رئیس امروہوی خطّۂ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام شہر…


رئیس امروہوی

خطّۂ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام
شہریوں کو غازیوں کو شہسواروں کو سلام

خطۂ لاہور کیا رُتبہ ہے تیری خاک کا
تُو ہے اِسٹالن گراڈ اِس سرزمینِ پاک کا
ارضِ شالامار، راوی کے کِناروں کو سلام
خطّۂ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام

ایک ہی جھٹکے میں دُشمن کی کلائی موڑ دی
تو نے دشمن کی کمر ضربِ گراں سے توڑ دی
اے شہیدوں کے چمن تیری بہاروں کو سلام
خطّۂ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام

رحمتیں زندہ دلانِ خطۂ لاہور پر
چار جانب گونجتا ہے نعرۂ فتح و ظفر
اپنے پیاروں کو دعائیں اپنے یاروں کو سلام
خطّۂ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام

زورِ بازو پر تِرے اہلِ وطن کو اعتماد
زندہ و پائندہ و تابندہ و رخشندہ باد
شانِ فتح و کامرانی کے نظاروں کو سلام
خطّۂ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام

رئیس امروہوی