حصارِ شب کے عتاب سہ کر چراغِ وحدت جلانے والے سلام …


حصارِ شب کے عتاب سہ کر چراغِ وحدت جلانے والے
سلام تجھ پر مرے خدا سے مرا تعارف کرانے والے

ہر ایک جانب تھی بد حواسی عقیدتیں تھیں بلا کی پیاسی
سلام تجھ پر سلگتے جذبوں کو جامِ کوثر پلانے والے

ہوا کے لہجے میں بے کلی تھی بہار بے کیف ہو چلی تھی
سلام تجھ پر اداس پھولوں کو مسکرانا سکھانے والے

حصارِ نا معتبر میں گم تھے ہم ایک اندھے سفر میں گم تھے
سلام تجھ پر ہماری راہوں کو منزلوں سے ملانے والے

ترے اجالوں کا لمس پاکر ہمارے خوابیدہ ذہن جاگے
سلام تجھ پر ان آبگینوں کو پتھروں سے بچانے والے

(اقبال اشہر)

Iqbal Ashhar

انتخاب :- ابوالحسن علی ندوی