زہے قسمت ہلال عید کی صورت نظر آئی
جو تھے رمضان کے بیمار ان سب نے شفا پائی۔
پہاڑوں سے وہ اترے قافلے روزہ گزاروں کے
گیا گرمی کا موسم اور آئے دن بہاروں کے ۔
اٹھا ہوٹل کا پردہ سامنے پردہ نشیں آئے
جو چھپ کر کر رہے تھے احترام حکم دیں آئے ۔
نماز عید پڑھنے کے لیے سرکار آئے
اور ان کے ساتھ سارے طالب دیدار آئے ۔
یہی دن اہل دل کے واسطے امید کا دن ہے
تمھاری دید کا دن ہے ہماری عید کا دن ہے ۔
مجید لاہوری

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔