بھگت سنگھ کے 87ویں یوم شہادت کے موقع پر خصوصی تحری…


بھگت سنگھ کے 87ویں یوم شہادت کے موقع پر خصوصی تحریر ۔

"بہرے کو بات سنانے کیلئے اونچی آواز کی ضرورت ہے ” ( بھگت سنگھ )
بھگت سنگھ لائلپور ( فیصل آباد ) میں پیدا ہوئے ، تعلیم نیشنل کالج لاہور میں حاصل کی ،عملی سیاست کا آغاز کانپور سے کیا ، اپنے استاد ودیارتھی جی پرتاب جو ایک پریس چلاتے تھے ،انہی کے گھر بھگت سنگھ کی ملاقات بی کے دت ، چندر شیکھر آزاد ، گنیش چندر چڑجی، وجے چوہان سہنا سے ہوئی اور بعدازاں ہندوستان ری پبلکن ایسوسی ایشن میں شامل ہو گئے جو بالغ رائے دہی اور طبقاتی نظام کے خلاف جہدوجہد کر رہی تھی ، دہلی میں وہ بلونت سنگھ کے فرضی نام سے ” ویر ارجن ” اخبار میں کام کرتے رہے ۔
19 اگست 1925 کو ایسوسی ایشن کے ممبران نے ہردوئی سے لکھنؤ جانے والی ٹرین کو کاکوروی ریلوے اسٹیشن سے ایک میل پہلے روک کر سرکاری خزانہ لوٹ کیا ،جس کی مالیت چھ ہزار اناسی روپے اور چھ پائی تھی ، انگریز پولیس نے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا اور ان پر مقدمہ قائم کیا جو کاکوروی سازش کیس کے نام سے مشہور ہوا ۔
انہی دنوں پنجاب میں کمیونسٹ تحریک اپنا اثرورسوخ بڑھا رہی تھی ، ان تحریکی ساتھیوں میں میر عبدالمجید دادا ، فیروز الدین منصور ، امیر حیدر خان ، فضل الہٰی ، رام کشن بی اے ، سوہن سنگھ جوش ، کیدارتھ، سہگل اور دیگر انقلابی شامل تھے ۔
1926 لاہور میں "نوجوان بھارت سبھا ” کا قیام عمل میں آیا ،اس کے صدر رام کشن بی اے اور سیکرٹری بھگت سنگھ چنے گئے اور ان کے مقاصد میں مزدوروں اور کسانوں میں مکمل جہموریت کا قیام ، تمام معاشی اور سماجی تحریکوں کے ساتھ تعاون اور مزدوروں اور کسانوں کی تنظیم سازی شامل تھی ۔
سائمن کمیشن 30 اکتوبر 1927 کو سر جے۔اے۔سائمن کی سربراہی میں اپنے دیگر سات انگریز برطانوی اسمبلی کے اراکین کے ہمراہ ہندوستان پنہچے، اس موقع پر ہندوستان ایسوسی ایشن اور انڈین نیشنل کانگریس نے کمیشن کا بائیکاٹ کیا ۔ لاہور میں لالہ لاجپت رائے ، بھگت سنگھ اور دوسرے رہنماؤں نے جلوس نکالا اور نعرے لگا رہے تھے ۔ سائمن کمیشن واپس جاو ۔ ہندوستانی ہیں ہم ہندوستان ہمارا ہے ۔ ہندوستان مانگے آزادی ۔ جلوس بلکل پر امن تھا پولیس نے لالہ لاجپت رائے اور دوسرے راہنماؤں پر بغیر اشتعال کے لاٹھیاں برسانی شروع کر دی جس کے نتیجہ میں لالہ لاجپت شدید زخمی ہوئے اور زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے 17 نومبر کو فوت ہو گئے ۔اس واقعہ سے تمام ہندوستان کہرام مچ گیا اور 29 نومبر کو سارے ہندوستان میں یوم لاجپت رائے منایا گیا ۔اس غم و غصہ کے نتیجہ میں کچھ تحریکی نوجوانوں نے انگریز پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سانڈرس جواسکاٹ کو قتل کر دیا اور پھر ملک میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ کچھ عرصہ بعد انگریزوں نے دہلی اسمبلی میں سیفٹی بل اور صنعتی تنازعات کا بل پیش کیا جانے والا تھا اور یہ دونوں بل مزدور دشمن تھے اور انقلابیوں نے یہ طے کیا ک ہم دہلی اسمبلی میں احتجاج کریں گے اور عالمی برادری کو یہ بتائیں گئے ک ایسے ظالمانہ اور مزدور دشمن قوانین کو ہم اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیں گے ۔19 اپریل 1929 کو بھگت سنگھ اور بی کے دت دہلی کی اسمبلی ہال میں پنہچ گئے جہاں اراکین اسمبلی بلوں کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے اور بلوں کی مخالفت کے باوجود اسپیکر نے ان بلوں کو قانون بنانے کا فیصلہ کیا ۔اس دوران دونوں انقلابیوں نے سرکاری بینچوں کی طرف دو بم اس احتیاط سے پھینکے ک وٹھل بھائی پٹیل اور موتی لال نہرو زخمی نہ ہوں اور اپنے آپ کو گرفتاری کیلئے پیش کر دیا ۔ دھماکے سے صرف چار افراد زخمی ہوئے جو بم سے نہیں بلکہ فرش اور اینٹوں کے ٹکڑوں سے معمول زخمی تھے ۔ ہندوستانی ٹائم نے انقلابیوں کا بیاں شائع کیا ک ” بہرے کو بات سنانے کیلئے اونچی آواز کی ضرورت ہے ”
بھگت سنگھ دوران قید مختلف جیلوں میں رہے جس میں میانوالی جیل ، سنٹرل جیل لاہور کابل ذکر ہیں ۔ دوران قید قیدیوں کے خلاف نارواسلوک کے خلاف جدوجہد کرتے رہے اور متعدد بھوک ہڑتالیں کی ، اس دوران جیل میں لاہور سازش کیس کے ملزمان کو بھی لایا گیا اور ان پر مقدمے کی کارروائی شروع کی ۔ 7 اکتوبر 1929 کو اسپیشل ٹریبونل نہیں بھگت سنگھ ، راج گورو اور سکھدیو کو سزائے موت سنائی ۔ کچھ کو عمر قید اور کچھ کو سات سال اور پانچ سال سنائی ۔
23 مارچ 1931 شام سات بجے جلاد نے بھگت سنگھ ، راج گورو اور سکھدیو کو پھانسی پھر چڑھا دیا اور ان کی لاشیں راتوں رات فیروز پور کے قریب ستلج کے کنارے جلا دی گیئں اور راکھ کو دریا میں بہا دیا گیا ۔




بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2145372765693245