دیکھ کر طول شب ہجر دعا کرتا ہوں
وصل کے روز سے بھی عمر مری کم ہو جائے
….
نواب واجد علی شاہ کے استاد حضرتِ مرزا رضا برقؔ لکھنوی کا یومِ وفات
17؍اکتوبر 1857
منتخب کلام
اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
نہیں بچتا نہیں بچتا نہیں بچتا عاشق
پوچھتے کیا ہو شب ہجر میں کیا ہوتا ہے
بے اثر نالے نہیں آپ کا ڈر ہے مجھ کو
ابھی کہہ دیجیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
کیوں نہ تشبیہ اسے زلف سے دیں عاشق زار
واقعی طول شب ہجر بلا ہوتا ہے
یوں تکبر نہ کرو ہم بھی ہیں بندے اس کے
سجدے بت کرتے ہیں حامی جو خدا ہوتا ہے
برقؔ افتادہ وہ ہوں سلطنت عالم میں
تاج سر عجز سے نقش کف پا ہوتا ہے
…..
وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گے
جب تک کہ تمہیں شہر میں رسوا نہ کریں گے
گھبرا گئے بیتابی دل دیکھ کے اے جان
ٹھہرو تو ابھی ہجر میں کیا کیا نہ کریں گے
مر جاؤں تو مر جاؤں برا مانیں تو مانیں
پھر کیسے مسیحا ہیں جو اچھا نہ کریں گے
وہ حسن میں کامل ہیں تو ہم صبر میں یکتا
تا عمر کبھی ذکر بھی ان کا نہ کریں گے
چھپ چھپ کے کہیں گے جو چھپانے کے سخن ہیں
ہم تم سے کسی بات کا پردا نہ کریں گے
بدنامی سے ڈرتے ہو عبث عشق میں اے برقؔ
کب تک بشر اس بات کا چرچا نہ کریں گے
…..
بے بلائے ہوئے جانا مجھے منظور نہیں
ان کا وہ طور نہیں میرا یہ دستور نہیں
لن ترانی کے یہ معنی ہیں بجا ہے دعویٰ
دیکھے بے پردہ تجھے کوئی یہ مقدور نہیں
وہ کہاں تاج کہاں تخت کہاں مال و منال
قابل اب بھیک کے بھی کاسۂ فغفور نہیں
بے عبادت نہ خدا بخشے گا سبحان ﷲ
ایسی فردوس سے ہم گزرے کہ مزدور نہیں
میں وہ مے کش ہوں نہ رکھوں کبھی بھولے سے قدم
کوئی کہہ دے یہ اگر خلد میں انگور نہیں
دم بہ دم اٹھتے ہیں طوفان جو برقؔ اشکوں کے
نوح کا وقت نہیں آنکھ ہے تنور نہیں
……………………..
