہوئی کھڑکی کی چھت سے
جب بارش کے قطرے ٹپ ٹپ گرتے ہیں
تو گائے کے گلے کی گھنٹی بجتی ہے
تب کسی گھوڑے کی ہنہناہٹ
فضا میں ارتعاش پیدا کردیتی ہے
آس پیدا کردیتی ہے
جب پل پل بجلی چمکتی ہے
تو دور کہیں چھتری تھامے
ایک وحشی لڑکی
کسی کی دید کو ترستی ہے
بارش پھر پوتی ہے
(سید اعظم شاہ)

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔