سورہ الرحمن (55)
شروع اللہ کے نام سے جو بڑامہربان، نہایت رحم والا ہے۔
1۔ رحمان نے۔
2۔ قرآن کی تعلیم دی۔
3۔ اس نے انسان کو پیدا کیا۔
4۔اس کو بولنا سکھایا۔
5۔ سورج اور چاند کے لیے ایک حساب ہے۔
6۔اور ستارے اوردرخت سجدہ کرتے ہیں۔
7۔ اوراس نے آسمان کواونچا کیا اور اس نے ترازو رکھ دی۔
8۔کہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو۔
9۔ اور انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولو اور تول میں نہ گھٹاؤ۔
10۔ اور زمین کو اس نے خلق کے لیے رکھ دیا۔
11۔ اس میں میوے ہیں اور کھجور ہیں جن کے اوپرغلاف ہوتا ہے۔
12۔ اور بھس والے اناج بھی ہیں اور خوشبودار پھول بھی۔
13۔پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔
14۔ اس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔
15۔اوراس نے جنات کو آگ کی لپٹ سے پیداکیا۔
16۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔
17۔ اور وہ مالک ہے دونوں مشرق کااوردونوں مغرب کا۔
18۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔
19۔ اس نے چلائے دو دریا، مل کر چلنے والے۔
20۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔
21۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔
22۔ ان دونوں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے۔
23۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔
24۔ اور اسی کی ہیں جہاز، سمندر میں اونچے کھڑے ہوئے جیسے پہاڑ۔
25۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کوجھٹلاؤگے۔
26۔ جو بھی زمین پر ہے، وہ فنا ہونے والا۔
27۔اور تیرے رب کی ذات باقی رہے گی،عظمت والی اور عزت والی۔
28۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔
29۔اسی سے مانگتے ہیں جو آسمانوں اورزمین میں ہیں۔ہر روز اس کا ایک کام ہے۔
30۔پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کوجھٹلاؤگے۔
31۔ ہم جلدی فارغ ہونے والے ہیں تمھاری طرف ، اے دو بھاری قافلو۔
32۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کوجھٹلاؤگے۔
33۔ اےجنوں اور انسانوں کے گروہ۔اگر تم سے ہوسکے کہ تم آسمانوں اورزمین کی حدود سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ،تم نہیں نکل سکتے بغیر سند کے۔
34۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
35۔ تم پرچھوڑے جائیں گے آگ کے شعلے اور دھواں تو تم بچاؤ نہ کرسکو گے۔
36۔پھر تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔
37۔ پھر جب آسمان پھٹ کر کھال کے مانند سرخ ہوجائے گا۔ 38۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔
39۔پس اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کی بابت پوچھ نہ ہوگی۔
40۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔
41۔ مجرم پہچان لیے جائیں گے اپنی علامتوں سے، پھر پکڑا جائے گاپیشانی کے بال سے اور پاؤں سے۔
42۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔
43۔ یہ جہنم ہے جس کو مجرم لوگ جھوٹ بتاتے تھے۔
44۔ وہ پھریںگے اس کے درمیان اورکھولتے پانی کے درمیان۔
45۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔
46۔ اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے، اس کے لیے دوباغ ہیں۔
47۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
48۔ دونوں بہت شاخوں والے۔
49۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
50۔ ان کے درمیان دوچشمے جاری ہوں گے۔
51۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
52۔ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں۔
53۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
54۔ وہ تکیہ لگائے ایسے بچھونوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے۔اور پھل ان باغوں کا جھک رہا ہوگا۔
55۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
56۔ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہوں گی، جنھیں ان لوگوں سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا نہ کسی جن نے۔
57۔پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
58۔ وہ ایسی ہوں گی جیسے کہ یاقوت اورمرجان۔
59۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
60۔ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے۔
61۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔
62۔ اور ان کے سوا دو باغ اور ہیں۔
63۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
64۔دونوں گہرے سبز سیاہی مائل۔
65۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
66۔ ان میں دوچشمے ہوں گے ابلتے ہوئے۔
67۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔
68۔ ان میں پھل اور کھجور اور انارہوں گے۔
69۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
70۔ ان میں خوب سیرت، خوب صورت عورتیں ہوں گی۔
71۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
72۔ حوریں خیموں میں رہنے والیاں۔
73۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
74۔ ان سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہوگا اور نہ کسی جن نے۔
75۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
76۔ تکیہ لگائے سبز مسندوں پر اور قیمتی نفیس بچھونے پر۔
77۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
78۔بڑا بابرکت ہے تیرے رب کا نام بڑائی اور عظمت والا۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔