بلبل نغمہ زن کے لیے
تڑپ درد کی دل میں ہے
خواب گیں بے حسی سے ہے دکھتا بدن
کہ جیسے پیا ہو کوئی زہر میں نے
یا خالی کیا ہو کسی جام افیون کو درد تہہ تک
لگا ایک پل اور میں ڈوبتا ہی گیا ایک دریائے مدہوش کن میں
تری خوش نصیبی کا شکوہ نہیں یہ
میں تیرے طرب کا ہم آواز ہوں
درختوں کی دیوی
سبکسار پرواز والی پری
سفیدے کے سرسبز بن کے کسی خطہء خوشنوا میں
گھنے انگنت سایوں کے درمیاں
صدائے بلند اور آسان میں
بہاروں کا نغمہ سناتی ہے تو
وہ اک جرعہء مے
جو مدت زمیں کے نہاں خانوں میں سرد رکھا گیا
عجب لذتوں سے بھرا
کہ یادوں میں لائے وہ
پھولوں کی دیوی، حسیں مرغزار
رقص جنوں، نغمہء انبساط
اور خورشید کی ضو میں لپٹی خوشی
وہ اک ساغر مے
وہ ملک جنوبی کی گرمی سے بھرپور
سچے، شفق رنگ سرچشمہء شاعری سے چھلکتا
کناروں پہ جس کے ہیں پلکیں جھپکتے
حباب ہائے گوہر نما
لبوں کو کرے ارغواں
میں اس کو پی لوں
گزر جاؤں دنیا کو دیکھے بنا
ترے ساتھ اس کہر آلود جنگل میں معدوم ہو جاؤں میں
میں معدوم ہو جاؤں، گھل جاؤں، یکسر فراموش کر دوں
وہ سب کچھ جو پتوں کی آغوش میں تو نے جانا نہیں
تھکن ہے، تردد ہے، ہیجان ہے اس زمیں پر
جہاں لوگ بیٹھے ہیں، سنتے ہیں اک دوسرے کی کراہیں
جہاں آخری چند افسردہ چاندی سے بالوں کو
رعشہ کی لہریں ہلا دیتی ہیں
جہاں نوجواں لاغر و زرد ہوتے ہوئے جان دے دیتے ہیں
جہاں سوچنا بھی دلوں کو اداسی سے بھر دیتا ہے
اور مایوسیوں سے
جو آنکھوں کو بوجھل بنا جاتی ہیں
جہاں حسن آنکھوں میں تابانیاں دیر تک روک سکتا نہیں
نیا عشق اپنی نگاہ جنوں کے لیے ایک دن سے پرے
یہ تابانیاں تھام سکتا نہیں۔
دور چل دور چل
میں بھی ہوں محو پرواز تیری طرف
ساغر و جام کے دیوتا کے حسیں رتھ پہ
اور اس کے رتھ بان چیتوں کے ساتھ
نہیں آؤں گا میں
میں آؤں گا شعر و سخن کے نگاہوں سے اوجھل پروں پر سوار
اگرچہ ہے یہ ذہن مجہول الجھا ہوا اور تساہل کا مارا
ترے پاس ہوں میں
شب مہرباں ہے
یہ خوش قسمتی ہے
کہ ہے ملکہء ماہ تخت فلک پر یوں جلوہ نما
کہ چاروں طرف ہیں ستاروں کی پریاں کھڑی منتظر
مگر اس زمیں پر نہیں روشنی
سوا اس کے جو آسماں سے ہوا ئے خنک لے کے آئی
گزرتی ہوئی ظلمت سبز و شاداب سے
موڑ کھائے ہوئے سبز کائی زدہ راستوں سے گزرتی ہوئی
نہیں دیکھ سکتا میں گلہائے رنگین قدموں تلے
نہیں جان سکتا وہ دلکش مہک جو ہے ڈالیوں میں سمائی ہوئی فقط اس معطر اندھیرے میں محو خیال جمال
جو ماہ بہاراں نے تحفے میں بخشا
گیاہ اور درختوں کے جھنڈ اور ثمردار باغات کو
وہ اجلا گل نسترن
گڈریوں کے قصوں کا موضوع مخصوص گل سیوتی
وہ پتوں کے جھرمٹ میں تیزی سے مرجھانے والا گل داؤدی
وہ اک عنبر تیز کے ساتھ کھلتا گلاب
جو ہے اولیں طفل وسط مئی کا
مئے شبنمی سے بھرا
گرم شاموں میں بھونروں کا اک سرسراتا بسیرا
میں سنتا ہوں بڑھتے اندھیرے کی آہٹ
میں مرگ سکوں بخش سے نیم الفت کے عالم میں ہوں
اسے اپنی نظموں میں اکثر حسیں نام دیکر بلاتا رہا ہوں
کہ وہ میری سانسوں کو اڑتی ہوائوں کے ہمراہ لے جائے گی
گزر جانے کا خوبصورت تریں پل ہے یہ
بنا درد کے نیم شب پر ٹہر جانے کا خوبصورت تریں پل ہے یہ
کہ جب شدت کیف میں تو انڈیلے چلی جا رہی ہے
فضا میں کہیں اپنی روح طرب آشنا
تو گاتی رہے گی
مگر میں سماعت سے محروم ہو جاؤں گا
تیرے نغمہء ماتمی کے لیے
میں اک تختہء گیاہ ہو جاؤں گا۔
خدائے ازل نے ترے واسطے موت رکھی نہیں، اے پرند ابد
کوئی بھوکی نسلیں تجھے اپنے قدموں تلے روند پائی نہیں
جو آواز میں اس گزرتی ہوئی رات میں سن رہا ہوں
وہ عہد گزشتہ میں سنتے رہے بادشاہ و گدا
یہی غالباً ہے وہ نغمہ کہ جس نے
کسی اجنبی کھیت میں غمزدہ
وطن کی محبت میں روتی ہوئی
روتھ کے قلب غمگیں میں رستہ بنایا
یہی گیت ہے جس کے افسوں نے اکثر
پری زادوں کی سر زمینوں میں بہتے
خطر سے بھرے ساگروں کی سطح پر طلسمی دریچوں کو وا کر دیا
طلسمی دریچے پرستان ویران میں
یہ اک لفظ ویراں
یہی لفظ ہے جو گجر کی طرح
مجھے کھینچ لانے کو ہے اب ترے پاس سے
میری ذات کی گہری تنہائی میں
الوداع الوداع
فریب تخیل نہیں کارگر
زمانے میں جیسا کہ مشہور ہے
محض اک دغا باز ہے یہ گماں کی پری
الوداع الوداع
یہ فسردہ ترانہ ترا ماند پڑنے لگا
گزرتا ہوا سبزہ زار قریں سے
برستا ہوا منجمد آبجو پر
پہاڑوں کے اوپر
اور اب اگلی وادی کی گہرائیوں میں
یہ مدفون ہے
یہ کیا تھا
فریب نظر
خواب بیدار اک
وہ موسیقی رخصت ہوئی
نجانے میں بیدار ہوں
یا ہوں سویا ہوا۔
John Keats
Ode to a Nightingale
Translated by Tanveer Anjum
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2855303351366846

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔