بھگوڑا(قسط نمبر 15) ریاض عاقب کوہلر یہ میرے لیے د…


بھگوڑا(قسط نمبر 15)
ریاض عاقب کوہلر

یہ میرے لیے دوسرا جھٹکا تھا، لیکن میں نے اپنے چہرے سے ایسا کچھ ظاہر نہ ہونے دیا کہ میں اسے جانتا ہوں۔ اس لیے میں نے حیرانی کے انداز میں صرف اس کا نام دہرایا۔
”شیش ناگ؟“
”ہاں،کوبرے کا بھائی۔ اب کچھ یاد آیا؟“
”کوبرا؟“ میں نے جیسے کچھ یاد کرنے کی اداکاری کی۔ ”سوری دوست اس نام کے کسی شخص سے میں واقف نہیں ہوں۔“
”کمانڈوز کی یادداشت اتنی تو کمزور نہیں ہوتی۔“
”میرا تعلق کمانڈوز کی اس قبیل سے نہیں ہے۔“ میں بے پرواہی سے بولا۔ ”میں صرف اہم شخصیات کو یاد رکھتا ہوں، اس طرح اگر ہر ایرے غیرے کو یاد رکھتا پھروں تو پھر تو گیا کام سے۔“
”تم صرف اپنی موت کو اذیت ناک بنا رہے ہو۔“اس نے دانت پیسے۔
”مسٹر سانپ! بات یہ ہے کہ اتنا بڑا گروپ اگر کسی کنواری لڑکی کے ساتھ بھی ہو؟ تو وہ اس سے بھی بڑی بڑی بڑھکیں مارنے لگے ۔“
”فکر مت کرو، میں تمھیںخالی ہاتھ نرگ کا ایندھن بناو¿ں گا۔“
”تو چلو…. آجاﺅ…. یہ گز ہے اور یہ میدان۔“
”نہیں کمانڈو نہیں۔“ اس نے انکار میں سرہلایا۔ ”میں تمھاری موت کو بھارتی جنتا کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دینا چاہتا ہوں ۔ تمھاری تلاش میں بہت راتوں سے جاگ رہا تھا۔ میری نیند مجھ سے روٹھ گئی تھی۔ اتنی آسانی سے تمھیں کیسے مار دوں۔“
”مسٹر سنپولیے!….بات یہ ہے کہ تمھاری میری کوئی دشمنی نہیں بالکل اسی طرح جس طرح تمھارے بھائی سے میری کوئی دشمنی نہ تھی۔ اس نے خود مجھے چیلنج کیا تھا اور جواباً ہار گیا اس میں میری کوئی خطا بتادو کہ تم مجھ سے انتقام لینے کے لیے اتنے بے قرار ہورہے ہو؟ دوسرا میں تمھیں بدلہ لینے سے منع نہیں کرتا، صرف اتنی درخواست کر رہا ہوں کہ جو کچھ ہونا ہے ابھی ہو جائے میرے مرنے کی صورت میں یہ بات خودبہ خود سب کو معلوم ہو جائے گی کہ سانپوں کے خاندان نے اپنا بدلہ لے لیا ورنہ اس کے برعکس تمھیں یہ معاہدہ کرنا ہو گا کہ تمھارے یہ چمچے مجھے جانے دیں گے۔“
”میں تم سے بھی زیادہ بے چین ہوں مسٹر بھگوڑے۔“ وہ زہر خند لہجے میں بولا”لیکن افسوس انڈیا میں تمھاری سُپرمینی کے بڑے چرچے ہو رہے ہیں، میں تمھاری موت کو بھی اسی طرح یاد گار بنانا چاہتا ہوں۔ ادھر اگر میں تمھیں خالی ہاتھ مار دوں تب بھی کسی نے یقین نہیں کرنا سب کہیں گے کہ یہ میرے گروپ کا کام ہے۔ اس لیے یہ کڑوا گھونٹ تمھیں بھرنا پڑے گا۔ ویسے بھی یہ چند لمحوں کا کام ہو گا مر کر تو تُو لوگوں کے طعنے سہنے سے رہا۔“
ایک لمحے کے لیے میرے جی میں آیا کہ اس پر اسی جگہ حملہ کردوں بعد میں جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ مگر دائیں بائیں ہتھیار برداروں کو دیکھ کر میں اس ارادے سے باز رہا۔
”ایک بات تو بتاو¿؟“
”پوچھو۔“ وہ اطمینان سے بولا۔
”یہاںمیری موجودی کا تمھیں کیسے پتا چلا ہے؟“
”بمبئی میں ایک پتا بھی سیٹھ رابندر ناتھ کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔تم تو جیتی جاگتی چھ فٹ کی لاش ہو۔“
”مگر….۔“ میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنا چاہااور اسی وقت میری نظر اس کی پشت کی طرف کھڑے شخض پر پڑی، میرے ذہن میں جھماکاہوا۔ وہ وہی ذات شریف تھا۔ جو ہمیں ہوٹل سے نکلتے دیکھ کر ٹھٹک کررکا تھا اور پھر میرے متوجہ ہونے پر اپنی جیبوں کی تلاشی لینے لگ گیا تھا۔
”ٹھیک ہے شیش ناگ مجھے جگہ اور دن بتادو میں پہنچ جاﺅں گا۔“
”دو دن ہمیں اگر اپنی میزبانی کا موقع دے دو تو کیسا رہے گا؟“
”ٹھیک ہے لیکن شیتل ہمارے ساتھ نہیں جائے گی۔“
”اس بلبل کا نام شیتل ہے، گویا شکل کی طرح نام بھی پیارا ہے۔“ وہ چٹخارا لیتے ہوئے بولا۔ ”بہ ہر حال یہ ہماری طرف سے آزاد ہے۔ واپس جا سکتی ہے۔“
”بالکل نہیں۔“ وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوئے بولی۔ ”میں تمھارے ساتھ جاﺅں گی۔“
”پاگل مت بنو۔“ میں نے اسے جھڑکا۔ ”میں ان شااﷲ بہت جلد تمھارے پاس پہنچ جاﺅں گا۔“
”کمانڈو۔“ شیش ناگ کا لہجہ استہزائی تھا ۔ ”اس پر تُو نے ایسا منتر نہیں پھونکا کہ یہ واپس جا سکے۔ اب ڈائیلاگ بازی چھوڑو او ر چلو۔“یہ کہہ کر اس نے اپنے بندوں کو اشارہ کیا اور تمام ہمیں گھیر کر گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے۔شیتل کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر شیتل کو بٹھا کر شیش ناگ نے مجھے اس کے ساتھ آگے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اپنے ایک ساتھی کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
”اگلی کار کے پیچھے پیچھے چلتی رہو۔“ وہ شیتل کو بولا اور اس نے خاموشی سے اپنے آگے چلنے والی گاڑی کے پیچھے اپنی کار لگا دی۔یونھی آگے پیچھے چلتے ہم پندرہ بیس منٹ کی مسافت کے بعد ایک بہت بڑی کوٹھی کے گیٹ پر پہنچ گئے تھے۔ باوردی ملازم نے دروازہ کھولا اور ہم اندر گھس گئے۔ ملازم نے باقاعدہ شیش ناگ کو سیلوٹ کیا تھا۔گاڑیاں بڑے سے گیراج میں پارک کر کے ہم تمام باہر نکل آئے۔ شیش ناگ نے آگے بڑھ کر ماہرانہ انداز میں میری تلاشی لی۔ اس وقت اس کے بھائی کو برے کا بریٹا میری جیب میں ہی تھا۔
”یہ میرے بھائی سے چھینا تھا نا۔“ وہ عجیب سے لہجے میں بولا جواباً میں نے کندھے اچکانے پر اکتفا کیا۔ پستول جیب میں ڈال کر وہ شیتل کومخاطب ہوا۔
”بے بی اگر تمھارے پاس کوئی کھلونا ہے تو وہ بھی جمع کرا دو۔ ذراسی غلط حرکت بھی تیرا انجام بہت بھیانک بنا دے گی۔“
”اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔“ شیتل کی بجائے میں نے جواب دیا۔
”اوکے چلو۔“ اس نے ہمیں گیراج سے باہر دھکیلا۔ ہم جونھی گیراج سے باہر نکلے اسی وقت اندرونی عمارت سے تھری پیس میں ملبوس ایک پتلا سا شخص خوب صورت سی لڑکی کے ساتھ آتا دکھائی دیا۔ لڑکی نے سکرٹ کے اوپر فقط ہلکا سا بلاﺅزر پہنا ہوا تھا اس ناکافی لباس میں اس کا گورا بدن دیکھنے والوں کی آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر رہا تھا۔ میرے ساتھ موجود تمام افراد نے انھیں دیکھتے ہی سر جھکا لیا تھا صرف شیش ناگ سیدھا کھڑا ا س کی جانب دیکھتا رہا۔
”ہاں بوائے کیا رہا۔ ”عجیب وحشت ناک آواز تھی کہ سن کر مخالف کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے ۔
”ڈیڈ میں کو برے کے قاتل کو لے آیا ہوں۔“ شیش ناگ نے جواب دیا۔
”اس کو لانے کی کیا ضرورت تھی۔ ادھر ہی فیصلہ کر کے آتے۔“ وہ مجھے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ اس کی آنکھیں مجھے اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
”نہیں ڈیڈ۔“ شیش ناگ نے نفی میں سر ہلایا۔ ”میں اس کی موت کو یاد گار بنانا چاہتا ہوں۔“
”کیا مطلب ؟“ وہ حیرانی سے مستفسر ہوا۔
”بلڈی ہال ،سالانہ ….فائیٹر کنگ کے چناﺅ کے لیے مقابلے سنڈے نائیٹ سے شروع ہو رہے ہیں۔ اس میں اوپننگ فائیٹ ہماری ہو گی۔“
”مگر؟“ رابندرناتھ نے کچھ کہنا چاہا، لیکن شیش ناگ نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا۔
”کوئی اگر مگر نہیں ڈیڈ…. میں ان تمام لوگوں کا منہ بند کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے میرے بڑے بھائی کے پیچھے باتیں کی ہیں۔“
”چلو جیسے تمھاری مرضی۔“ رابندر ناتھ رضا مند ہوتا ہوا بولا۔ ”اب اس کو رکھو گے کہاں؟“
”ادھر ہی تہہ خانے میں۔“ شیش ناگ بولا اور رابندرا ناتھ سر ہلاتا گیٹ کی طرف مڑ گیا۔ وہ قتالہ عالم بھی مجھے گہری نظروں سے دیکھتی اس کے پیچھے چل دی وہ غالباً اس کی داشتہ یالے پالک بیٹی تھی۔تھوڑی دیر بعد ہمیں عمارت کے کشادہ تہہ خانے میں پہنچا دیا گیا۔
”اب کیا ہو گا جان!“ شیتل دروازے کے باہر سے بند ہوتے ہی مجھ سے لپٹ گئی تھی ۔
”جو کچھ ہو گا پرسوں تمھاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔“ میں ہنس دیا اور وہ حیرانی سے میرے چہرے کو تکنے لگی۔
l l l
میں نے تہہ خانے کا جائزہ لیا!وہاں لوہے کے فریم والی دو چارپائیاں پڑی تھیں، جن کی بنائی پلاسٹک کی نوار سے کی گئی تھی۔ دونوں چارپائیاں بستر کی چادر اور تکیے وغیرہ سے محروم تھیں ۔ داخلی دروازے پر ایک ٹیوب لائیٹ روشن تھی۔ اس کے علاوہ کمرہ ہر قسم کے سازو سامان سے عاری تھا۔ میں نے چارپائی کو ہلا جلا کر دیکھا اور اپنے اندازے کے مطابق اسے فرش میں گڑا ہوا پایا۔
”اس کا مطلب ہے یہ پہلے بھی اپنے قیدیوں کو ادھر رکھتے رہے ہیں؟“ میں خود کلامی کے انداز میں بولا۔
”رکھتے رہے ہوں یا نہ رکھتے رہے ہوں اس بات کا ہمارے اوپر کیا اثر پڑے گا۔“ شیتل جو میرے ساتھ کھڑی میری حرکات و سکنات کو بغور دیکھ رہی تھی میری بڑبڑاہٹ سن کر پوچھنے لگی ۔
”بہت فرق پڑے گا۔“
”وہ کیسے؟“
”وہ ایسے کہ بالفرض اگر ہم پہلی مرتبہ ادھر بند کیے جارہے ہوتے تو قید خانے کے انتظامات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بھاگ نکلنے کے چانس زیادہ ہوتے۔ چونکہ یہ پہلے بھی قیدیوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے اس لیے ادھر تمام ممکنہ خامیوں کا وقتاً فوقتاً سد باب ہوتا رہا ہو گا۔“
”اس کے برعکس بھی تو ہو سکتا ہے۔“ شیتل نے میری بات کو جھٹلائی ۔”کہ نئے نگران زیادہ چوکنے ہوں اور جن کا ہمیشہ کا یہ کام ہو وہ عموماً روزانہ کا کام ہونے کی وجہ سے تھوڑا بے پرواہ ہو جاتے ہیں۔“
”ہر جگہ پر یہ کلیہ منطبق نہیں ہوتا محترمہ،….سنتری قیدیوں کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چاق چوبند ہوتے ہیں یا بے پرواہی اختیار کرتے ہیں۔“
”ویسے کیا آپ کا ارادہ یہاں سے فرار ہونے کا ہے؟“
”نہیں۔“ میں چارپائی پر لیٹتا ہوا بولا۔ ”ادھر سے فرار ہو نا فی الحال ناممکن نظر آرہا ہے۔“
”تو پھر اتنے جائزے لینے کی کیا ضرورت ہے۔“اس نے منہ بنایا۔
”یہ تو ویسے ہی ہم کمانڈوز کی عادت ہوتی ہے۔“ اس کے انداز کو دیکھ کر میں ہنس پڑا تھا۔
”بہت فضول عادت ہے۔“
”فضول تو خیر نہیں ہے، اگر آج ممکن نہیں تو کل تو فرار ہونا، ممکن ہو سکتا ہے اور جائزہ لے کر ہی میں کوئی منصوبہ بنا سکتا ہوں۔“
”جان تمھیں پر یشانی نہیں ہے کہ پرسوں تم نے زندگی اور موت کی جنگ لڑنی ہے۔“ وہ دوسری چارپائی پر ڈھیر ہوگئی۔
”یہ جنگ تو میں جب سے انڈیا میں وارد ہوا ہوں مجھے لڑنی پڑ رہی ہے۔“ میں بے پرواہی سے بولا۔
”پھر بھی۔“ وہ پریشانی سے بولی۔ ”یہ شیش ناگ مجھے کافی خطرناک بندہ دکھائی دے رہا ہے۔“
”وہ بندہ کہاںہے۔“ میں مسکرا یا، اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اس وقت دروازے پر کھٹکا ہوا اور دروازہ کھول کر ایک ہتھیار بردار اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے مجھے چند اور بندے بھی نظر آئے مگر انھوں نے اندر آنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
”آپ نے کھانا کھانا ہے؟“اندر داخل ہونے والا میری چارپائی سے چند قدم دور رک کر سپاٹ لہجے میں مستفسر ہوا۔
”نہیں شکریہ…. البتہ سیٹھ رابندر ناتھ سے ملنا چاہتا ہوں ۔“
”آپ کا پیغام ان تک پہنچ جائے گا۔“ کہہ کر وہ الٹے قدموں لوٹ گیا۔
”سیٹھ رابندر ناتھ کے ساتھ تمھارا کیا کام ہے؟“ ان کے کمرے سے نکلتے ہی شیتل مستفسر ہوئی۔
”ملاقات ہو گئی تو تُم نے بھی میرے ساتھ ہونا ہے اسی وقت سن لینا۔“
”ابھی بتاتے ہوئے تمھارا بل آجائے گا؟“ اس کے لہجے میں خفگی تھی۔
”ابھی میں نے آئندہ کالائحہ عمل طے کرنا ہے اس لیے فی الحال مجھے سوچنے دو۔“ میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی ۔
”اپنے ارادے سے مجھے بھی آگاہ کرو شاید میں کوئی بہتر مشورہ دے سکوں۔“
تمھارے جیسی ناقص العقل عورت سے بہتر مشورے کی امید رکھنا فضول ہے۔“
”آیا بڑا بقراط۔“ وہ منہ پھلاتے ہوئے بولی اور ناراضی سے رخ پھیرکر لیٹ گئی۔
میں بھی زیر لب مسکرا کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ میں نے جان بوجھ کر اسے غصہ دلایا تھا، کہ کچھ دیر سکون کر لوں ورنہ اس نے میرا دماغ چاٹتے رہنا تھا۔
l l l
رات کا کھانا لانے والوں نے مجھے سیٹھ رابندر ناتھ سے ملاقات کی نوید سنائی ہم نے جلدی جلدی کھانا زہر مار کیا اور مسلح افراد کی زیر نگرانی مختلف راہداریوں سے گھومتے اعلا درجے کے قیمتی سامان سے مزین ڈرائینگ روم میں پہنچ گئے۔ڈرائینگ روم کی سجاوٹ مکینوں کی امارت اور اعلا ذوق کی نشاندہی کر رہی تھی دیواروں کے ساتھ مختلف قسم کی قیمتی پینٹنگز آویزاں تھیں۔ ایک بڑی پورٹریٹ میں سیٹھ راجکماروں کے لباس میں تخت پر بیٹھا کسی ریاست کا راجہ معلوم ہو رہا تھا۔
ہمیں وہاں پہنچانے والے ہتھیار بردار چاروں دیواروں کے ساتھ پھیل کر کھڑے ہو گئے۔
سیٹھ جلد ہی اس خوب صورت حسینہ کے ساتھ نمودار ہوا جس کے ساتھ اسے ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ آج بھی اس کے لباس کو دیکھ کر میرا جی چاہا کہ اپنی جیکٹ تن ڈھانپنے کے لیے اس کے حوالے کردوں اتنی سردی میں اس کے لباس کو دیکھ کر اس کے گرمی کے لباس کا اندازہ لگانا میری سے سوچ ماورا تھا۔
شیش ناگ ان دونوں سے ایک قدم پیچھے تھا۔ وہ تینوں ہمارے سامنے ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔ سیٹھ رابندر ناتھ درمیان میں شیش ناگ اور لڑکی دائیں بائیں۔
چند لمحے مجھے گھورنے کے بعد رابندر ناتھ نے منہ کھولا۔”عمر جان!تُم نے ہم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور ہم نے تمھاری یہ خواہش پوری کر دی بولو کیا بات ہے؟“
اس کے بولنے سے مجھے اس کی متکبرانہ فطرت کا اندازہ ہو گیااورمیں حتی الوسع اپنے اندرونی ابال پر قابو پاتے ہوئے بولا۔
”سیٹھ صاحب !….آپ بمبئی، بلکہ بھارت کے بے تاج بادشاہ ہیں اور میں ایک عام سا فوجی…. بھارت آمد کے بعد میرے کسی فعل سے بھی آپ کے کسی مفاد کو ادنا سی ٹھیس بھی نہیں پہنچی، میںبے شک نادانستگی میں بھارت سرکار کا مجرم بن گیا ہوں لیکن اس جرم پر مجھے اپنے پاس قید کرنے کی کم از کم آپ جیسی اصولی شخصیت کو کوئی ضرورت نہیں ہونی چاہئے ۔اور جہاں تک تعلق ہے شیش ناگ کے بھائی کو برے کا اس کے ساتھ میں دفاعی جنگ لڑا ہوں۔ جس کا حق ہر انسان بلکہ جانور تک کو حاصل ہے۔ اگر میں اس کی رہائش گاہ پر حملہ کرتا تو بے شک قصور وار تھا پھر بھی اگر شیش ناگ کے دل میں میرے ساتھ مقابلے کی کوئی حسرت ہے تو اسی کوٹھی کے پلاٹ میں پوری کرلے۔ اس طرح پنڈال میں میرا تماشا بنانا اور میرے دو تین دن ضائع کرنا آپ لوگوں کو شو بھا نہیں دیتا۔“
”ہونہہ!….“ کہہ کر سیٹھ رابندر ناتھ نے سوالیہ نظروں سے شیش ناگ کی طرف دیکھا۔ جس سے مجھے محسوس ہوا کہ میری باتیں اس کے جی کو لگی ہیں۔
”ڈیڈی میں نہیں مانتا کہ اس نے خالی ہاتھوں کو برے کو شکست دی تھی۔ اس نے لازماََ اس کے ساتھ کوئی دھوکا کیا تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دلیر سنگھ نامی شخص نے کوبرے پرقابو پانے میں اس کی مددکی ہو۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت میرے بھائی کے سر پر لگی ہوئی چوٹ ہے جو پشت کی جانب سے لگائی گئی ہے اور صاف ظاہر ہے اس کی لاعلمی میں ہی لگائی گئی ہو گی اور رہ گیا دلیر سنگھ کا بیان تو وہ اپنا جرم چھپانے کے لیے عمر جان کو بہت اچھا لڑکا ظاہر کر رہا ہے۔ دوسرے کنگ فائٹر کے چناﺅ کے لیے افتتاحی فائیٹ میرے اور اس کے درمیان ہو گی اس بات کا اعلان زیرزمین حلقوں میں ہو چکا ہے ابھی یہاں پر اس سے مقابلے کا مطلب ہے کہ ہم نے اسے بے بس کر کے ہلاک کر دیا ہے اور یہ طعنے میں برداشت نہیں کر سکتا۔“
اس کے پُر اعتماد انداز سے یوں لگ رہا تھا جیسے مقابلے میں ہر صورت اسے ہی کامیابی ہو گی اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ مجھے کمزور سمجھ رہا تھا اور میرے استاد صوبیدار مراد صاحب کے قول کے مطابق یہ بات میرے حق میں جاتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ ”دشمن کو کبھی بھی اپنے سے کمزورنہ سمجھو اور اپنے مقابل کی ہر ناممکن کارروائی کے لیے تیار رہو۔“جبکہ یہاںپرشیش ناگ صاحب مجھے بالکل ترانولہ سمجھے بیٹھے تھے میں نے بھی اس کی یہ غلط فہمی برقرار رکھی۔
رابندر ناتھ نے شیش ناگ کی بات سن کر میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اب بتاﺅ۔ اس کے انداز سے یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ میری اور شیش ناگ کی لڑائی سے اس کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور یہ صرف شیش ناگ کی ضد تھی جیسے اس نے طوعن وکرہن قبول کیا تھا۔
میںنے طنزیہ لہجے میں کہا۔”سیٹھ صاحب یہ صورتِ حال رِنگ میں بھی پیش آ سکتی ہے میں رِنگ میں اترتے ہی اپنے آپ کو کمزور ثابت کرنے کے لیے جان بوجھ کر گر جاﺅں گا اور دیکھنے والے یہی سمجھیں گے کہ اسے اعصابی کمزوری کی دوائی کھلائی گئی ہے۔“
میری بات سن کر شیش ناگ کے چہرے پر ایک ناگ سا آ کر گزر گیا تھا۔ لیکن بہ ظاہر اس نے قہقہہ لگا کر کہا۔ ”وہ تو خیر بڑے بڑے شیش رنگ کا نام سن کر غش کھا جاتے ہیں، لیکن تمھاری اس جسارت کا مطلب ہو گا کہ تُم نے اپنے لیے ایک اذیت ناک موت منتخب کرلی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمھاری آنکھوں کے سامنے تمھاری اس بلبل کا جو حشر میرے بندوں کے ہاتھوں ہو گا اسے دیکھ کر تمھارے ہاتھ صرف پچھتاوا رہ جائے گا جبکہ لڑائی کے رِنگ میں تُو عزت کی موت مرے گا یا شاید ہو سکتا ہے صرف شدید زخمی ہونے کے بعد بچ بھی جاﺅ اور تمھاری محبوبہ بھی باعزت اپنے گھر پہنچا دی جائے گی۔“
مجھے پتا تھا کہ شیش ناگ کے خلاف رِنگ میں اترنا میرا مقدر بن چکا تھا اور اس سے پہلو تہی ناممکن تھی لیکن میرے انکار میں بھی ایک مقصد پوشیدہ تھا اور میں اسی مقصد پر آتا ہوا بولا۔
”ٹھیک ہے سیٹھ صاحب !میں اس کے ساتھ رِنگ میں دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن اس کے لیے میری دو شرائط ہیں۔“
”کیا؟“ وہ دونوں نے بیک زبان پوچھا۔ وہ لڑکی جو میرے اندازے کے مطابق رابندر ناتھ کی لے پالک بیٹی تھی نے گہری دلچسپی سے میرے اوپر نظریں گاڑ رکھیں تھیں اس کی آنکھوں میں مجھے عجیب قسم جنسی بھوک نظر آرہی تھی۔ اس کے انداز کو شیتل نے بھی محسوس کر لیا تھا اور بے خیالی میں وہ میرے بالکل قریب ہو گئی تھی جیسے مجھے اس کی نظروں سے بچانا چاہتی ہو۔ وہ بلاشبہ ایک خوب صورت لڑکی تھی لیکن اس کے انداز میں بازاری پن تھا اور دوسری شیتل کی موجودی میں بھی اس کا حسن گہنایا ہوا لگ رہا تھا۔ میں اس کی نگاہوں کو نظر انداز کر کے بولا۔
”میری پہلی شرط یہ ہے کہ شیتل کو ابھی اپنے گھر جانے کی اجازت دی جائے۔“
”بالکل بھی نہیں۔“ میری دوسری شرط کے پیش کرنے سے پہلے شیتل میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے بولی۔ ”میں تمھارے ساتھ رہوں گی تُم نے وعدہ کیا تھا۔“
”مگر….“
”اگر مگر نہیں۔“ وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی اور میں نے غصے سے ہونٹ بھینچ لیے۔
”اچھا اب دوسری شرط بتلاﺅ۔“ سیٹھ راجندر ناتھ زیر لب مسکرایا۔”یہ تو سمجھو ہم نے قبول کرلی، تمھاری اپنی ساتھی نہیں جانا چاہتی۔“
”دوسری یہ کہ اگر میں شیش ناگ سے مقابلہ جیت گیا تو آپ مجھے بہ حفاطت پاکستان پہنچانے کے ذمہ دار ہوں گے۔“
”منظور۔“ شیش ناگ رابندر ناتھ کے بولنے سے پہلے بولا۔
”مجھے تمھاری نہیں سیٹھ صاحب کی منظوری درکار ہے۔ تم تو اس وقت اپنی کسی شرط کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہو گے۔ اگر میں جیت گیا تو۔“
”ہم یہ شرط منظور کرکے بعد میں مکر بھی تو سکتے ہیں۔“ سیٹھ رابندر ناتھ نے منطقی انداز میں پوچھا ۔
”آپ کا کہا میرے لیے کس دستاویز سے کم نہیں سیٹھ صاحب!“ میں نے اسے مکھن لگایا۔ ”آپ جیسی اعلاشخصیت کبھی بھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرسکتی۔“
”ہاں یہ تو ہے۔“ وہ متکبرانہ انداز میں بولا۔ ”ٹھیک ہے ہمیں تمھاری یہ شرط منظور ہے…. اور کچھ؟“
”کچھ نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔
”اسے تہہ خانے کی بجائے انیکسی میں شفٹ کر دو۔“ وہ شیش ناگ کو مخاطب ہوا۔ ”مجھے امید ہے کہ یہ بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا۔“
”ٹھیک ہے ڈیڈ۔“ شیش ناگ کا انداز کس فرمانبردار بیٹے کا ساتھا۔
”بے بی تُم نے میرے ساتھ پارٹی میں چلنا ہے یا آرام کرو گی۔“ وہ اس حسینہ سے مخاطب ہو ا۔ اس کی بات سے مجھے اندازہ ہو گیاکہ وہ اس کی لے پالک بیٹی ہی تھی۔
”نہیں ڈیڈ آج میرا بالکل موڈ نہیں ہے۔“ اس نے نزاکت سے کہا ۔اور رابندر ناتھ سر ہلاتا ہوا رخصت ہو گیا ۔
”چلو۔“ سیٹھ کے رخصت ہوتے ہی شیش ناگ مجھے مخاطب ہوا۔ اس کے چہرے میرے لیے نفرت کے آثار واضح نظر آرہے تھے۔میں اور شیتل خاموشی سے کھڑے ہو گئے۔ جبکہ بے بی اسی طرح صوفے پر بیٹھی رہی البتہ اس کی شوخ نظریں میرے چہرے اور باقی جسم پر سر گرداں رہیں۔
شیش ناگ اور ہتھیار برداروں کی نگرانی میں ہم انیکسی میں پہنچے، وہاں ایک پُر تعیش خواب گاہ میں ہمیں بند کر دیا گیا۔ یہ مہربانی سیٹھ نے نامعلوم کس لیے کی تھی۔ شاید اپنی تعریف کے صلے میں یا پھر قربانی کے بکرے کی طرح مرنے سے پہلے تھوڑا آرام پہنچانے کی غرض سے۔
”یہ کیا۔“ دروازہ باہر سے بند ہوتے ہی شیتل برس پڑی۔ ”میں نے سوچا شاید تم صلح صفائی کوشش کرو گے اور معذرت وغیرہ کر کے یہاں سے نکلنے کی کوشش کرو گے تم الٹا مقابلے کے لیے راہ ہموار کر آئے ہو۔“
”یہ تمھاری بھول ہے شیتل۔“ میں سنجیدہ ہو گیا ۔ ”میں گنڈہ پور ہوں اگر شیش ناگ آج دوپہر مجھے صرف چیلنج کر کے واپس آجاتا تو خدا کی قسم میں اس کے ساتھ مقابلے کے لیے اس کے منتخب کر دہ مقام پر ضرور پہنچتا۔ الا یہ کہ کوئی حادثہ میری راہ میں رکاوٹ بن جاتا کیونکہ ہم گنڈہ پور دوستی اور رشتہ داری تو بھول سکتے ہیں دشمنی نہیں بھلا سکتے۔“
”جان تمھیں کچھ ہو گیا تو میرا کیا بنے گا۔“ وہ پریشانی ہو گئی تھی ۔
”تم پاگل ہو…. میں زندہ رہوں یا مر جاﺅں ہر دو صورت میں نے تم سے جدا ہونا ہے۔“
”بھول ہے تمھاری۔“ وہ عجیب سے لہجے میں بولی۔ ”تم زندہ رہویا….نہ رہو ہر دو صورت میرے ساتھ رہو گے۔“
”مر کر کیسے؟“ میں مسکراتے ہوئے بولا۔
”ہندو عورت اپنے مرد کے ساتھ ستی ہو جایا کرتی ہے۔“
”میں تمھارا مرد کب سے ہو گیا؟“
”اس کے لیے مجھے تمھاری اجازت کی ضرورت نہیں۔“ وہ ترکی بہ ترکی بولی۔ ہم رات گئے تک گپ شپ کرتے رہے اور اس کے بعد لائیٹ بجھا کر سونے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔ ہلکے نیلے رنگ کی روشنی میں خواب گاہ کا ماحول بڑا رومان پرور ہو گیا تھا۔ میں شیتل سے مخالف سمت میں کروٹ بدل کرلیٹ گیا۔
l l l
صبح ناشتا لانے والوں کی زبانی مجھے سیٹھ کا پیغام ملا کہ مقابلہ رات کو دس بجے شروع ہونا ہے۔ رات کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے دن میں نے سونے میں گزارا، اس دوران شیتل بالکل مشرقی بیوی کے انداز میں میری ٹانگیں دابتی رہی۔ میرے کئی دفعہ منع کرنے کے باوجود جب وہ باز نہ آئی تو میں نے اسے اس کے حال پرچھوڑ دیا۔ ہندو ناری کتنی ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو اپنے پتی کو دیوتا کی طرح مانتی ہے بالکل مسلمان عورتوں کی طرح کہ جیسے ان کا خاوند ان کا مجازی خداہوتا ہے۔
سونے جاگنے کی کیفیت میں میرا ذہن مختلف خیالات کی آما جگا بنا رہا۔ لڑائی کا رِنگ میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھا، ٹریننگ سنٹر میں ٹریننگ کے بعد میں نے اور میرے دوست امجد نے باکسنگ میں کافی وقت گزارا تھا اور اس کے بعد کمانڈو سروس میں مختلف مقابلوں کے دوران میرا اس رِنگ سے واسطہ رہا تھا البتہ اتنا فرق بہ ہر حال اس لڑائی میں ضرور تھا کہ وہ ہار جیت کی جنگ ہوتی تھی اور یہ زندگی اور موت کا معرکہ تھا، لیکن خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میرے اندر گنڈہ پوری خون دوڑ رہا تھا اور گنڈہ پوروں کے لیے زندگی اور موت کی جنگ بھی روزمرہ کے کاموں کی طرح ایک عام کام ہے۔
میری ذہنی رَو بہتے بہتے مجھے سنٹر میں ہونے والی باکسنگ کے فائنل مقابلے کی طرف لے گئی ۔
”شاباش جانو!“ امجد کی جوشیلی آواز برسوں بعد بھی میرے ذہن سے محو نہیں ہوئی تھی۔” یہ آخری راﺅنڈ ہے۔ پہلے والے دونوں راﺅنڈز پوائنٹوں کے لحاظ سے تُو ہارا ہوا ہے۔ اس کے چہرے کو نشانہ بناﺅ، پیٹ میں مکہ وہ نہیں کھا رہا ہے۔ تُو کھبا ہے اور اس کو پتا ہے کہ کھبے با کسر کو پیٹ کا ہدف دینا اور ناک آﺅٹ ہونا ایک برابر ہے۔ اس کی چِن (ٹھوڑی) پررائیٹ کاﺅنٹر مارو…. آنکھیں کھلی رکھو، تمھارے پاس پورے تین منٹ ہیں اور یہ فائیٹ کو انجام تک پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔“
راﺅنڈ شروع ہونے کی گھنٹی بجتے ہی امجد میرا بوسہ لے کر رِنگ سے نکل گیا۔ مخالف میری طرح ہی قد آور تھا۔ مقابلہ آخری چند سیکنڈوںتک بھی پہلے راﺅنڈز کی طرح برقرار رہا لیکن آخری چند سکینڈز میں مخالف کھلاڑی نے میری ٹھوڑی خالی دیکھ اپنا دائروی مکہ مارنے کے لیے گھمایا اور اس دوران وہ اپنے پیٹ کے دفاع سے ایک سکینڈ کے لیے غافل ہو گیا تھا۔ میں نے تھوڑا سا جھک کر اس کا کاﺅنٹر پنچ ہیڈ گارڈ پر سہارا اور اپنا بایاں مکہ بجلی کی سی سرعت سے اس کی پسلیوں کے نیچے پوری قوت سے دے مارا ”ڈھب “ کی آواز کے ساتھ اس کے منہ سے ایک تیز کراہ خارج ہوئی اور وہ رِنگ کے سنٹر میں لیٹ گیا۔ وہ ناک آﺅٹ ہو گیا تھا کیونکہ دس تک گنتی ہونے کے بعد بھی وہ اپنے پاﺅں پر کھڑا نہ ہو سکا۔
”جیو جانو!“ مجھے اپنے یار کا پُرجوش نعرہ سنائی دیا۔آج میں شدت سے اس یار کی کمی محسوس کررہا تھا۔
”امجد ابھی تک اس پوسٹ پر موجود ہو گا۔“میرے ذہن میں ایک امکانی سوچ ابھری جب تک راستے نہ کھل جاتے اس کا چھٹی جانا مشکل تھا اور وہاں راستے کہیں فروری کے اخیر میں کھلتے تھے۔
امجد کی یادوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں نے گھر والوں کا سہارا لیا۔ سعدیہ اور عدنان مجھے بہت شدت سے یاد آرہے تھے۔
”جلدی واپس آنا۔“ میرے کانوں میں سعدیہ کی شیریں آواز گونجی ۔ ”اگر چھٹی نہ ملے تو نائیٹ پاس لے کر آجانا۔“
”ابو کدل دا (کدھر جا) رہا ہے امی۔“ عدنان کی توتلی آوازمیری سماعتوں میں آج بھی زندہ تھی۔
”کہیں نہیں بیٹا۔“ وہ اسے اٹھا کرچھاتی سے لگاتے ہوئے بولی۔ ”بس نماز پڑھنے جارہا ہے۔ تھوڑی دیر میں آجائے گا۔“مجھے محسوس ہوا کہ میری پلکیں بھیگنے لگی ہیں۔ میں جلدی سے اٹھ بیٹھا اور شیتل سے پوچھا۔ ”وقت کیا ہوا ہے شیتل؟“
”پانچ بجنے والے ہیں۔“ وہ اپنی آنکھوں میں گہری سرخی لیے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ یہ سرخی اس بات کامظہر تھی کہ وہ کل رات سے مسلسل جاگ رہی ہے ۔
”پریشان کیوں ہو؟۔“ میں نے پوچھا۔ ”اور اپنی آنکھوں کو دیکھو تھوڑی نیند ہی کرلیتیں۔“
”جان…. تم شیش ناگ سے صلح نہیں کر سکتے…. معذرت کرنے سے تمھاری شان میں کون سی کمی آجائے گی۔“ میری بات کا جواب دینے کی بجائے اس نے اپنی راگنی الاپی۔
”مس شیتل!…. اس سے بہتر ہے میں خود کشی کر لوں….تم عورتیں ہمیشہ بزدلی سکھاتی ہو اس لیے ہمارے گنڈہ پوروں میں لڑائی جھگڑے کے بارے عورتوں سے بالکل مشورہ نہیں لیا جاتا۔“ یہ کہہ کر میں اس کا جواب سنے بغیر باتھ روم کی سمت بڑھ گیا۔ اچھی طرح نیم گرم پانی سے نہا کر میں نے سارے دن کی کسلمندی کو دور کیا۔جب کمرے میں داخل ہوا تو شیتل مجھے گھٹنوں میں سرد یئے گہری سوچ میں غرق نظر آئی۔ میں اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے بالوں میں انگلیوں پھیرتا ہوا بولا۔
” پگلی! موت کا ایک دن معین ہے۔ تمھاری گہری سوچیں اسے ٹال نہیں سکتیں۔جو رات قبر میں آنی ہے وہ آ کر رہے گی۔ پھر یوں پریشان ہونے کا فائدہ؟“
”تو کیا کروں خوشی سے ناچناشروع کر دوں۔ رونا یاہنسنا انسان کے اپنے بس میں تو نہیں ہوتا نا؟“ میں نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا سر اٹھایا۔ اس کی جھیل جیسی گہری آنکھیں ایک لمحے کے لیے پانی سے لبریز نظر آئیں اور پھر چھلک پڑیںاوروہ مقناطیس کی طرح میرے ساتھ چمٹ گئی۔ اس کا سر ہلاتے ہوئے میں نے ہولے سے کہا۔
”چندا ! کیا اپنے جانو کو تم نے اتنا موم کا پتلا سمجھ رکھا ہے کہ شیش ناگ اس پر آسانی سے قابو پالے گا۔ تم بس میرے لیے دعا کرتی رہنا۔ باقی دیکھتی جاﺅ کہ کیا ہوتا ہے۔“
”جان! اگر تمھارے بجائے میں شیش ناگ سے بات کر لوں۔“ اس کی سوئی اس صلح پر اٹکی ہوئی تھی۔
”اگر دوبارہ اس طرح کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔“ میرا لہجہ ضرورت سے زیادہ سخت تھا۔
”وہ تو اب بھی کوئی نہیں ہے۔“
”آخر ہو کیا گیا ہے تمھیں۔“ میں چڑ کر بولا۔
”مجھ سے تمھاری جدائی برداشت نہیں ہو گی…. نہیں ہو گی۔“اس کے آنسو میری قمیص بھگونے لگے۔اس کو دلاسا دینے کی بجائے میں نے خاموش رہنا مناسب سمجھا نہ تو وہ میری کوئی بات سن رہی تھی اور نہ کچھ سمجھنے کے لیے تیار تھی۔ وہ میرے لیے اتنے مسائل پیدا کرے گی اگر میں اس بات سے واقف ہوتا تو بمبئی پہنچنے کے بعد چوری چھپے اس سے رخصت ہو گیا ہوتا۔
تھوڑی دیر آنسو بہانے کے بعد وہ خاموشی سے مجھ سے علاحدہ ہوئی اور باتھ روم کے جانب بڑھ گئی اور تھوڑی دیر بعد شاور لے کر واپس آگئی۔
”کھانے کا کہوں….“اس نے نارمل لہجے میں پوچھا۔
”ہاں اپنے لیے کہہ دو…. میں صرف چاے پینا پسند کروں گا۔“
”مجھے بھی بھوک نہیں ہے۔“ کہہ کر اس نے انٹر کام اٹھایا اور چاے کا بتانے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ہی چاے آگئی اس کے ساتھ ہلکے پھلکے کھانے کے لوازمات بھی تھے۔
”تم ساتھ چلنا پسند کروں گی؟“ چاے پی کر میں اس سے مستفسر ہوا۔اس نے کچھ بولے بغیر نفی میں سر ہلا دیا۔
”کیوں؟“
”میری مرضی۔“
”تمھیں چلنا پڑے گا….تمھاری موجودی سے مجھے تقویت ملے گی۔ تمھارے علاوہ یہاں کون ہے میرا ؟“
”کاش پوری دنیا میں میرے علاوہ تمھارا کوئی نہ ہوتا۔“ اس نے حسرت بھر سے لہجے میں بددعا دی۔
”کبھی اچھے الفاظ منہ سے نہیں نکالنے۔“ میں تپ کر بولا۔
”اچھائی برائی کی تمیز میرے پاس نہیں رہی۔“ وہ شرمندہ ہوئے بغیر بولی۔
”اچھا چھوڑو اس بات کو۔“ میں نے اس موضوع سے جان چھڑائی ۔ کیونکہ مجھے پتا تھا کہ وہ ماننے والی نہیں ”میری فائیٹ دیکھنے چلو گی یا نہیں؟“
”اگر تمھاری یہی اِچھا ہے تو ضرور چلوں گی۔“
”شیتل تمھیں اپنے پتا جی کی یاد نہیں آتی؟“ میں اس کا ذہن بٹانے کی غرض سے بولا۔ کیونکہ اس پر قنوطیت طاری تھی اور اس کی وجہ سے میرا موڈ بھی عجیب سا ہو رہا تھا۔
”کیوں نہیں آتی۔“ وہ ایک گہری سانس لے کر بولی۔ ”اس کے علاوہ میرا دنیا میں ہے کون؟“
”اور وہ سہیلی جس سے ملنے کے لیے جاتے وقت میں نے تمھیں اغوا کیا تھا۔“ میں آہستہ آہستہ اسے اپنے ڈھب پرلاتے ہوئے بولا۔
”ہاں…. رانی…. وہ تو میری بہت پیاری سہیلی ہے۔“ جلد ہی وہ اپنے قنوطی پن کو بھلا کر اپنی سہیلی رانی اور دوسری سہیلیوں کے واقعات بڑے جوش و خروش سے سنا رہی تھی۔ اس طرح کی گپ شپ میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا۔ اچانک دروازہ کھلا اور کلاشنکوفوں سے مسلح پانچ چھے افراد اندر داخل ہوئے۔
”چلیں مسٹر نو بجنے والے ہیں اور دس بجے مقابلہ شروع ہو گا۔“ ان کا سرغنہ سپاٹ لہجے میں مجھے مخاطب ہوا۔
”ہاں چلو۔“ میں اطمینان سے اٹھ گیا۔ شیتل کے منہ پرایک دم بے رونقی چھا گئی ۔ اس نے کھڑے ہو کر مضبوطی سے میرا ہاتھ تھام لیا جس کا مطلب تھا کہ وہ ہر مصیبت میں میرے ساتھ تھی۔ اس کے انداز سے مجھے بہت زیادہ تقویت پہنچی تھی ہم ان کی نگرانی میں چلتے ہوئے گیراج میں پہنچے وہاں ایک ویگن نما گاڑی کھڑی تھی وہ ہمیں لے کر اس گاڑی کے پچھلے حصے میں گھس کر بیٹھ گئے۔ دروازے کا آٹومیٹک تالا خود بخودبند ہو گیا تھا۔ ہمارے بیٹھتے ہی گاڑی حرکت میں آگئی۔ گاڑی کا پچھلا حصہ چاروں طرف سے مکمل بند تھا اور وہاں سے باہر کا نظارہ کرنا ناممکن تھا۔آدھے گھنٹے کا راستا بالکل خاموشی سے طے ہوا۔ شیتل میرے دائیں ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر آہستہ آہستہ سہلاتی رہی جیسے میری ڈھارس بندھا رہی ہوحالانکہ اس کااپنا رنگ زرد ہورہا تھا۔گاڑی جیسے ہی رکی باہر سے دروازہ کھولا گیا ہم باہر نکلے ۔ ایک بڑا سا گیراج نظر آیا جس میں چند قیمتی کاریں بھی کھڑی تھیں۔ باہر نکلتے ہی میری نظر سب سے پہگے جگو دادا پر پڑی اس کے ساتھ اس سے ملتی جلتی ایک دوسری شخصیت بھی موجود تھی وہ بھی لازماً کوئی دادا وغیرہ تھا۔جگو دادا مجھ سے شناسائی ظاہر کیے بغیر پُرتپاک انداز میں ملا۔ اس کے ساتھ کھڑے دوسرے فرد کے انداز میں بھی مجھے گرم جوشی نظر آئی۔
”آپ لوگ اب فارغ ہو۔“ جگو دادا میرا ہاتھ تھام کر گیراج کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا
مجھے لانے والے مسلح افراد سر ہلاتے ہوئے واپس مڑ گئے تھے ۔
دروازہ کھولتے ہی مجھے دروازے سے متصل سیڑھیاں نیچے اترتی ہوئی نظر آئیں۔ وہ اتنی چوڑی سیڑھیاں تھیں کہ میں اور جگو دادا آسانی سے شانہ بشانہ چلتے ہوئے نیچے اترنے لگے۔ ہمارے پیچھے شیتل اور جگو دادا کے ساتھ موجود دوسرا فرد خاموشی سے چلا آرہا تھا۔
سیڑھیاں ختم ہوتے ہی ایک چوڑی راہداری آگئی جس کے دونوں جانب کمرے بنے نظر آ رہے تھے۔ جگو دادا مجھے لے کر انھی میں سے ایک کمرے میں داخل ہو گیا۔ وہ ایک درمیانہ سا کمرہ تھا جو ڈریسنگ روم کے ساتھ ساتھ دفتر کے کام بھی آتا تھا۔
”بیٹھیں۔“ جگو دادا کمرے میں موجود صوفہ سیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔ہم دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے۔
”عمر جان صاحب۔“ جگو دادا نے تمہید باندھی۔ ”میرا نام جگن ناتھ ہے اور یہ میرا بزنس پارٹز سیٹھ پریم چند ہے۔ آپ کی دلچسپ شخصیت سے ہم کافی حد تک واقف ہیں کیونکہ اخبارات میں آپ کے متعلق کافی کچھ چھپ چکا ہے تو سب سے پہلے میں آپ کو اپنے دفتر میں خوش آمدید کہتے ہوئے کچھ ٹھنڈے یا گرم کا پوچھوں گا۔“
”نہیں شکریہ ….ہم کھاپی کر آرہے ہیں۔“
”اوکے۔“ اس نے اصرار نہیں کیا اور بولا۔ ”ابھی میں آپ کو اس لڑائی کے اصول و ضوابط اور دوسری تفصیلات مختصراً بتلاتا ہوں۔مجھے آپ اپنا بکنگ منیجر یا سیکرٹری سمجھیں کیونکہ اس سٹیڈیم میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے اندر شرکت کرنے والے ہر لڑا کے کا سیکریڑی یابکنگ منیجر ضرور ہوتا ہے۔ یہ مقابلے سراسر غیر قانونی ہوتے ہیں اور حکومت کی لاعلمی میں لڑے جاتے ہیں یہ اور بات ہے کہ فائیٹنگ ہال میں سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ لڑنے والے مختلف لڑاکوں کے ہارنے جیتنے پر بڑی تعداد میں شرائط لگتی ہیں۔ ان شرائط کے لیے ریس کورس کی طرح انتظامیہ کی طرف سے بھی ٹکٹ ملتے ہیں اور مختلف افراد آپس میں بھی یہ شرط بدتے رہتے ہیں۔ ہرفائیٹ کا صرف ایک ہی راﺅنڈ ہوتا ہے جس کے لیے وقت کی کوئی حد مقرر نہیں۔کسی بھی کھلاڑی کے بے ہوش ہونے۔ مر جانے یا لڑائی سے دستبر داری کے اعلان کے ساتھ فائیٹ اختتام پذیر ہوتی ہے۔ ہر کھلاڑی خالی ہاتھ لڑتے ہوئے اپنے تمام فنون بروئے کار لاسکتا ہے آپ اس کو مختصراً فری سٹائل کہہ سکتے ہیں۔ البتہ کسی بھی قسم کا ہتھیار لڑائی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ہر فائیٹ کے اختتام پر جیتنے والے کھلاڑی کو ایک مناسب رقم انعام میں ملتی ہے۔ ٹورنامنٹ جیتنے والے خوش نصیب کو ایک بہت بڑی رقم اور کنگ فائیٹر کا تاج پہنایا جاتا ہے۔“ٍوہ ایک لمحے کے لیے سانس لینے کے لیے رکا اور پھر اس کی بات جاری رہی ۔ ”آپ کے اور شیش ناگ کے درمیان ہونے والی فایئٹ کنگ فائیٹر کے انتخاب سے متعلق نہیں ہے کیونکہ شیش ناگ ایک دفعہ یہ ٹائیٹل جیت چکا ہے اور اصول کے مطابق وہ دوبارہ ان مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اسی طرح آپ کو بھی ان مقابلوں سے دلچسپی نہیں ہو گی۔ آپ دونوں کی لڑائی سے اس سال ہونے والے مقابلوں کا افتتاح کیا جارہا ہے اور ایسا صرف سیٹھ رابند رناتھ کے حکم سے نہیں ہوا بلکہ زیر زمین تمام حلقوں کی تائید اسے حاصل ہے۔ بہت سارے وہ لوگ جن کے لیے آپ ایک افسانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اس لڑائی کو دیکھنے کے لیے بڑے جوش و خروش کا مظاہرہ کرر ہے ہیں اور تو اور ”را“ کے چند بڑے افسروں نے بھی اس لڑائی کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور اب تماش بینوں کی طرح ہال میں موجود ہیں۔ یہ اطلاع بھی آپ کے لیے دلچسپی یا فخر کا باعث ہو گی کہ آپ دونوں پر لگنے والی شرائط کا تناسب ففٹی ففٹی ہے۔ گویا تمھاری منفی شہرت کے باوجود انڈیا میں تمھارے چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ تو تھیں وہ اہم اور ضروری باتیں جن کے بارے آپ کو واقفیت دلانا ضروری تھا۔ اب اگر آپ کے ذہن میں کسی قسم کا سوال ہو تو آپ پوچھ سکتے ہیں؟“
”نو تھینکس۔“ میں مختصراً بولا۔
”اگر کوئی سوال نہیں تو آپ لباس تبدیل کرلیں کیونکہ پونے دس ہو چکے ہیں اور دس بجے آپ کو ہال میں ہونا چاہئے۔“ جگو دادا نے دفتر کے اندر موجود ایک چھوٹے سے دروازے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ”وہ ڈریسنگ روم ہے آپ اپنی پسند کا لباس زیب تن کرسکتے ہیں البتہ پاﺅں میں کوئی چیز نہیں ڈالنی۔“اور میں سرہلاتا ہوا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں مختلف قسم کے لباس ہینگرزمیں دیواروں کے ساتھ لٹکائے گئے تھے۔ کسی بھی گیم کے لیے لباس کے انتخاب کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور اس طرح کی جسمانی لڑائی کے لیے ہمیشہ ایسے لباس کی ضرورت پڑتی ہے جس میں لڑنے والا اپنے ہاتھ پاﺅں کو آسانی کے ساتھ حرکت دے سکے۔ ہمارے انسٹریکٹر صوبیدار مراد صاحب لباس کے انتخاب پر بہت زور دیتے تھے۔
میں نے اپنے لیے ایک کالے رنگ کا ہلکا پھلکا چست پاجامہ اور اسی رنگ کی بغیر بازووں والی بنیان کا انتخاب کیا۔میں بہ مشکل ہی پاجامہ پہن سکا تھا کہ شیتل دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اس نے دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
”بندے کو ایسی جگہ پر جاتے ہوئے دستک لازماً دینی چاہئے۔“
”ہاں…. لیکن اس وقت جب اندر کوئی غیر ہو۔“ اس نے بے پرواہی سے جواب دیا۔
”اچھا اب تشریف آوری کا مقصد بھی بتا دو۔“ میں بنیان پہنتا ہوا بولا۔ مجھے پتا تھا کہ اس سے بحث کرنا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔
”جان !“ وہ میرا بازوتھامتے ہوئے پُرجوش لہجے میں بولی۔ ”وہ جگن ناتھ بتا رہا ہے کہ کوئی بھی فریق جب لڑائی سے دستبر داری کا اعلان کرے تو انتظامیہ مقابلے کو فوراً ختم کر دیتی ہے۔ تم بھی تھوڑی دیر لڑکر دستبر دار ہو جانا۔“
”ٹھیک ہے میں یونھی کروں گا۔“ میں اس سے فوراً متفق گیا۔ ”کیونکہ مجھے پتا تھا کہ اس کو سمجھانے کی کوشش بے سود تھی۔ ”اور اب چلو وقت کم ہے۔“ یہ کہہ کر میں اسے ساتھ لیے ڈریسنگ روم سے نکل آیا۔ہمارے کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔
”عمر جان صاحب چلیں۔“ جگو دادا میری باڈی کو تعریفی نظروں سے دیکھتا ہواپوچھنے لگا۔
”بالکل، میں تیارہوں۔“ میں نے بھرے انداز میں کہا ۔
”سیٹھ صاحب !آپ بے بی کو دوسرے راستے سے لے جا کر اس کی نشست پر بٹھا دیں میں عمر جان کے ساتھ جارہا ہوں۔“اس نے اپنے ساتھی کو کہا ۔
”میری بات یاد رکھنا جان!“ شیتل اس کے ساتھ جاتے ہوئے ملتجی لہجے میں بولی اور میں نے سرہلانے پر اکتفا کیا۔ اس پگلی کو اتنی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ مقابلے سے دستبر داری کا اعلان کرنے کامطلب تھا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دینا۔
ان کے باہر نکلتے ہی جگو دادا۔” ایک سکینڈ میں آیا۔“ کہہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا اور پھر وہاں سے ایک ریشمی گاﺅن جو کہ گہرے نیلے کلر میں تھالیے برآمد ہوا ۔وہ گاو¿ن مجھے اوڑھا کر وہ بولا۔
”اب چلو۔“میں دل ہی دل میں اپنے رب کو یاد کرتا ہوا اس کے پیچھے چل پڑا۔ کمرے سے نکل کر ہم راہداری میں پہنچے تھوڑا سا آگے جا کر راہداری بائیں جانب کو مڑ گئی۔ سامنے ہی لکڑی کا ایک مضبوط منقش دروازہ لگا ہوا نظر آیا۔جس کے باہر دوباوردی دربان کھڑے ہوئے تھے ہمیں دیکھتے ہی انھوں نے دروازہ کھول دیا۔ مجھے سیڑھیاں اوپر جاتی نظر آئیں سیڑھیوں کے اختتام پر ایک اور دروازہ تھا جس کو کھولتے ہی میری سماعتوں میں تیز شور کی آواز گونجی اور ایک بہت بڑا وسیع وعریض ہال جس کے درمیان میں ایک باکسنگ کے رِنگ کی طرح کا سٹیج بنا ہوا تھا۔ میری نظروں کے سامنے آگیا۔ ہال کے اندر بہت زیادہ تیز روشنی کا بندوبست کیا گیا تھا۔ میرے اندر داخل ہوتے ہی کسی منچلے کی آواز گونجی ۔”وہ آیا کمانڈو۔“اس کے ساتھ ہی پورا ہال سیٹیوں اور مختلف قسم کے نعروں سے گونج اٹھا۔ تمام لوگوں کی نگاہیں یوں بھی داخلی دروازے کی سمت گڑی ہوئی تھیں اس لیے میں اندر داخل ہوتے ہی انھیں نظر آگیا تھا میں لوگوں کے نعروں اور سیٹیوں کی پرواہ کیے بغیر اطمینان سے چلتا ہوا رِنگ تک پہنچا۔وہ عام بِاکسنگ رِنگ کے مقابلے میں وسعت لیے ہوئے تھا ۔
مجھے ہال کے دائیں کونے سے ”خونی…. خونی“ کی آوازیںکورس کی صورت میں سنائی دینے لگیں۔ اس کے برعکس بائیں طرف سے ”کمانڈو کی جے“ کے نعرے سنائی دے رہے تھے۔
میں نے تمام آوازوں کو نظر انداز کر کے ہال میں ایک طائرانہ نگاہ دوڑائی جلد ہی مجھے رِنگ سے نزدیک پڑی ہوئی خصوصی نشستوںپرشیتل بیٹھی نظر آگئی وہ زیر لب کچھ پڑھ رہی تھی اور وہ بے شک وشبہ میری سلامتی کی دعائیں تھیں۔ شیش ناگ پر مجھے اس لحاظ سے فوقیت حاصل ہو گئی تھی کہ ایک پُرخلوص ہستی کی دعائیں مجھے میسر تھیں اس کے برعکس شیش ناگ کے لیے صرف اس پر پیسے لگانے والے ہی جیتنے کی دعا مانگ سکتے تھے اورخوش قسمتی سے ہم دونوں کے اوپر شرط لگانے والوں کی تعداد تقریباً برابر تھی۔ یوں بھی شرط لگانے والوں کی دعائیں صرف اپنی رقم کی سلامتی کے لیے ہوتی ہیں۔
سیٹھ رابندر اور اس کی بیٹی بھی مجھے شیتل کے قریب بیٹھے نظر آئے۔ ہال کے اندر لگے ہوئے ایک جہازی سائز گھڑیال پر مجھے نو بج کر اٹھاون منٹ کا وقت چمکتا نظر آیا۔اسی وقت داخلی دروازے سے شیش ناگ سرخ رنگ کے پاجامے اور اسی رنگ کی بنیان میں نمودار ہوتا دیکھائی دیا۔
”شیش ناگ…. شیش ناگ….“ کے نعرے ایک کورس کی صورت میں بلند ہوئے اور وہ فخریہ انداز میں ہاتھ ہلاتے رِنگ کے اندر آموجود ہوا۔اس کے بدن میں مجھے برقی لہریں دوڑتی ہوئی محسوس ہو رہیں تھیں اور اس کی آنکھوں میں میرے لیے نفرت، تمسخر اور غیض و غضب کے شعلے نکل رہے تھے۔
میں نے اپنے تاثرات نارمل رکھے تھے، اس وقت میرا انسٹر کٹر صوبیدار مرادصاحب رِنگ میں میرے ساتھ آگیا تھا۔ اس کی مشفق آواز میری سماعتوں میںگونجی۔
”ماحول کااثرکبھی بھی قبول نہ کرنا۔ حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں اعتماد ایک ایسی طاقت ہے جس کی مدد سے تم حالات سے ٹکر لینے کے قابل ہو سکو گے۔ یاد رکھنا لڑائی کی ٹریننگ حاصل کرنا اور داﺅ پیچ سیکھنا نہایت آسان ہے…. یہاں تک کہ لڑکیاں بھی اس میں مہارت حاصل کرلیتی ہیں ، لیکن زندگی کے عملی میدان میں ان کو بروئے کار لانا…. کسی کسی کا کام ہوتا ہے۔ بہت سارے اچھے فائیٹر عام لڑاکوں سے مارکھا جاتے ہیں اور اس کی وجہ…. صرف اور صرف اتنی ہوتی ہے کہ وہ لڑائی شروع ہونے سے پہلے نفسیاتی طور پر ہارے ہوتے ہیں۔ میری بات کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اپنے مقابل کو کمزور سمجھو، بلکہ…. اسے اچھا سمجھتے ہوئے شکست سے دو چار کرو اپنا سمٹنا برقرار رکھو۔ فضول اچھل کود اور شومنٹ (دکھاوا) سے پرہیز کرو۔ اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھو اور فریق مخالف کو غصہ دلانے کی کوشش کرو۔ وہ غیض و غضب میں مبتلا ہو کر ہی وہ بنیادی غلطی یا غلطیاں کرے گا جو تمھیں جیتنے کے مواقع فراہم کریں گی۔“
دس بجتے ہی ہال کے اندر کمپیئر کی آواز گونجی اور سارے ہال میں یکلخت خاموشی چھا گئی۔
”ناظرین…. جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اس دفعہ کنگ فائیٹر کے چناﺅ کے مقابلوں کے لیے عام روٹین سے ہٹ کر ایک افتتاحی فائیٹ رکھی گئی ہے۔ جس میں حصہ لینے والے دونوںفریقین سے ایک کا تعلق ہمارے پڑوسی ملک پاکستان کی کمانڈو فورس سے ہے۔ موصوف پچھلے کئی دن سے بھارتی ایجنسیوں اور پولیس و غیرہ کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ کتنے ہی سرکاری اہلکار ان کے ہاتھوں زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارتی سرکار کی طرف سے اس کے بارے اطلاع دینے والے کو ایک لاکھ انعام دینے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس شیر کو رِنگ میں لانے کا سہرا ممبئی کے بے تاج بادشاہ جناب سیٹھ رابندر ناتھ کے سر ہے۔ میرے بائیں جانب کے کونے میں بلیو گاﺅن پہنے ہوئے آپ کی نگاہوں کے سامنے ہیں جناب عمر جان کمانڈو وو۔“ نعروں اور سیٹیوں کے شور میں کمپیئر کی آوازایک مرتبہ پھر گونجی ۔ ”اورمیرے دائیں کارنر میں آپ جانی پہچانی شخصیت جو تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کا ہر دلعزیز فائیٹر شیش ناگ….“ ایک مرتبہ پھر سیٹیوں، نعروں اور تالیوں کا طوفان برپا ہو گیا۔
کمپیئر کی بات ختم ہوتے ہی سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس ایک ریفری رِنگ کے اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی اس نے فائل میری طرف بڑھائی۔ مجھے اس میں دو فارم پڑے نظر آئے جن کو اعتراف نامہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ ان میں انگریزی زبان میں لکھا ہوا تھا کہ لڑائی کے اندر ہونے والے ہر قسم کے نقصان کا ذمہ دار خودفائیٹر تھا۔ اس طرح یہ لڑائی غیر قانونی ہوتے ہوئے بھی کچھ قانونی سی بن گئی تھی۔ میں نے نام کے لیے چھوڑی گئی خالی جگہ میں اپنا نام لکھا اور دستخط کر کے وہ فائل ریفری کو پکڑا دی۔ شیش ناگ سے بھی سائن لے کر ریفری نے وہ فائل رِنگ سے باہر ایک متعلقہ شخص کو تھمائی اور لباس چیک کرنے کے لیے میری جانب بڑھا۔ میں نے گاﺅن اتار کر رِنگ کے نیچے کھڑے جگو دادا کے جانب پھینکا۔ ریفری نے میری سرسری تلاشی کہ کہیں میں نے کوئی ہتھیار نہ چھپایا ہو بعد میں یہی کارروائی کی اس نے شیش ناگ کے ساتھ بھی کی اور جج کو او کے کا سگنل دے کر اس نے ہم دونوں کو رِنگ کے سنٹر میں بلایا اور ایک دو رسمی باتیں کرنے کے بعد وہ پیچھے ہٹا، ویسے بھی ایسے مقابلوں میں ریفری کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے اس کے پیچھے ہٹتے ہی جج نے برقی گھنٹی کا بٹن دبایا اور ”ٹن“ کی آواز کے ساتھ ہی وہ جاں گسل اور اعصاب شکن انتظار اختتام کو پہنچا۔ میں اور شیش ناگ دو ازلی دشمنوں کی طرح آمنے سامنے کھڑے تھے۔ شیش ناگ کے ہونٹوںپر حقارت سے پُرتمسخرانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

(جاری ہے )