سراپا راز ہوں، میں کیا بتاؤں کون ہوں، کیا ہوں
سمجھتا ہوں، مگر دنیا کو سمجھانا نہیں آتا
…
” غالبؔ شکن” نامور شاعر یاس یگانہ چنگیزی کی پیدائش
یاس یگانہ چنگیزی 17 اکتوبر 1884ء کو صوبہ بہار کے شہر پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے۔
اصل نام مرزا واجد حسین تھا۔ ابتدا میں یاس تخلص کرتے تھے پھر یگانہ تخلص اختیار کیا۔
یگانہ ایک قادر الکلام شاعر تھے لیکن جب وہ پچھلی صدی کے اوائل میں عظیم آباد سے ہجرت کر کے لکھنؤ آئے تو لکھنؤ والوں نے ان کی بالکل ہی قدر نہ کی۔ اس وقت لکھنؤ والے اپنے برے سے برے شاعر کو بھی باہر والے اچھے سے اچھے شاعر کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے تھے اور یگانہ چونکہ "باہر والے” تھے سو لکھنؤ والوں کو ایک آنکھ نہ بھائے۔ بقول مجنوں گورکھپوری، "لکھنؤ کے لوگوں میں اتنا ظرف کبھی نہ تھا کہ کسی باہر کے بڑے سے بڑے شاعر کو لکھنؤ کے چھوٹے سے چھوٹے شاعر کے مقابلے میں کوئی بلند مقام دے سکیں۔” (غزل سرا، نئی دہلی 1964ء بحوالہ چراغِ سخن از یگانہ، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور، 1996ء)۔
اور یہیں سے یگانہ اور لکھنؤ کے شعرا کے درمیان ایک ایسی چشمک شروع ہو گئی جو یگانہ کی موت پر بھی ختم نہ ہوئی، مزید برآں یہ کہ اس وقت لکھنؤ کے شعرا غالب کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور اپنے ہر اس شاعر کو مسندِ علم و فضل پر بٹھا دیتے تھے جو غالب کے رنگ میں کہتا تھا چاہے جتنا بھی برا کہتا تھا سو یگانہ کی اپنی محرومی کے سبب غالب سے بھی دشمنی پیدا ہو گئی اور آخری عمر تک غالب کے کلام میں نقص تلاش کرتے رہے اور انکا اظہار کرتے رہے
1904ء میں وہ لکھنؤ گئے جہاں کی فضا انہیں کچھ ایسی راس آئی کے وہیں کے رہے۔ لکھنؤ میں مشاعروں اور ادبی محافل کا دور دورہ تھا لیکن لکھنؤ کے روایت پسند اساتذہ سے یگانہ کی بنی نہیں۔ یگانہ اچھے اچھے شاعروں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے حتیٰ کہ مرزا غالب بھی ان کے اعتراضات کی زد سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یگانہ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ لکھنؤ میں بڑی کسمپرسی میں بسر کیا اور وہیں 4 فروری 1956ء کو انتقال کیا۔
یگانہ کے شعری مجموعے نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ اور گنجینہ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ 2003ء میں مشفق خواجہ نے ان کے کلام کی کلیات شائع کی۔یگانہ لکھنؤ میں کربلائے منشی تفضل حسین (وکٹوریہ گنج ) میں آسودۂ خاک ہیں۔
یگانہ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
……٭٭٭……
ہر شام ہوئی صبح کواک خواب فراموش
دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی
……٭٭٭……
علم کیا علم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گمان میں آئی
……………….
