روز تازہ ستم روز تازہ ستم
پھر بھی زندہ ہیں ہم پھر بھی زندہ ہیں ہم
کون سلجھا سکا کون سلجھا سکا
زلف کے پیچ و خم زلف کے پیچ و خم
اور کب تک جئیں اور کب تک جئیں
روز مر مر کے ہم روز مر مر کے ہم
کیا ہوئی ہے کبھی کیا ہوئی ہے کبھی
آنکھ تیری بھی نم آنکھ تیری بھی نم
کیسے کر لیں یقیں کیسے کر لیں یقیں
تیرے وعدوں پہ ہم تیرے وعدوں پہ ہم
ساتھ چلتے مرے ساتھ چلتے مرے
آپ بھی دو قدم آپ بھی دو قدم
راس آنے لگے راس آنے لگے
اب تو ماہرؔ کو غم اب تو ماہرؔ کو غم
(ماہر سیوہاروی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی