بس، اب اور نہیں!‘‘ میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔ اب فیص…


💥 بس، اب اور نہیں!‘‘ میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔ اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے۔ میں یا تمہاری بیٹی۔‘‘ 🥹💔

اس رات میری پانچ سالہ بیٹی نے مجھ سے وہ چیز مانگی، جسے دینے کے لیے میں اپنی پوری زندگی بھی کم سمجھتی ہوں؛ اس نے مجھ سے اپنے بچپن کا حق مانگنا چھوڑ دیا۔

ماہ نور میری پہلی شادی سے تھی۔ اس کے باپ نے ہماری علیحدگی کے بعد کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔ میں نے ہی اسے پہلی بار چلنا سکھایا تھا، اس کے بخار میں راتیں جاگ کر گزاری تھیں، اور ہر اس سوال کا جواب دیا تھا جس کا جواب میرے پاس خود بھی نہیں تھا۔

پھر میری دوسری شادی ہو گئی۔

سعد نے شادی سے پہلے ماہ نور کو قبول کیا تھا۔ کم از کم اس کے الفاظ یہی تھے۔

’’تم دونوں میری ذمہ داری ہو،‘‘ اس نے ایک دن میرا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا۔

میں نے اس جملے کو وعدہ سمجھ لیا۔ شاید مجھے بھی کسی سہارے کی ضرورت تھی، شاید میں چاہتی تھی کہ ماہ نور کو بھی ایک مکمل گھر مل جائے۔

جون میں ہم سعد کے گھر منتقل ہوئے۔ ماہ نور کا اسکول بدلا، کمرہ بدلا، سونے کا بستر بدلا۔ شروع کے چند دن وہ بہت خوش رہی۔ اپنے نئے کمرے کی دیوار پر تتلیاں چپکائیں، گڑیا کو نیا بستر دیا اور اپنی پسند کی گلابی چادر بچھا دی۔

لیکن گھر بدلنے سے بچوں کے ڈر ہمیشہ نہیں بدلتے۔

کچھ ہی دن بعد وہ رات کو چیخ کر اٹھنے لگی۔ کبھی خواب میں کسی کو پکارتے ہوئے، کبھی آنکھیں کھولے بغیر روتے ہوئے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ نئی تبدیلیوں کے باعث ایسا ہو سکتا ہے، وقت کے ساتھ بہتر ہو جائے گا۔

مگر وقت گزرنے کے بجائے ہماری راتیں چھوٹی ہونے لگیں۔

ہر رات تقریباً دو بجے میرے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلتا۔ ماہ نور اپنے سفید خرگوش کو سینے سے لگائے کھڑی ہوتی۔

’’ماما، میں یہاں سو جاؤں؟‘‘

میں اسے واپس اس کے بستر پر لٹانے کی کوشش کرتی، لیکن بعض راتوں میں اپنی تھکن سے ہار کر اسے اپنے ساتھ سلا لیتی۔

سعد کی نیند خراب ہوتی تو وہ کروٹ بدلتا، گھڑی دیکھتا اور صبح ناشتے پر خاموش رہتا۔

میں جانتی تھی کہ وہ تھک رہا ہے۔ اس کی صبح پانچ بجے شروع ہوتی تھی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ماہ نور کو آہستہ آہستہ اپنے کمرے میں سونے کی عادت ڈالیں گے۔ میں اس کے پاس بیٹھتی، کہانیاں سناتی، اس کی نائٹ لائٹ جلاتی۔

کچھ راتیں بہتر گزرتیں۔ کچھ راتیں پھر ویسی ہی ہوتیں۔

مجھے لگتا تھا ہم اس مسئلے کو مل کر حل کر رہے ہیں۔

میں غلط تھی۔

ایک رات دروازہ کھلا تو سعد اچانک بستر پر اٹھ بیٹھا۔

’’بس، اب اور نہیں!‘‘ اس نے غصے سے کہا۔ ’’میں کئی مہینوں سے ٹھیک طرح سو نہیں پا رہا۔ یا تو تم اسے اس کمرے میں آنے سے روکو، یا میں یہ گھر چھوڑ دوں گا۔ اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے۔ میں یا تمہاری بیٹی۔‘‘

میرے لب کھلے ہی تھے کہ میری نظر دروازے کی طرف اٹھ گئی۔

ماہ نور وہاں کھڑی تھی۔

اس کے پاؤں میں چھوٹی سی چپل تھی، ایک ہاتھ میں خرگوش اور دوسرے ہاتھ کی انگلیاں دروازے کے کنارے پر جمی ہوئی تھیں۔

اس نے سب سن لیا تھا۔

میں بستر سے اترنے لگی تو وہ خود ہی بول پڑی۔

’’ماما، آپ سو جائیں۔ میں اب آپ کے پاس نہیں آؤں گی۔‘‘

اس نے اپنے خرگوش کو مزید زور سے پکڑا۔

’’مجھے نائٹ لائٹ بھی نہیں چاہیے۔ میں بڑی ہو گئی ہوں نا؟‘‘

پھر وہ پلٹی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ شاید وہ ابھی روئی نہیں تھی، شاید اسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

لیکن میں سمجھ گئی تھی۔

اس عمر میں بچے اپنے ڈر کی وجہ نہیں سمجھتے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی وجہ سے کوئی ناراض ہے تو شاید غلطی انہی کی ہے۔

ماہ نور نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک بڑے آدمی کو اپنے غصے پر قابو رکھنا چاہیے۔ اس نے صرف یہ سوچا تھا کہ اسے اپنی ضرورت کم کر دینی چاہیے۔

میں سعد کی طرف دیکھتی رہی۔ وہ خاموش تھا۔

’’تم کچھ کہو گی؟‘‘ اس نے پوچھا۔

میں نے اپنا تکیہ اٹھایا۔

’’ہاں، کہوں گی۔ لیکن ابھی نہیں۔‘‘

میں ماہ نور کے کمرے میں گئی۔ وہ بستر پر لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی۔ نائٹ لائٹ بند تھی۔

میں نے اسے جلایا اور اس کے پاس لیٹ گئی۔

’’ماما، آپ یہاں کیوں آئی ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔

میں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

’’کیونکہ تمہیں اکیلے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر اس نے اپنا ننھا سا ہاتھ میری گردن کے گرد رکھ دیا۔

’’ماما، سعد انکل مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘

میرے پاس اس سوال کا کوئی ایسا جواب نہیں تھا جو اس کے دل کو چوٹ لگائے بغیر سچ بھی رہتا۔

میں نے صرف اتنا کہا، ’’بچوں کے ڈر، بڑوں کی ناراضگی کا سبب نہیں ہوتے، بیٹا‘‘

اس رات میں اس کے بستر کے پاس فرش پر سوئی۔

صبح اٹھی تو سعد کی الماری کا ایک حصہ خالی تھا۔ اس کے کپڑے، جوتے اور بیگ غائب تھے۔ میز پر ایک مختصر سا نوٹ رکھا تھا کہ وہ کچھ دن اپنے بھائی کے گھر رہے گا اور ہم دونوں کو وقت چاہیے۔

میں نے نوٹ تہہ کر کے رکھ دیا۔

میں نہیں جانتی تھی کہ ہماری شادی کا کیا ہوگا۔ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ سعد واپس آئے گا یا نہیں۔ اتنا ضرور جانتی تھی کہ اگر وہ واپس آیا تو ہمیں صرف نیند کا مسئلہ حل نہیں کرنا ہوگا؛ ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ اس گھر میں ایک پانچ سالہ بچی خود کو محفوظ محسوس کر سکتی ہے یا نہیں۔

ماہ نور کمرے سے نکلی تو اس کی پہلی نظر میری طرف اٹھی۔

’’ماما، میں آج رات بھی اکیلے سوؤں تو آپ ناراض تو نہیں ہوں گی؟‘‘

میں اس کے سامنے بیٹھ گئی۔

’’تم جب اکیلے سونا چاہو، سو جانا۔ اور جب ڈر لگے تو مجھے بلا لینا۔ تمہیں خود کو بہادر ثابت کرنے کے لیے مجھ سے دور رہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

اس نے سر ہلایا اور اپنے خرگوش کو اٹھا کر اسکول کے لیے تیار ہونے لگی۔

میں نے اس کے کمرے کی نائٹ لائٹ دوبارہ لگا دی۔

اس رات وہ اپنے بستر پر سوئی۔ آدھی رات کو ایک بار آنکھ کھلی تو اس نے دروازے سے مجھے آواز دی۔ میں اس کے پاس گئی، پانی پلایا، کمبل درست کیا اور واپس آنے سے پہلے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ ماہ نور کب اپنے ڈر سے پوری طرح نکلے گی، اور نہ یہ کہ میری شادی کس انجام تک پہنچے گی۔

مگر اب میں ایک بات جانتی تھی۔

بچے بڑے ہونے کی کوشش میں اپنا بچپن چھوڑنے لگیں تو انہیں سمجھانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ مضبوط ہیں؛ انہیں یقین دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں مضبوط بننے کے لیے تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

مجھے کیا کرنا چاہیے؟

افسانہ: نائٹ لائٹ