طبیب، ادیب و شاعر ڈاکٹر عبرتؔ بہرائچی کا یومِ وفات
25؍اپریل 2021
نام عبد العزیز خاں اور تخلص عبرتؔ بہرائچی ہے۔ یکم؍جنوری 1933ء کو شہر بہرائچ میں پیدا ہوئے۔
ڈاکٹر عبرتؔ بہرائچی 25؍اپریل 2021ء مطابق 12 رمضان المبارک ١٤٤٢ھ کو وفات پا گئے۔
منتخب کلام
میت کو میری دوستو آہستہ لے چلو
میں موت سے لڑا ہوں ،بدن چور چور ہے
———-
نفرتیں آپے سے باہر ہوگیئں
جب سے پھیلا ہے نظریاتی بخار
———-
بے ضمیروں کے کبھی جھانسے میں میں آتا نہیں
مشکلوں کی بھیڑ سے ہرگز میں گھبراتا نہیں
مجھ سے اب اپنی زباں سے کچھ کہا جاتا نہیں
جرم کر کے بھی کوئی مجرم سزا پاتا نہیں
میری خودداری سدا کرتی ہے میری رہبری
میں کبھی پتھر سے اپنے سر کو ٹکراتا نہیں
حق شناسی میرا مسلک حق پرستی میرا کام
میں کھلونوں سے کبھی دل اپنا بہلاتا نہیں
پیڑ جو دیتا ہے سایہ دھوپ میں رہتا ہے وہ
روشنی دیتا ہے جو وہ روشنی پاتا نہیں
آدمی کے پاس خود ذاتی مسائل ہیں بہت
دوسروں کے اب مسائل کوئی سلجھاتا نہیں
آرزوؤں کے چراغوں کو بجھا بیٹھا ہوں میں
کوئی انساں آ کے میرے دل کو بہلاتا نہیں
……
انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کو
کوئی اپنا کے دکھائے کبھی انجانے کو
خودکشی جیسا کوئی جرم نہیں دنیا میں
کوئی بتلاتا نہیں جا کے یہ پروانے کو
ساقیٔ وقت نے جب چھین لی ہاتھوں سے شراب
میں نے ٹکرا دیا پیمانے سے پیمانے کو
خاک زادہ نہیں پیدا ہوا ایسا کوئی
جو حقیقت میں بدل دے مرے افسانے کو
ابرہہ جیسا اگر ہو گیا پیدا کوئی
کیا بچا پائیں گے ہم اپنے خدا خانے کو
ایک مفسد کی یہ پھیلائی ہوئی ہے افواہ
رات بھر شمع سے نفرت رہی پروانے کو
…………………
