دیکھیے، میں آپ لوگوں کے لاؤڈ اسپیکر سے پہلے ہی تن…


💥 دیکھیے، میں آپ لوگوں کے لاؤڈ اسپیکر سے پہلے ہی تنگ ہوں۔ صبح، دوپہر، شام بس آوازیں ہی آوازیں! 🥹💔

شام کی اذان میں ابھی کچھ وقت باقی تھا جب مسجد کی انتظامیہ کے دو آدمی امام صاحب کے پاس آ بیٹھے۔

محلے کی مسجد کی مرمت اور تزئینِ نو کا کام شروع ہو چکا تھا، مگر چندے کی رقم پوری ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مزدوروں کی اجرت دینی تھی، سامان والے کا حساب باقی تھا اور ٹھیکے دار بار بار تقاضا کر رہا تھا۔

ایک منتظم نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا، ’’امام صاحب، محلے کے نکڑ پر جو بڑے تاجر صاحب رہتے ہیں، اللہ نے انہیں بہت دیا ہے۔ کاروبار بھی خوب چلتا ہے، مگر مسجد سے ان کا کوئی خاص تعلق نہیں۔ نماز پڑھتے بھی شاید ہی کبھی کسی نے دیکھا ہو۔‘‘

دوسرے نے بات آگے بڑھائی، ’’لوگ کہتے ہیں کہ انہیں دین کی باتیں پسند نہیں۔ آپ کوشش کر لیں تو شاید کچھ مدد ہو جائے۔‘‘

امام صاحب خاموشی سے سنتے رہے۔ پھر بولے، ’’اللہ نے مجھے لوگوں کے دلوں کا حساب رکھنے پر نہیں بٹھایا۔ میرا کام تو بس دروازہ کھٹکھٹانا ہے۔ آگے جو ہوگا، اللہ کی مرضی سے ہوگا۔‘‘

اگلی شام امام صاحب اس تاجر کے گھر پہنچ گئے۔

دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے جواب آیا، ’’صاحب گھر پر نہیں ہیں۔‘‘

امام صاحب نے نرمی سے کہا، ’’انہیں بتا دیجیے گا کہ مسجد کے امام صاحب آئے تھے۔‘‘

وہ واپس پلٹنے ہی والے تھے کہ جانے کیا سوچ کر دوبارہ دروازہ کھٹکھٹا دیا۔

اس بار اندر سے تیز قدموں کی آواز آئی۔ دروازہ کھلا تو تاجر صاحب کے چہرے پر ناگواری صاف دکھائی دے رہی تھی۔

’’آپ کو ایک دفعہ کہہ دیا نا کہ میں گھر پر نہیں ہوں! کیا آپ کو بات سمجھ نہیں آتی؟‘‘

امام صاحب نے سکون سے سلام کیا۔

تاجر صاحب مزید جھنجھلا گئے۔

’’دیکھیے، میں آپ لوگوں کے لاؤڈ اسپیکر سے پہلے ہی تنگ ہوں۔ صبح، دوپہر، شام بس آوازیں ہی آوازیں! اب آپ میرے گھر تک بھی پہنچ گئے؟ نماز اللہ کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ میں کہیں بھی پڑھوں، آپ سے مطلب؟ اور یہ محلے میں اتنے لوگ ہیں، چندہ لینے کے لیے آپ کو میں ہی کیوں یاد آیا؟‘‘

امام صاحب نے نظریں جھکائے بغیر، مگر پوری عاجزی سے عرض کیا، ’’آپ کی بات بجا، صاحب۔ میں آپ سے آپ کی نماز کا حساب لینے نہیں آیا۔ نہ ہی آپ کو کوئی نصیحت کرنے آیا ہوں۔ مسجد کی مرمت کا کام شروع ہو گیا ہے، مگر رقم کم پڑ گئی ہے۔ سوچا، اللہ نے آپ کو وسعت دی ہے، شاید آپ بھی اس کام میں حصہ ڈالنا چاہیں۔‘‘

تاجر صاحب نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ’’لگتا ہے آپ نے طے کر رکھا ہے کہ آج کچھ لیے بغیر نہیں جائیں گے! اچھا، لائیے اپنا ہاتھ آگے کریں۔ آپ کو چندہ دیتا ہوں۔‘‘

امام صاحب نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھا دیا۔

تاجر صاحب نے جیب سے ہاتھ نکالا اور امام صاحب کی ہتھیلی پر تھوک دیا۔

ایک لمحے کے لیے فضا جیسے ساکت ہو گئی۔

امام صاحب نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا۔ پھر نہ غصہ کیا، نہ آواز بلند کی۔ خاموشی سے ’’بسم اللہ‘‘ پڑھا اور اس ہاتھ کو اپنے سینے پر پھیر لیا۔

تاجر صاحب کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری، مگر امام صاحب نے اسی سکون سے اپنا دوسرا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا اور کہا:

’’صاحب، یہ مدد تو آپ نے مجھے دے دی۔ اب اس ہاتھ میں اللہ کے لیے بھی کچھ ڈال دیجیے۔‘‘

تاجر صاحب کی مسکراہٹ وہیں رک گئی۔

ان کے سامنے ایک ایسا آدمی کھڑا تھا جسے وہ چند لمحے پہلے ذلیل کر کے دروازے سے واپس بھیجنا چاہتے تھے، مگر وہ شخص ان کی بدتمیزی کے باوجود نہ بدتمیز ہوا، نہ اس نے انہیں برا بھلا کہا۔

کچھ دیر تک دونوں خاموش رہے۔

پھر تاجر صاحب نے نظریں جھکا لیں۔

’’استغفراللہ… استغفراللہ… استغفراللہ!‘‘

ان کی آواز میں اب وہ طنز نہیں تھا جو چند لمحے پہلے تھا۔ کچھ دیر بعد انہوں نے دھیمی آواز میں پوچھا، ’’امام صاحب، مسجد کے لیے کتنی رقم درکار ہے؟‘‘

امام صاحب نے جواب دیا، ’’صاحب، پورا کام مکمل کرنے کے لیے تقریباً آٹھ لاکھ روپے چاہییں۔‘‘

تاجر صاحب نے دوبارہ پوچھا، ’’اور ابھی کتنے کم ہیں؟‘‘

’’اگر تین لاکھ روپے مل جائیں تو باقی کام بھی شروع ہو سکتا ہے۔‘‘

تاجر صاحب پلٹے، اندر گئے اور کچھ دیر بعد ایک چیک لے کر واپس آئے۔

انہوں نے چیک امام صاحب کی طرف بڑھایا۔

امام صاحب نے رقم دیکھی تو ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

چیک تین لاکھ روپے کا تھا۔

تاجر صاحب نے کہا، ’’امام صاحب، یہ تو ابھی کے لیے ہے۔ آپ کل انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر پورے کام کا تخمینہ بنائیے گا۔ مسجد کی مرمت، رنگ و روغن، جو بھی ضروری کام ہے، سب کی فہرست بنا لیجیے گا۔ آئندہ اس مسجد کے کام میں جو خرچ ہوگا، مجھے بتا دیجیے گا۔‘‘

امام صاحب کچھ کہنے لگے تو تاجر صاحب نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا۔

’’بس ایک بات کہنی ہے۔ آج آپ نے میرے ساتھ جو سلوک کیا، وہ میں شاید ساری عمر یاد رکھوں گا۔ میں نے آپ کی ہتھیلی پر تھوکا تھا، مگر آپ نے اسی ہاتھ سے مجھے وہ چیز دے دی جس کی کمی مجھے خود بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔‘‘

ان کی آواز بھرا گئی۔

’’آپ نے مجھے شرمندہ نہیں کیا، امام صاحب۔ آپ نے مجھے اپنے سامنے شرمندہ ہونے کا موقع دیا ہے۔ فرق بہت بڑا ہے۔‘‘

امام صاحب نے چیک سنبھالا، ان کے لیے دعا کی اور رخصت ہونے لگے تو تاجر صاحب انہیں دروازے تک چھوڑنے آئے۔

جاتے جاتے امام صاحب نے کہا، ’’صاحب، اللہ آپ کے رزق میں برکت دے۔‘‘

تاجر صاحب نے فوراً جواب دیا، ’’میرے رزق کے لیے دعا بعد میں کیجیے گا، امام صاحب۔ پہلے میرے اخلاق کے لیے دعا کیجیے۔ رزق تو اللہ نے بہت دیا ہے، مگر آج پتا چلا کہ آدمی کے پاس سب کچھ ہو اور لہجے میں نرمی نہ ہو تو وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنا نقصان کرتا رہتا ہے۔‘‘

امام صاحب دروازے سے باہر نکل گئے۔

تاجر صاحب دیر تک وہیں کھڑے رہے۔

ان کی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی۔ اسی ہاتھ سے انہوں نے امام صاحب کی توہین کی تھی، اور اسی ہاتھ سے اب مسجد کے لیے چیک لکھا تھا۔

وہ آہستہ سے بڑبڑائے:

’’یا اللہ، میں نے تو ایک آدمی کو نیچا دکھانا چاہا تھا، مگر اس نے مجھے میری اپنی نظروں میں گرا دیا۔‘‘

اگلی جمعہ کی نماز میں مسجد کے صحن میں مزدور کام کر رہے تھے۔ اینٹوں کی آوازیں، سیمنٹ کی خوشبو اور لوگوں کی آمدورفت پہلے جیسی تھی۔

بس ایک منظر نیا تھا۔

وہی تاجر صاحب مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے۔ ہاتھ میں چندے کی رسیدوں کا رجسٹر تھا اور وہ خود لوگوں سے کہہ رہے تھے:

’’بھائی، مسجد ہم سب کی ہے۔ جو جتنا دے سکتا ہے، خوشی سے دے۔ کسی پر دباؤ نہیں۔‘‘

امام صاحب نے انہیں دیکھا تو مسکرا دیے۔

تاجر صاحب آگے بڑھے، ان کا ہاتھ تھاما اور آہستہ سے بولے:

’’امام صاحب، اس دن آپ نے اپنا ہاتھ میرے سامنے پھیلایا تھا، مگر حقیقت میں آپ نے میرے لیے اللہ کی طرف پلٹنے کا راستہ کھولا تھا۔‘‘

امام صاحب نے جواب دیا:

’’صاحب، راستہ تو اللہ ہی کھولتا ہے۔ ہم تو بس ایک دوسرے کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔‘‘

اور پھر دونوں مسجد کے اندر چلے گئے۔

کبھی کبھی کسی انسان کو بدلنے کے لیے اسے اس کی غلطی کا احساس دلانا کافی ہوتا ہے، اسے ذلیل کرنا نہیں۔

ہم اپنی زبان سے کسی کو دین سے قریب بھی کر سکتے ہیں اور دور بھی۔ کسی کے گناہوں کا طعنہ دینے سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہدایت کا مالک اللہ ہے، اور ہمارے اختیار میں صرف اپنا رویہ، اپنے الفاظ اور اپنا کردار ہے۔

کڑوے لفظ دل کے دروازے بند کر دیتے ہیں، جبکہ نرم لہجہ کبھی کبھی وہ دروازہ بھی کھول دیتا ہے جس پر برسوں کی دستک بے اثر رہی ہو۔