دل خون کے آنسو روتا ہے کہ انہوں نے ایسا کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوفروری 1835ء کو لارڈ میکالے نے برٹش پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی لوگوں کے بارے میں کہا:
’’میں سارا انڈیا گھوم چکا ہوں۔ میں نے وہاں ایک بھی بھکاری اور چور نہیں دیکھا۔ بلکہ وہاں تعلیم یافتہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل لوگ دیکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ہم تب تک ان لوگوں کو فتح نہیں کرسکتے جب تک ان کی کمر نہ توڑ دیں۔ ان کی اصل قوت روحانی طاقت اور ثقافتی ورثہ ہیں۔ میری رائے ہے کہ ان کا قدیم تعلیمی نظام اور ثقافت کو تبدیل کردیں۔ وہ سمجھیں کہ انگریزی تہذیب اور زبان ہماری تہذیب و زبان سے برتر ہے۔ اس طرح وہ اپنی خودی اور مقامی کلچر دفن کردیں گے۔ وہ ویسے بن جائیں گے جیسے ہم چاہیں گے۔ اس طرح ہم صحیح معنوں میں ایک غالب قوم بن جائیں گے۔‘‘
Lord Macaulay’s Address to the British Parliament on 2dn Feb 1835
(عبدالحنان)۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2825915887638926

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔