#توہی_عشق_توہی_جنون
#ازصاحبہ_فردوس
#قسط_14
اس نے جیسے ہی دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دیکھا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے۔
وہ یہ دیکھ کر سوچنے لگی کہ یہ دروازہ کیسے لاک ہوگیا؟
ابھی تو کھولا تھا۔
تب ہی ارشمیل کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔
"یہ میں نے لاک کیا تھا”۔
اس کی آواز سن کر وہ گھبرا کر پیچھے مڑی اور اس کے ہاتھ سے بیگ چھٹ کر زمین پر گر گیا۔
اے سی میں بھی اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے اور وہ سوچ رہی تھی کہ یہ سب کیسے ہوگیا؟
یہ تو بے ہوشی کی دوا کے
زیر_اثر بے ہوش ہو گیا تھا،
پھر کیسے اتنے جلدی جاگ گیا؟
"مجھ ہوش میں دیکھ کر تمہارے ہوش کیو ں اڑ گئے ڈئیر مسز؟”
ارشمیل یہ کہتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس آگیا تھا۔
اس نے عمائمہ کا کانپتا ہوا ہاتھ تھام لیا۔
اس کے ہاتھ کی گرفت ایسی تھی جیسے کسی نے بہت سخت پتھر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا ہو۔
عمائمہ کو لگ رہاتھا کہ اس کا ہاتھ ٹوٹ جائے گا۔
تب ہی اس نے غصے سے دوبارہ استفسار کیا
"مجھے دھوکہ دے کر بھاگ رہی تھی نا تم؟”
ارشمیل کی جلتی ہوئی نگاہوں کی تپش سے اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جل کر خاکستر ہو جائے گی۔
اس کے ہاتھ کا لمس ایسا تھا جیسے کسی نے دہکتے ہوئے انگارے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے ہوں۔
عمائمہ نے اس کی سلگتی ہوئی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کیا۔
"جواب دو عمائمہ حیدر "۔وہ اس بار اتنی سختی سے بولا کہ عمائمہ نے غصے سے اسے دیکھا اور اونچی آواز میں بولی:
"ہاں میں جا رہی تھی تمہیں چھوڑ کر،
میں اس عذاب خانے میں مزید قید ہو کر نہیں رہ سکتی۔ تمہاری شکل دیکھ کر مجھے خود سے نفرت ہوتی ہے۔
میں سوچتی ہوں کہ کیسے میں اتنے دن سے بنا کوئی احتجاج کیے، تمہارے ساتھ رہ رہی ہوں۔
کئی دنوں بعد مجھے آج یہ موقع ملا مگر پتا نہیں تم کیسے ہوش میں آگئے؟”
وہ بجائے شرمندہ ہونے کے، اسے تَاسُّف بھری نگاہوں سے گھور رہی تھی۔
اسے ارشمیل کے جاگ جانے کا بہت ملال تھا۔
ارشمیل نے نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھا اور کندھوں سے تھام کر اپنے قریب کر لیا اور بتانے لگا کہ
جب وہ کافی بنانے گئی تو اس کے موبائل فون پر وکیل کا فون آیا اور وکیل نے ارشمیل کو بتایا کہ عمائمہ اس سے علیحدگی چاہتی ہے اور اس نے طلاق کے کاغذات بھی تیار کروا لیے ہیں۔
وکیل نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے یہ ملک چھوڑ کر جارہی ہے۔
وکیل کی بات سن کر پہلے تو وہ بہت پریشان ہوا مگر پھر اسے عمائمہ کی ایک ایک بات یاد آنے لگی کہ کیسے اس میں اتنی جلد اتنی بڑی تبدیلی آئی۔
کیسے ان چند ہی دنوں میں وہ شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہو گئی تھی۔
وہ یہی بات کرنے کے لیے غصے میں عائمہ کے پیچھے کچن میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ کافی کے ایک مگ میں کچھ گولیاں ڈال رہی تھی۔
وہ ٹھٹھک کر کچن کے دروازے پر ہی رکا یکدم اسے عمائمہ کا پلان سمجھ آنے لگا اور اسکا غصہ دوچند گیا تھا لیکن پھر اس نے ضبط کیا اور واپس کمرے میں آ کر عمائمہ کا انتظار کرنے لگا۔
کچھ ہی لمحوں بعد عمائمہ نے کمرے میں آ کر اسے کافی کا مگ تھمایا اور خود کھڑکی کی جانب بڑھی۔
ارشمیل نے اسی موقع کا فائدہ اٹھایا اور مگ کی آدھی کافی گلدان میں انڈیل دی جس سے عمائمہ کو لگا کہ اس نے آدھی کافی پی لی ہے۔
اسی وقت ارشمیل نے جان بوجھ کر ایسا ڈرامہ کیا کہ عمائمہ کو لگا کہ وہ بے ہوش ہو چکا ہے۔
یہ سب سن کر عمائمہ نفرت سے اس کی طرف دیکھتی ہی رہ گئی کہ اچانک اس نے عمائمہ کا منہ اپنے ہاتھوں میں دبوچ لیا اور بولا:
"سو مائی ڈئیر وائف!
میرا پلان کیسا لگا تمہیں؟
عمائمہ نے اس کے ہاتھوں جھٹک دیا اور بولی:
"تم بہت برے ہو ارشمیل! بہت برے۔۔۔!
تم نے جو کچھ بھی کیا ہے اس کے لیے تم پچھتاؤ گے۔”
"پچھتاؤگی تو اب تم عمائمہ!
تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ تم مجھ سے دور جا سکو گی اور مجھ سے علیحدہ ہو پاو گی؟
میں جتنی نرمی تمہارے ساتھ برت رہا تھا،
تم نے اس کا بہت ناجائز فائدہ اٹھا لیا لیکن اب میں تمہیں اور فائدہ نہیں اٹھانے دے سکتا نہ ہی تمہیں اپنی من مانی کرنے دوں گا۔
اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ اصل میں ارشمیل یزدانی کی نفرت کیا ہے؟؟؟”
ارشمیل نے سختی سے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
وہ ہاتھ چھڑانے کی کوشش ناکام ہونے پر تلخی سے کہنے لگی:
"ویسے تم بہت اچھے اداکار ہو مگر میری بھی بات سن لو!
اگر میں تمہارے گھر رہوں گی تو ہی تم مجھ اپنی من مانی کرنے سے روکو گے نا؟
اس لیے میں سب کو بتا دوں گی کہ تم نے میرے ساتھ کیا کچھ کیا تھا اور مجھے پاگل بنانے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
تمہارے وجہ سے مجھے ڈپریشن کی ادویات لینا پڑتی ہیں،
تمہاری وجہ سے میرے بابا کی آخری نشانی، میرا گھر بِک گیا۔
تم نے مجھے کس کس طرح برباد کیا میں سب کچھ بتا دوں گی اس لیے چھوڑو مجھے!
میں یہاں سے جا رہی ہوں”
اس نے زوردار جھٹکے سے ارشمیل سے ہاتھ چھڑوایا۔
ارشمیل کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس کی وجہ سے ڈپریشن کی ادویات لے رہی ہے لہذا چند لمحوں کے لیےاسے بہت افسوس ہوا مگر پھر اس کی نظر کمرے سے باہر جاتی ہوئی عمائمہ پر پڑی تو ایک جست میں اس کے پاس آیا اور اس کے بازو سے پکڑ کر دوبارہ اسے اپنے قریب کر کے بولا:
"ایسے کیسے میں تمہیں جانے دےسکتا ہوں ڈئیر مسز؟
ابھی تو تم سے بہت سارے حساب برابر کرنے ہیں،
تمہیں دھوکہ دہی کی سزا دے کر اس ہار جیت کے کھیل کو اختتام پر پہنچانا ہے۔
تمہیں یہ بتانا ہے کہ فی الحال میں تم سے نہیں ہارا اور نا ہی تم ابھی جیتی ہو۔”
"کیا کرلو گے تم؟؟”
عمائمہ نے زور سے چلا کر کہا۔
"چلاؤ مت عمائمہ!
میں بھی چلا کر سب کو بتا سکتا ہوں کہ تم میرے نکاح میں ہونے کے باوجود کسی غیر شخص کے لیے گھر چھوڑ کر بھاگ رہی تھیں۔”
ارشمیل کی بات سن کر وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
وہ حیران تھی کہ وہ یہ کیوں سمجھ رہا ہے کہ وہ مرتضی کی محبت میں اسے چھوڑ کر جا رہی ہے۔
"ٹھیک ہے تم میرے کارنامے بتاؤ، میں تمہارے کارنامے بتاتی ہوں۔”
"اتنی بھی کیا جلدی ہے؟
ابھی تو تمہارے پر کاٹنے ہیں”
اس کی بات سن کر عمائمہ حواس باختہ ہو کر سوچتی رہ گئی کہ اس کے پر کاٹنے سے کیا مراد تھی ارشمیل کی؟
وہ کیا کرنے والا تھا اس کے ساتھ؟
اتنے دن نکاح میں رہنے کے باوجود اس نے عمائمہ سے فاصلے قائم رکھا تاکہ اسے تکلیف نا پہنچے مگر اب اس کی نگاہوں میں جو انتقام کی آگ جل رہی تھی وہ عمائمہ کی نگاہوں سے مخفی نہیں رہی تھی۔
یکدم عمائمہ خوفزدہ ہو کر اس سے دور ہونا چاہا مگر ارشمیل نے اسے اور بھی قریب کر لیا۔
عمائمہ نے اسے خود سے دور کرنے کے ہزار جتن کیے مگر وہ اس طوفان کے آگے تنکا ثابت ہوئی۔
ارشمیل نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور دھکیلا اور وہاں سے چلا گیا اور وہ کمرے میں اکیلی بیٹھی سسکتی ہی رہ گئی۔
آخر اس نے عمائمہ کو حاصل کر ہی لیا تھا۔
اس کی ہمیشہ کی مراد آج بر آئی تھی۔
عمائمہ اپنی نسوانی انا کے بت کو یوں پاش پاش ہوتا دیکھتی ہی رہ گئی۔
وہ اس لمحہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی اور ارشمیل اس کی کمزوری کو خوب اچھی طرح سے جان گیا تھا اس لیے تو چن کر اس کے لیے ایسی سزا کا انتخاب کیا کہ آج وہ خود اپنی نگاہوں میں گر گئی تھی۔
عمائمہ کو اپنے وجود سے نفرت محسوس ہورہی تھی تبھی وہ اپنا وجود گھسیٹتی ہوئی واش روم میں گئی اور اپنے لبوں کو، اپنے چہرے کو، ہاتھوں کو رگڑ رگڑ کر دھونے لگی۔
وہ دھندلی نگاہوں سے آئینے میں اپنے سرخ چہرے کو دیکھنے لگی
اسے آج اپنے خوبصورت چہرے سے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی۔
تبھی اس نے واز اٹھا کر آئینے پر دے مارا جس سے آئینہ کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔
کافی دیر دل کھول کر رونے کے بعد وہ واش روم سے باہر نکلی تو دیکھا کہ ارشمیل بیڈ پر بہت ہی سکون سے نیم دراز تھا۔
انداز ایسا کہ جیسے کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
عمائمہ اس کے سامنے جا کر رکی اور غصے سے بولی:
"تم دنیا کے نہایت ہی گرے ہوئے شخص ہو،
میری کمزوری کو تم اپنی طاقت بنانے کا سوچنا بھی مت! میں نے اس بار برداشت کر لیا ہے مگر آئندہ نہیں کروں گی۔”
عمائمہ کو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے حلق میں کانٹے اُگ آئے ہوں۔
وہ بولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس سے رونے کی وجہ سے بولا نہیں جا رہا تھا۔
ارشمیل نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی جیسے اس کا ان باتوں سے کوئی لینا دینا ہی نا ہو۔
” تم نے یہ سب اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے کیا ہے نا اب تو مل گیا سکون حوس پرست آدمی خوش ہو جا ؤ کیونکہ تم نے آج بہت بڑا معرکہ مالیا ہے عمائمہ حیدر کو پاش پاش کر کے "۔
"تم نے یہ سب اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے کیا ہے نا؟
اب تو سکون مل گیا ہو گا۔ خوش ہو جاؤ کیونکہ تم نے آج بہت بڑا معرکہ مار لیا ہے مجھے میری نظروں سے گرا کر۔۔۔”
اس کی بات پر ارشمیل نے استہزائیہ انداز میں اسے دیکھا اور تلخی سے کہنے لگا
"تم تو ایسے برتاؤ کررہی ہو جیسے میں نے تمہاری عزت پر ڈاکہ ڈال دیا ہو،
میں تم پر شرعی حق رکھتا ہوں
اس لیے اب یہ واویلا بند کرو اور چپ چاپ سو جاؤ۔۔۔
اور ہاں خبردار!
جو تم نے کبھی یہاں سے فرار ہونے کے بارے میں دوبارہ سوچا،
میں تمہیں دوسری بار معاف کررہا ہوں اس لیے تیسری بار تم نے ایسا سوچا بھی تو دیکھنا کیا حال کروں گا تمہارا۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر کروٹ لے کر سوگیا اور عمائمہ رات بھر آنسو بہاتے ہوئے ایک ہی انداز میں ساکت بیٹھی رہی۔
٭٭٭
بہت سارے دن ایسے ہی بیت چکے تھے۔
دونوں نے ہی اس رات کے بعد سے ایک دوسرے سے بات کرنا ترک کر دیا تھا۔
عمائمہ کے لبوں پر ایسے خاموشی کا قفل لگا کہ وہ کسی کے مخاطب کرنے پر بھی ہوں ہاں میں جواب دیتی تھی۔
سب ہی گھر والوں نے ان دونوں کے بیچ کی جامد خاموشی اور سرد انداز کو بہت اچھی طرح سے محسوس کیا تھا مگر کسی نے بھی اس کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اس دن بھی سب رات کا کھانا کھا رہے تھے تو شہلا بیگم نے ارشمیل اور عمائمہ سے بات کرنے کی ٹھانی جس کے لیے انھوں نے بہانے سے بات چھیڑی اور احد کو مخاطب کیا:
"احد تم نے ہمارے ہونے والے پوتا یا پوتی کا کیا نام سوچ کر رکھا ہے؟”
شہلا بیگم کی بات سن کر احد عدینہ کے طرف دیکھتے ہوئے بولا:
"مام! یہ حق تو میں نے عدینہ کو دے رکھا ہے وہ جو نام کہے گی وہی نام بےبی کا ہوگا۔”
احد کی بات سن کر عدینہ کی نگاہیں شرم سے جھک گئیں، تب ہی وہ ہچکچاتے ہوئے بولی:
"آپی جو بھی نام بتائیں گی میں وہی نام رکھوں گی۔”
عدینہ نے یہ ذمہ داری عمائمہ کے سر پر ڈال دی جس سے وہ گھبرا کر کہنے لگی”
"میں یہ ذمہ داری کیسے لے سکتی ہوں؟
اور ویسے بھی ماں باپ کا پہلا حق ہوتا ہے ان کی اولاد پر۔”
اس کی بات میں درست تھی مگر عدینہ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں تھی۔
"نہیں آپی!
بے بی کا نام تو آپ ہی رکھیں گی۔
ویسے بھی آپ کے تو دو دو رشتے ہوں گے۔”
عدینہ کی بات سن کر اس کی نگاہ بےساختہ ارشمیل پر پڑی جو ان سب باتوں سے انجان بنتے ہوئے کھانا کھانے میں مصروف تھا۔
"ارشمیل اور عمائمہ دونوں مل کر ہونے والے بے بی کا نام طے کریں گے۔”
کافی دیر سے چپ چاپ بیٹھے وقار صاحب بولے تو ان کی بات سن کر ارشمیل حیرت سے ان کے طرف دیکھنے لگا پھر کہنے لگا:
"ڈیڈ!
آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے مجھے اس بات کا بہت تجربہ ہے۔”
"تجربہ نہیں ہے تو ہو جائے گا اب میرے بعد آپکا ہی نمبر ہے بھائی!”
احد نے لقمہ دیا تو شہلا بیگم، وقار صاحب اور عدینہ تینوں ہی ہنسنے لگے جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو نفرت سے گھورنے لگے تھے۔
"ارشمیل اور عمائمہ کی شادی کو کتنا عرصہ بیت چکا ہے؟”
وقار صاحب نے یہ سوال شہلا بیگم سے کیا تھا مگر اس کا جواب عدینہ نے دیا:
"ڈیڈ!
تقریباً سات مہینے ہوچکے ہیں۔”
"اور ان سات مہینوں میں یہ دونوں ایک بار بھی ایک ساتھ باہر نہیں گئے۔”
اب کی بار شہلا بیگم بولیں۔
"جی مام!
اس لیے ہی ہم نے بھائی کو کچھ دن کے لیے آفس سے فارغ کردیا ہے تاکہ وہ بھابھی کو کچھ وقت دے سکیں”۔
احد کی بات سن کر ارشمیل حیرانی سے سب کو دیکھنے لگا، اس کی حیرانی کم کرنے کے لیے عدینہ شرارت سے بولی:
"بھائی آپ زیادہ حیران نا ہوں ہم آپ دونوں کو زیادہ دن کے لیے نہیں بھیج رہے،
بس چند دن کی ہی بات ہے۔
کل کی فلائٹ سے آپ دونوں لندن جارہے ہیں۔”
شہلا بیگم کی بات عمائمہ سے برداشت نہیں ہوئی تو وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔ اس کے یوں اچانک اٹھ کر جانے کا کسی نے نوٹس نہیں لیا۔
ارشمیل کھانے سے فارغ ہوکر اپنے کمرے میں آیا تو دیکھا
وہ کمرے کی چیزیں غصے سے پھینک رہی تھی۔
ارشمیل غضبناک تیور لیے اس کی طرف بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے بولا:
"یہ کیسی بچکانہ حرکت ہے؟”
"یہ بچکانہ حرکت نہیں ہے یہ اس بات کا رد_عمل ہے جو ابھی کھانے کی میز پر ہوئی ہے،
میں ہرگز تمہارے ساتھ باہر نہیں جاؤں گی!
سمجھے تم؟؟”۔
وہ غصے سے بولی تو ارشمیل بھی غصے سے کہنے لگا:
"مجھے بھی تمہارے ساتھ کہیں جانے کا شوق نہیں ہے مگر اب جبکہ تم انکار کر رہی ہو تو میں لازمی جاؤں گا اور تمہیں بھی میرے ساتھ آنا ہو گا۔”
"میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاوں گی یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔”
اتنا کہہ کر عمائمہ نے اپنا آپ ارشمیل سے چھڑا لیا۔
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔