اب وہ آفتابِ خاموش اپنی زرّیں سوئیوں سے شامِ جاں ک…


اب وہ آفتابِ خاموش
اپنی زرّیں سوئیوں سے شامِ جاں کے سیاہ مخمل پر کوئی نقش نہ اُتارے گا

یادوں کی ایک شبح آلود کیاری نے ایک قدیم سرائے کے خاموش حجرے میں پناہ لی ہے
وہاں جہاں میرے خواب کی زرد و نقرئی روشنی اب تک دیواروں سے لپٹی ہوئی ہے
جہاں خوابوں کی پنکھڑیاں گزشتہ زمانوں کے عطر میں مدہوش ہیں اور اُس ہستی کی ماتم دار ہیں جس کا دل ایک ستاروں بھری شبِ تابستاں میں ہمیشہ کے لیے دھڑکنا چھوڑ گیا تھا
مگر اُس کی خاموش موجودگی آج بھی میرے خالی پن کو بھر دیتی ہے
جیسے کسی دور افتادہ کہکشاں کی روشنی ستاروں کے بجھ جانے کے بعد بھی برسوں تک زمین تک پہنچتی رہتی ہے